میں ہمیشہ سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد کسی جامعہ میں پڑھانا چاہتی تھی۔ مجھے سب سے بڑا جھٹکا پی ایچ ڈی کے پہلے سال لگا جب مجھے پتہ چلا کہ مجھے اب واقعی پی ایچ ڈی کرنی ہے۔
میں اتنے سال سے جس محنت کو مستقبل میں دیکھتی آئی تھی وہ اس وقت میرے حال میں پہنچ چکی تھی۔
مجھے لگا تھا یہ ڈگری بھی پہلی ڈگریوں کی طرح ہنستے کھیلتے ہو جائے گی لیکن مجھے جلدی پتہ لگ گیا کہ یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے، اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔
پی ایچ ڈی میں اصل مشکل تحقیق نہیں، وہ تو کسی نہ کسی طرح ہو ہی جاتی ہے۔ اصل مسئلہ اس کا دورانیہ ہے۔ پی ایچ ڈی تین سے پانچ سال کے درمیان مکمل ہوتی ہے۔
اس دوران پی ایچ ڈی سکالر عجیب سی درمیانی حالت میں رہتے ہیں۔ نہ وہ پورے طالب علم ہوتے ہیں نہ پورے پیشہ ور۔
ان کی ذاتی زندگی تقریباً رک جاتی ہے اور پیشہ ورانہ زندگی آہستہ آہستہ چلتی رہتی ہے جیسے کسی نے اس کا ہینڈ بریک پوری طرح نہ چھوڑا ہو۔
مجھے دوسرا بڑا جھٹکا پی ایچ ڈی کے بعد لگا، جب ملک کی ایک نامور جامعہ کی طرف سے مجھے ملازمت کی پیشکش ہوئی۔
میں نے ای میل کے ساتھ نتھی آفر لیٹر کھولا تو میری نظر سیدھی اس سطر پر جا پڑی جس میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر میری تنخواہ درج تھی۔
رقم صاف صاف لکھی ہوئی تھی لیکن مجھے لگا شاید لیٹر بھیجنے والوں سے کوئی غلطی ہو گئی ہے۔
یوں محسوس ہوا جیسے میرا آٹھ سالہ پیشہ ورانہ تجربہ اور چار سالہ پی ایچ ڈی کسی مالیاتی حساب میں شامل ہی نہیں کیے گئے۔
میں نے جوابی ای میل میں اس بارے میں سوال پوچھنے کے ساتھ ساتھ اپنا مطلوبہ معاوضہ لکھ کر بھیجا تو آگے سے جواب آیا اتنا معاوضہ تو ایسوسی ایٹ پروفیسر کو ملتا ہے۔
میں نے حیرانی سے کہا ایسوسی ایٹ پروفیسر کو یہ تنخواہ ملتی ہے؟ مجھے اس وقت، اپنے حال کے ساتھ اپنا مستقبل بھی تاریک نظر آنے لگا۔
میرا دل چاہا زندگی میں چار سال پیچھے جا کر اپنی جامعہ سے آیا ہوا داخلہ نامہ اور ویزے کے کاغذات پھاڑ دوں اور واپس اس نوکری پر چلی جاؤں جسے میں بڑے نخرے سے چھوڑ کر پی ایچ ڈی کرنے گئی تھی۔
میں جو تنخواہ اپنے لیے ’بس ٹھیک‘ سمجھ رہی تھی، ایچ ای سی کے مطابق میں اس کی حق دار اگلے پانچ سال بعد ایسوسی ایٹ پروفیسر بن کر ہونی تھی۔
تب مجھے پہلی بار پتہ لگا ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم کا نظام دراصل وقت کے حساب سے چلتا ہے: آپ آج جو کام کرتے ہیں، اس کا معاوضہ آپ کو اگلے پانچ سے 10 سال بعد ملتا ہے۔
مجھے تیسرا جھٹکا موسم گرما میں لگا۔ سمسٹر ختم ہوتے ہی طالب علم تین ماہ کی تعطیلات پر روانہ ہو گئے جبکہ پروفیسر، ایڈمن اور معاون عملے کے ساتھ جامعہ میں ہی رہ گئے۔
میرا خیال تھا کہ پروفیسر سال میں بس دو سمسٹر پڑھاتے ہوں گے اور باقی چھٹیاں نہایت سکون سے گھر پر گزارتے ہوں گے۔
جامعہ نے کہا منہ دھو رکھو۔ یہ چھٹیاں بس طالب علموں کے لیے ہیں۔ آپ روز کی طرح جامعہ آئیں اور اپنے رکے ہوئے کام مکمل کریں۔
اگر چھٹی کرنی ہے تو اپنی سالانہ تعطیلات میں سے کریں۔ مختلف جامعات میں اس حوالے سے اپنا اپنا دستور ہے۔
