قومی سلامتی کمیٹی نے جمعے کو ایک اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں ’قوم اور حکومت کے اشتراک سے دہشت گردی کے خلاف ہمہ جہت جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان کے مطابق اجلاس نے ’دہشت گردی کی حالیہ لہر کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مبینہ نرم گوشے اور عدم سوچ بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا، جو عوامی توقعات اور خواہشات کے بالکل منافی ہے۔‘
بیان کے مطابق: ’واپس آنے والے خطرناک دہشت گردوں اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے مدد ملنے کے نتیجے میں ملک میں امن و استحکام منتشر ہوا، جو بے شمار قربانیوں اور مسلسل کاوشوں کا ثمر تھا۔‘
بیان کے مطابق: ’اجلاس میں مقتدر انٹیلیجنس ایجنسی کے کامیاب آپریشن کو بہت سراہا گیا جس میں انہوں نے انتہائی مطلوب دہشت گرد گلزار امام عرف شمبے کو گرفتارکیا، جو دہشت گرد بلوچ نیشنل آرمی اور ’براس‘ کے بانی و راہنما اور ایک عرصے سے مختلف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔‘
کمیٹی نے بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی، معاشرے میں تقسیم اور در پردہ اہداف کی آڑ میں ریاستی اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف بیرونی سپانسرڈ زہریلا پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر پھیلانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس سے قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سات اپریل، 2023 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا(تصویر ایوان وزیراعظم)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/kDRm5dK