کراچی: ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں ’لائف لوکیٹر‘ اور جدید آلات کا استعمال

News Inside

کراچی کے علاقے لیاری میں گذشتہ ہفتے ایک پرانی رہائشی عمارت کے زمین بوس ہوجانے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا گیا جن میں ’لائف لوکیٹر‘ اور ’سرچ کیم‘ نمایاں تھے۔

ریسکیو 1122 کا آپریشن تقریبا 53 گھنٹے کے بعد مکمل ہوا اور اب اس مقام کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

حادثے کےبعد ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملبہ ہٹانے اور زندہ افراد کو تلاش کرنے کا کام شروع کیا تھا۔

ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی ٹیم شہری آفات سے نمٹنے کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ لیاری سانحے کے دوران انہوں نے ’لائف لوکیٹر‘ کے ذریعے نو متاثرین کو زندہ حالت میں تلاش کیا، جس کے بعد ان افراد کو احتیاط سے نکال کر فوری طبی امداد دی گئی۔

عابد شیخ کے مطابق: ’لائف لوکیٹر ایک نہایت حساس آلہ ہے جو انسانی جسم کی حرکت، دل کی دھڑکن اور سانس لینے جیسے معمولی سگنلز کو بھی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جائےحادثہ پر زیادہ ہجوم اور شور و غل اس آلے کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

’جب رش بڑھ جاتا ہے تو آلہ اردگرد کی آوازوں کو بھی حساس انداز میں پکڑ لیتا ہے، جو متاثرہ فرد کی موجودگی کی درست معلومات حاصل کرنے میںرکاوٹ بنتا ہے۔‘

لائف لوکیٹر کو آپریٹ کرنے والے ریسکیو اہلکار سعد بھٹو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں لائف لوکیٹر کے استعمال پر گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ ’لائف لوکیٹر آلے میں چھ سینسر ہوتے ہیں، جنہیں ملبے کے مختلف حصوں میں نصب کیاجاتا ہے۔ ہر سینسر مخصوص فریکوئنسی پر کام کرتا ہے اور جب کسی مقام پر ریڈ لائٹ کے ساتھ فریکوئنسی کی شدت بڑھتی ہے، تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہاں کوئی زندہ شخص موجود ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اسی جگہ سےاحتیاط سے ملبہ ہٹانے کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ اس آلے کے ذریعے نہ صرف آوازیں سنی جاسکتی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں متاثرہ شخص سے بات بھی کی جا سکتی ہے۔

ریسکیو ٹیم نے اسی آپریشن میں سرچ کیم نامی ایک اور جدید آلہ بھی استعمال کیا۔

’یہ کیمرہ ملبے کے نیچے ساٹھ فٹ گہرائی تک جا سکتا ہے اور اندھیرے میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

اس کیمرے کے ذریعے ملبے کے نیچے دبے افراد کی تصویری جھلکیاں براہِ راست اسکرین پر دیکھی جا سکتی ہیں اور وہ جسم کی حرارت کو محسوس کرکے انسانی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق لیاری میں پیش آنے والا یہ سانحہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا واقعہ تھا، جس میں ہر لمحہ قیمتی تھا۔

جدید آلات کے استعمال سے جہاں کچھ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں، وہیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور شناخت کا عمل بھی نسبتاً تیزی سے مکمل ہوا۔

لائف لوکیٹر اور سرچ کیمرہ

لائف لوکیٹر ایک اعلیٰ حساسیت رکھنے والا جدید آلہ ہے، جو شہری آفات مثلاً عمارت گرنے یا زلزلہ آنے کی صورت میں ملبے تلے زندہ افراد کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ آلہ انسانی جسم سے خارج ہونے والےانتہائی باریک سگنلز، جیسے کہ دل کی دھڑکن یا سانس کی حرکت، کو سینسرز کے ذریعے محسوس کرتا ہے۔

اس میں چھ سینسر نصب ہوتے ہیں، جو مختلف مقامات پر رکھ کر مخصوص فریکوئنسی کے ذریعے کام کرتے ہیں۔

دوسری طرف، سرچ کیمرہ مردہ یا بے ہوش افراد کی تلاش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کیمرہ ملبے کے نیچے 60 فٹ گہرائی تک جا سکتا ہے اور اندھیرے میں بھی واضح تصویر فراہم کرتا ہے۔

اس میں جسمانی حرارت کومحسوس کرنے والے فیچرز بھی شامل ہوتے ہیں، جو کسی بھی ممکنہ انسانی موجودگی کا پتہ دے سکتے ہیں۔

ان دونوں آلات کی مدد سے ریسکیو ٹیمیں متاثرین تک جلد از جلد رسائی حاصل کر کے ان کی جان بچانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

ڈی جی ریسکیو 1122کے مطابق: ’لائف لوکیٹر ایک نہایت حساس آلہ ہے جو انسانی جسم کی حرکت، دل کی دھڑکن اور سانس لینے جیسے معمولی سگنلز کو بھی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
بدھ, جولائی 9, 2025 - 07:15
Main image: 

<p>ریسکیو 1122 کا عملہ لائف لوکیٹر اور سرچ کیمرے کا عملی مظاہرہ کر کے دکھا رہا ہے (صالحہ فیروز حان)</p>

type: 
SEO Title: 
کراچی: ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں ’لائف لوکیٹر‘ اور جدید آلات کا استعمال


from Independent Urdu https://ift.tt/g0xktlI

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;