پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کے باعث فلیش فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ سے بیشتر مقامات پر سڑکیں بلاک ہیں جبکہ پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
این ڈی ایم اے نے پیر کی شب اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ’بابو سر ٹاپ جل سے دیونگ میں کلاؤڈ برسٹ کے وجہ شدید لینڈ سلائیڈنگ و فلیش فلڈنگ سے 14 سے 15 مقامات پر روڈ بلاک ہے۔‘
بیان کے مطابق مقامی انتظامیہ نے سیلابی ریلے میں پھنسے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے تاہم شاہراہ قراقرم لال پہاڑی اور تتہ پانی کے مقامات پر ابھی بھی سڑک بند ہے۔‘
این ڈی ایم اے نے مزید کہا ہے کہ ’سڑک کی بحالی اور ملبے میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ تاہم، بھاری ملبے کے باعث کچھ علاقے ناقابل رسائی ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہراہ بابو سر ٹاپ کے مقام پر لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے جس میں پاکستان فوج کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے چلاس تھک نالے میں سیلابی ریلوں کی زد میں آکر ’خاتون سمیت تین افراد‘ کی موت ہو گئی ہے جبکہ درجنوں زخمی اور لاپتہ ہیں۔
پی ٹی وی کے مطابق علاقے میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور مقامی افراد ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکال کر ریسکیو 1122کے ذریعے چلاس روانہ کر رہے ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے ہفتے کو خبردار کیا تھا کہ 19 سے 25 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والی نمی اور ارد گرد کے علاقوں میں کم دباؤ کے نظام کے اثر و رسوخ کی وجہ سے آنے والے دنوں میں ملک کے بیشتر حصوں میں ہلکی سے شدید بارش ہونے کی توقع ہے جس سے دریائے کابل، سوات، پنجکوڑہ، کالپنی نالہ اور بارہ نالہ میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
<p class="rteright">22 جولائی 2025 کو گلگت میں ریسکیو آپریشن کے مناظر (فیض اللہ فراق/ ایکس)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/8tMiObj