‎محبت کو اس معاشرے میں تکمیل آرزو کی حسرت ہی رہے گی

News Inside

محبت اک خواب کی صورت ہے جسے پاکستان میں آج بھی تکمیل آرزو کی حسرت ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا ترقی کی آخری منازل چھونے کے قریب ہے، انسانی آزادی رائے کے اظہار کی بلندیوں پر فائز ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی نوجوان نسل پر سب کچھ انویسٹ کر رہی ہے، ہمارے ملک میں اسی نوجوان نسل کو اپنی مرضی کا جیون ساتھی بھی چننے میں آزادی نہیں ہے۔

نوجوان نسل دشمن حکومتی پالیسیز کے ساتھ ساتھ اس نوجوان نسل کو اپنی پسند اور مرضی سے اپنا لائف پارٹنر چننے میں بھی سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج بھی محبت کے سر پرکسی آسیب کا سایہ لگتا ہے جو ان کی جان ہی لے کر چھوڑتا ہے۔

پاکستان میں محبت کرنا آج بھی ایک ایسا جرمِ عظیم سمجھا جاتا ہے جس کی سزا عدالتیں نہیں بلکہ معاشرہ خود سناتا ہے۔

خاص طور پر جب دو بالغ انسان اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں، تو ریاست کے قوانین مصلحت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور روایات کے جلاد بیدار ہو جاتے ہیں۔

یہاں مسئلہ صرف ناقص قوانین کا نہیں، بلکہ اس بیمار ذہنیت کا ہے جو گھروں کے اندر بیٹھے ان سماجی ڈکٹیٹروں نے پروان چڑھائی ہے جو اولاد کو انسان نہیں بلکہ اپنی جاگیر اور ملکیت سمجھتے ہیں۔

حال ہی میں کراچی کی ملیر کورٹ سے واپسی پر قتل ہونے والا نوبیاہتا جوڑا محض دو افراد کا قتل نہیں تھا، بلکہ وہ اس معاشرے کے بے رحم ہاتھوں قتل ہونے والی آزادی، ذاتی اختیار اور محبت کی علامت تھے۔

ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کی جرات کی تھی۔

پاکستان کی تاریخ ایسے المناک سانحات سے بھری پڑی ہے جہاں محبت کرنے والوں کو غیرت، روایت، خاندان اور ذات برادری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

 قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک یہ معاشرہ جدید لباس تو پہن سکا، مگر ذہنی طور پر جاگیردارانہ سوچ اور قبل از اسلام کے قبائلی تعصبات سے باہر نہ نکل سکا۔

 سنہ 1999 میں سامنے آنے والا کاروکاری کا مسئلہ سندھ کے دیہی علاقوں سے شروع ہو کر پورے ملک میں غیرت کے نام پر قتل کی ایک خوفناک علامت بن گیا۔

اسی سال لاہور میں سمیہ سرور کو اس کی اپنی ماں اور خاندان کے دیگر افراد نے صرف اس لیے قتل کروا دیا کیونکہ وہ ایک پرتشدد شادی سے نجات اور اپنی مرضی کی زندگی چاہتی تھی۔

اس کے بعد سنہ 2008 میں بلوچستان میں پانچ خواتین کو پسند کی شادی کی خواہش ظاہر کرنے پر زندہ دفن کرنے کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا۔

 پھر سنہ 2016 میں سوشل میڈیا شخصیت قندیل بلوچ کو اس کے اپنے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر کے پوری دنیا میں پاکستان کا سر شرم سے جھکا دیا۔

یہ صرف خبریں نہیں بلکہ اس معاشرے کے چہرے پر لگے وہ بدنما داغ ہیں جو وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے گئے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔

ان مقتولین میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اپنی پسند کا حق مانگنے والے مردوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس خونریزی کا شکار بنی ہے۔

رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ان واقعات میں کمی کے بجائے تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں آج بھی متوازی عدالتی نظام یعنی جرگے اور پنچائتیں آئین اور قانون سے زیادہ طاقتور سمجھی جاتی ہیں۔

ملکی عدالتیں دو بالغ افراد کے نکاح کو قانونی تحفظ دیتی ہیں، مگر یہ سماجی عدالتیں فوراً موت کا پروانہ جاری کر دیتی ہیں اور قانون ہاتھ باندھے دیکھتا رہ جاتا ہے۔

یہ سوال اب اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے کہ دو بالغ انسانوں کی پسند کی شادی آخر اتنا بڑا گناہ کیوں بن جاتی ہے؟

اس کی جڑیں ہمارے اس خاندانی ڈھانچے میں پیوست ہیں جہاں اولاد کی زندگی کو والدین کی انا اور جھوٹی عزت کی گرہ لگا دی گئی ہے۔

