جیسے جیسے امریکہ اور چین کی مسابقت تیز ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سیاسی نظام مسلسل تبدیلی کی زد میں ہے، پاکستان جیسی درمیانے درجے کی طاقتیں دونوں فریقوں کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مسلسل ایک نازک توازن قائم کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔
مغرب سے مشرق کی طرف اقتدار کی اس جاری منتقلی نے شدید غیر یقینی صورت حال، اتار چڑھاؤ اور انتشار کو جنم دیا ہے، جس نے درمیانے درجے کی طاقتوں کو ایک دفاعی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اگرچہ یہ بات ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہے کہ ابھرتا ہوا نیا بین الاقوامی نظام کیا شکل اختیار کرے گا، لیکن دو رجحانات بالکل یقینی ہیں۔
اول، بین الاقوامی نظام کی بنیادی خصوصیت کے طور پر یک قطبی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ دوم، ہم کئی صدیوں کے بعد مغرب سے مشرق کی طرف طاقت کی واپسی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
نیا عالمی نظام ممکنہ طور پر کثیر قطبی ہوگا، لیکن اس کثیر قطبیت کی اصل نوعیت اب بھی غیر واضح ہے
عالمی جیو پولیٹکس کے ان زیرِ زمین رجحانات یا لہروں کا رخ متعین کرنے کے لیے، پاکستان نے جیو سٹریٹجی سے ’جیو اکنامکس‘ کی طرف رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وہ اپنے خارجہ تعلقات کی بنیاد تجارت پر رکھنا چاہتا ہے اور اس کا مقصد بلاک کی سیاست (دھڑے بندی) سے بچنا ہے۔
ابھرتے ہوئے بلاکس میں شامل ہونے کے بجائے، پاکستان خود کو امریکہ اور چین کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس حکمتِ عملی کی منطق پاکستان کے اس ماضی کے کردار پر مبنی ہے جو اس نے 1970 کی دہائی میں امریکہ اور چین کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کو آسان بنانے کے لیے ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں بالآخر ان دونوں کے درمیان دو دہائیوں سے جاری تنہائی کا خاتمہ ہوا تھا۔
حالیہ عرصے تک، امریکہ اور چین کی مسابقت میں خود کو ایک پل کے طور پر پیش کرتے ہوئے پاکستان کو یکطرفہ انتخاب کا سامنا تھا۔
پہلی ٹرمپ انتظامیہ اور جو بائیڈن انتظامیہ چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات پر کافی تنقید کرتی رہی ہیں۔ چونکہ پاکستان اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے پیکجز کی طرف دیکھ رہا تھا، اس لیے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت ملک کے منصوبوں اور چین کے دوطرفہ قرضوں کو پاکستان کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
سی پیک کو چین کی طرف سے ’ڈیٹ ٹریپ ڈپلومیسی‘ (قرض کے جال کی سفارت کاری) کا نام دیا گیا، جس کا مقصد پاکستان جیسے غریب ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانا اور پھر ان قرضوں کے تصفیے کے بدلے ان کے اثاثوں پر قبضہ کرنا ہے۔
یکے بعد دیگرے آنے والی امریکی انتظامیہ نے اس گہری تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرضوں کو چینی قرضے اتارنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت، پاکستان کو چینی پاور کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی شرائط پر دوبارہ گفت و شنید کرنے پر بھی مجبور کیا گیا، کیونکہ انہیں پاکستان کے گردشی قرضے کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا تھا۔
بلوچستان کے اہم معدنی شعبے میں چینی اور امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں پاکستان کی کامیابی اور اس کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے اس کی ثالثی کی کوششیں اس رجحان کی بہترین مثالیں ہیں۔
بلوچستان میں، چین نے سیندک تانبے اور سونے کی کان میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ امریکہ کینیڈین کنسورشیم بیرک گولڈ کے ذریعے ریکوڈک گولڈ اور کاپر پروجیکٹ میں اپنے انویسٹمنٹ پورٹ فولیو کو بڑھا رہا ہے۔
اہم معدنیات پر امریکہ اور چین کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے بعد، چین نے امریکہ کو اہم معدنیات کی برآمد پر سخت قوانین کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔
