یہ شاید دنیا کی بہترین ملازمت ہو۔ لیکن دو امریکی نوجوانوں کے لیے، جنہیں 39 دنوں کے دوران فٹ بال ورلڈ کپ کے تمام 104 میچ دیکھنے کے عوض 50 ہزار ڈالر دیے جا رہے ہیں۔
29 سالہ آسٹن فرینکلن اور 26 سالہ کیون اکوٹو نیویارک کے مصروف ترین علاقے ٹائمز سکوائر کے وسط میں قائم ایک عارضی شیشے کے سٹوڈیو میں یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
اس سٹوڈیو کی تین دیواریں شیشے کی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اندر کا منظر آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔
پرجوش شائقین اس شیشے کے کیوب کے گرد جمع ہو کر دو 85 انچ ٹی وی سکرینوں پر میچ دیکھتے ہیں جبکہ فرینکلن اور اکوٹو اندر صوفوں پر بیٹھ کر مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اکوٹو نے اس منفرد ملازمت کے لیے اپنی نوکری چھوڑ دی اور اپنے ساتھی (پارٹنر) سے علیحدگی اختیار کر لی۔
انہیں ’چیف ورلڈ کپ واچر‘ کا عہدہ دیا گیا ہے، جس کا مقصد امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والے چار سال بعد آنے والے اس عالمی ایونٹ کے لیے جوش و خروش پیدا کرنا ہے۔
اکوٹو نے منگل کو کہا ’میرے آجر (مالک) نے تو اس فیصلے کو اچھے انداز میں قبول کیا لیکن میری پارٹنر نے اتنا اچھا ردعمل نہیں دیا۔ تاہم کوئی بات نہیں۔‘
انہوں نے کہا ’یقیناً کچھ میچ ایسے ہوتے ہیں جو زیادہ دلچسپ نہیں ہوتے، ایسا ہونا فطری بات ہے، لیکن اس کے ساتھ بہت سنسنی خیز مقابلے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘
فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے اکوٹو اور فرینکلن کا انتخاب امریکی نشریاتی ادارے فاکس نے ہزاروں امیدواروں میں سے کیا، جنہوں نے ویڈیو درخواستیں جمع کرائی تھیں۔
مستطیل شکل کے اس سٹوڈیو میں ایک ٹیبل فٹ بال میز، ایک چھوٹی میز اور سٹول، مصنوعی گھاس کا قالین اور مختلف ٹیموں کے رنگ برنگے سکارف بھی آویزاں ہیں۔
اس منفرد اور نمایاں ذمہ داری نے دونوں کے لیے کئی یادگار لمحات پیدا کیے ہیں۔
ان میں ایک موقع ایسا بھی تھا جب سینکڑوں برازیلی شائقین ان کے شیشے کے کیوب کے سامنے جمع ہو گئے۔ ایک خاتون نے تو ان کے سٹوڈیو کی طرف جوتا بھی پھینک دیا۔
فرینکلن نے کہا ’برازیل کے شائقین ناقابل یقین تھے۔ خوش مزاج، پرجوش اور مثبت توانائی سے بھرپور۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو زندگی بھر میرے ساتھ رہے گا۔‘
منگل کو ازبکستان کے خلاف پرتگال کے میچ کے دوران پرتگالی ٹوپی پہنے اکوٹو نے کرسٹیانو رونالڈو کے مشہور لقب ’CR7‘ پر مبنی لیگو ماڈل بھی تیار کر رکھا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جب رونالڈو نے پرتگال کی 5-0 کی فتح میں اپنے دو گولوں میں سے پہلا گول کیا تو اکوٹو خوشی سے چلائے ’آخرکار کھاتہ کھل گیا، کیا زبردست شاٹ تھا!‘
اتنے طویل اور تھکا دینے والے شیڈول کے باوجود دونوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار کر اکتائے نہیں۔
اکوٹو نے ہنستے ہوئے کہا ’میں کافی منفی سوچ رکھنے والا انسان ہوں۔ ایسے میں کسی مثبت اور مختلف مزاج شخص کا ساتھ ملنا اچھا لگتا ہے، جو آپ کے اندر نئی توانائی بھر دے۔‘
اگر میچ کے دوران واٹر بریک، ویڈیو ریویو یا ہاف ٹائم شو کچھ سست محسوس ہوں تو ان کے لیے تفریح کے دیگر ذرائع بھی موجود ہیں، جن میں ’الٹی میٹ فٹ بال کوئز‘ اور اونو کارڈز کا ایک ڈیک شامل ہے۔
میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والے فرینکلن نے کہا کہ گروپ مرحلے کے اختتام پر جب ایک ہی وقت میں دو میچ کھیلے جائیں گے تو وہ اس کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا ’جب ورلڈ کپ آپ کے اپنے ملک میں ہو تو اس کے گرد ایک خاص قسم کی توانائی محسوس ہوتی ہے۔ اور کون جانتا ہے، شاید امریکہ اس بار کچھ بڑا کر دکھائے۔‘

<p style="direction:rtl">آسٹن فرینکلن اور کیون اکوٹو 23 جون، 2026 کو نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں اپنے شفاف کیوب سے 2026 ورلڈ کپ کا پرتگال اور ازبکستان کے درمیان میچ دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/u2HhRV0