بیٹیوں کو خاندان کی غیرت کا قفل بنا کر گھروں میں قید رکھا جاتا ہے اور بیٹوں کو خاندان کی مرضی اور انا کا پابند بنا کر روبوٹ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

محبت یہاں انسان کی فطری اور آئینی آزادی نہیں، بلکہ ایک ایسی بغاوت سمجھی جاتی ہے جسے کچلنا ہر روایتی سربراہ اپنا فرض سمجھتا ہے۔

جب کوئی نوجوان اپنے فیصلے خود کرنے کی جرات کرتا ہے، تو گھروں میں بیٹھے آمر اسے اپنی حکمرانی اور بالادستی کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کرتے ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اس معاشرے میں ڈگری یافتہ اور بظاہر باشعور نظر آنے والا طبقہ بھی اکثر انہی فرسودہ روایات کا خاموش محافظ نظر آتا ہے۔

فائیو سٹار ہوٹلوں میں سیمینار، این جی اوز کے نعرے اور خواتین کے حقوق کی مہمات اپنی جگہ، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی پسند کی شادی کرنے والے جوڑے سائے سے بھی ڈرتے ہیں۔

پولیس تحفظ دینے کے بجائے اکثر بااثر خاندانوں کی آلہ کار بن جاتی ہے، عدالتوں کے باہر سرِعام گھات لگا کر گولیاں چلا دی جاتی ہیں، اور خاندان چند دن کے رسمی سوگ کے بعد قاتلوں کو غیرت مند کا تمغہ سجا کر آزاد کروا لیتا ہے۔

ریاست کی خاموشی بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے، اگرچہ قوانین بنائے گئے مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اکثر قاتل خاندان کے افراد ہوتے ہیں اور پھر وہی خاندان معاف بھی کر دیتا ہے۔

قانون کی اسی کمزوری نے قاتلوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل خوف، گھٹن اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر اپنے خوابوں کی خود کشی پر مجبور ہے۔

محبت کو جرم قرار دینے والے مصلحت پسند یہ بھول جاتے ہیں کہ زبردستی کے رشتے اور جبر کی بنیاد پر بنے خاندان کبھی ایک صحت مند معاشرہ پیدا نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ گھر جہاں اولاد کو اپنی پسند، رائے اور مستقبل کے فیصلے کا حق نہ ہو، وہ گھر نہیں بلکہ ایک نجی جیل بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں صرف منافقت پلتی ہے، نفرت جنم لیتی ہے اور انسان اپنی اصل شخصیت کھو کر ایک زندہ لاش بن جاتا ہے۔

والدین یقیناً احترام کے مستحق ہیں، مگر احترام کا مطلب غلامی ہرگز نہیں ہوتا، اولاد کو زندگی دینے والے اس زندگی کے مالک یا خدا نہیں بن جاتے۔

ملیر کورٹ کے باہر دم توڑنے والا جوڑا اس ملک کے ان ہزاروں نوجوانوں کا نوحہ ہے جو محبت اور آزادی کے خواب دیکھتے ہیں مگر فرسودہ روایات کے ہاتھوں مٹی میں ملا دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے شاید ساتھ جینے اور ساتھ مرنے کا عہد کیا تھا، اور افسوس کہ اس بے حس معاشرے نے انہیں جینے تو نہ دیا، مگر ساتھ مرنے کا وعدہ ضرور پورا کروا دیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک محبت کی لاشیں چوراہوں پر گرتی رہیں گی؟ کب تک وحشت اور قتلِ عمد کو ثقافت اور روایت کا نام دیا جاتا رہے گا؟

کب تک گھروں کے اندر بیٹھے آمر نوجوانوں کے خوابوں کا گلا گھونٹتے رہیں گے؟

پاکستان کو اگر واقعی ایک مہذب، انسانی اور ترقی پسند معاشرہ بننا ہے، تو اسے سب سے پہلے محبت کو جرم سمجھنا چھوڑنا ہوگا اور نوجوانوں کو ان کی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق دینا ہوگا۔

 ورنہ ہر آنے والا سال نئے شہیدانِ محبت کی داستانیں لکھتا رہے گا، اور یہ معاشرہ اپنی ہی نفرت کے بوجھ تلے اندھیروں میں ڈوبتا جائے گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔
اتوار, مئی 31, 2026 - 08:00
Main image: 

<p class="rteright">پاکستان کی تاریخ ایسے المناک سانحات سے بھری پڑی ہے جہاں محبت کرنے والوں کو غیرت، روایت، خاندان اور ذات برادری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا(پکسابے)</p>

type: 
SEO Title: 
‎محبت کو اس معاشرے میں تکمیل آرزو کی حسرت ہی رہے گی


from Independent Urdu https://ift.tt/z2gN16u

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;