یہ اہم معدنیات سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے، کنزیومر الیکٹرانکس، ایرو سپیس اور دفاعی ٹیکنالوجیز کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔
چینی برآمدی قوانین کے جواب میں، امریکہ چینی کنٹرول والے سپلائی چینز پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے اہم معدنیات کی اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے کی کثیر جہتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ چین دنیا میں اہم معدنیات کی پروسیسنگ اور ریفائننگ کی 70 فیصد صلاحیت پر قابض ہے۔
مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ فوجی تصادم میں پاکستان کی کامیابی کے بعد حالات نے ایک مثبت رخ اختیار کیا۔
ایشیا پیسیفک (بحر الکاہل کے خطے) میں تصادم کے بجائے مسابقت کے ذریعے چین کے ساتھ اختلافات کو مینیج کرنے کی امریکی حکمتِ عملی کے ازسرِنو جائزے نے انڈیا کے مرکزی سٹریٹجک محور والے کردار کو کمزور کر دیا۔ امریکہ کو یہ احساس ہوا کہ وہ راتوں رات امریکہ-چین معاشی تعلقات کو منقطع نہیں کر سکتا۔
اس احساس نے ایک ایسی نئی سوچ کو جنم دیا جس کے تحت اختلافات کے معاملات پر تصادم کے بجائے مسابقت کو اپنانے جبکہ باہمی اتفاق کے شعبوں میں ورکنگ ریلیشن شپ اور تعاون کا انتخاب کرنے پر زور دیا گیا۔
یہ رجحان صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ملاقات کے دوران بھی واضح طور پر نظر آیا۔ بہرحال، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس ازسرِنو جائزے اور انڈیا کے کردار کی اس نئی ترتیب نے پاکستان کو ایک ایسا سٹریٹیجک بفر (سفارتی جائے پناہ یا مہلت) فراہم کر دیا ہے جس کی بدولت وہ کسی ایک فریق کا انتخاب کیے بغیر امریکہ-چین تعلقات کو کامیابی سے مینیج کر سکتا ہے
دوسرا شعبہ جہاں پاکستان نے امریکہ اور چین دونوں کا اعتماد اور حمایت حاصل کی ہے، وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ہے۔
جہاں ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہیں دوسری طرف چین نے بھی امن قائم کرنے والے کے طور پر پاکستان کے کردار کی توثیق کی ہے۔
امریکہ کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے پر ایران کو راضی کرنے میں چین کی پسِ پردہ کوششیں انتہائی اہم تھیں، جس نے اس جنگ کو ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہونے سے روک دیا۔
اگرچہ پاکستان اس وقت خوش آئند اور کامیاب دور سے لطف اندوز ہو رہا ہے، جہاں وہ کسی ایک فریق کا انتخاب کیے بغیر امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک محتاط توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ سفارتی موقع تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے جو خوشگوار تعلقات ہیں، وہ امریکہ میں اگلے انتخابی چکر کے بعد ختم ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، پاکستان اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہے کہ اگرچہ وہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی سٹریٹیجک، سفارتی اور معاشی مفادات بیجنگ کے ساتھ ہی جڑے ہوئے ہیں۔
مستقبل قریب کے لیے، عالمی نظام میں جاری غیر یقینی صورت حال اور اتار چڑھاؤ کے باعث، عالمی طاقتوں کی اس مسابقت کو مینیج کرنے کے لیے پاکستان کے لیے ہیجنگ (دفاعی حکمتِ عملی) ہی ترجیحی حکمتِ عملی رہے گی۔
اس کے ساتھ ہی، پاکستان دوطرفہ انتظامات کے تحت توانائی، دفاعی سامان کی فراہمی اور تجارت کے لیے اپنے اختیارات کو متنوع بنانے کی کوشش کرے گا، تاکہ مستقبل میں امریکہ اور چین کی مسابقت مزید تیز ہونے کی صورت میں سامنے آنے والے کسی بھی چیلنج کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایک سفارتی کھلاڑی اور سکیورٹی فراہم کنندہ دونوں حیثیتوں سے پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار اسے ایک ایسا سٹریٹیجک کشن فراہم کرے گا، جو عالمی طاقتوں کی مسابقت کی مخالف لہروں کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p class="rteright">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 15 مئی 2026 کو بیجنگ کے ژونگ نان ہائی گارڈن کے دورے کے بعد روانگی کے وقت چین کے صدر شی جن پنگ سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/hm9uJnU