بعض جگہوں پر چھٹیاں شروع ہوتے ہی طالب علموں کے ساتھ پروفیسر بھی غائب ہو جاتے ہیں اور بعض جگہ پروفیسروں کو ان سہ ماہی تعطیلات میں ہر قسم کی ٹریننگ اور سرگرمی میں مصروف کر دیا جاتا ہے۔
مجھے پہلے سال موسم گرما کی چھٹیوں میں روزانہ دفتر آنا اور پھر آٹھ گھنٹے وہاں بیٹھنا بہت برا لگا۔
لیکن اگلے سال تک میں ان چھٹیوں کا انتظار کرنے لگی۔ سمسٹر کے دوران میرا تحقیقاتی کام سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔
میں ان تین مہینوں میں اس کام کو کچھ پر لگوا کر مفت میں کسی جرنل میں چھپوا سکتی ہوں اور چھپا ہوا آرٹیکل ساتھی پروفیسروں کو بھیج کر پورے دو منٹ کے لیے خوش ہو سکتی ہوں۔
جامعات بھی ان ہی تین ماہ میں فیکلٹی ڈیولپمنٹ ٹریننگز کا انعقاد کرتی ہیں۔
مختلف سکولز اور ڈیپارٹمنٹس ان ہی تین مہینوں میں اپنے کورسز بہتر کرتے ہیں، نئے پروگرام متعارف کروانے کا سوچتے ہیں اور اکیڈیمیا انڈسٹری روابط پر کام کرتے ہیں۔
بہت سی عالمی اور بین الاقوامی کانفرنسز بھی اسی دوران ہوتی ہیں۔
پروفیسر اپنے کام سے بریک لینے کے لیے اور اپنی تحقیق کو دوسرے پروفیسروں کو بتانے کے لیے ان کانفرنسز پر جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ کئی پروفیسروں کے پاس ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوتے ہیں، جو موسم گرما کی تعطیلات کے انتظار میں ہوتے ہیں۔
جیسے ہی پروفیسر اپنے کورسز سے فارغ ہوتے ہیں، یہ اپنی تحقیق مکمل کرنے کے لیے ان کے دفاتر کے پہلے سے زیادہ چکر لگانا شروع کر دیتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یعنی ہر وقت کوئی نہ کوئی کام سر پر ٹنگا رہتا ہے جیسے کوئی تلوار لٹک رہی ہو۔
پاکستان میں نئے بجٹ کا اعلان بھی جون ہی میں کیا جاتا ہے۔ پہلے میں سمجھتی تھی شاید اس کی کوئی معاشی، مالی یا حکومتی وجہ ہوگی۔
اکیڈیمیا میں آنے کے بعد معلوم ہوا اصل سبب کچھ اور ہے۔
میری ناقص رائے میں بجٹ کے لیے جون اس لیے منتخب کیا جاتا ہے کہ اس وقت جامعات میں گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی ہوتی ہیں۔
بجٹ میں جب پروفیسر اپنی پہلے ہی مختصر تنخواہ میں چند سو یا چند ہزار روپے اضافے کی خبر سنتے ہیں تو فوراً حساب کتاب میں لگ جاتے ہیں۔
وہ اپنی تنخواہ میں اضافہ جمع کرتے ہیں، پھر اس میں سے نئے لاگو ہونے والے ٹیکس منہا کرتے ہیں، مہنگائی منہا کرتے ہیں، اپنے اور اپنے خاندان کے اخراجات منہا کرتے ہیں اور پھر اس زیرو پر غور و فکر کرتے ہیں جو کیلکولیٹر کی چھوٹی سی سکرین پر انہیں منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔
اس کے بعد انہیں اپنے دل، دماغ اور بجٹ کو سنبھالنے کے لیے کم از کم دو ماہ درکار ہوتے ہیں۔ اسی لیے بجٹ کا اعلان موسم گرما کی چھٹیوں کے آغاز میں کیا جاتا ہے۔
ورنہ اگر خدا نخواستہ بجٹ کا اعلان سمسٹر کے دوران ہو تو پروفیسر لیکچر میں معاشیات کی جگہ اپنی تنخواہ کا حساب پڑھانا شروع کر دیں اور طلبہ امتحان میں طلب و رسد کی بجائے آلو، ٹماٹر اور بجلی کے بل کی قیمتیں لکھ کر آ جائیں۔
غرض یہ گرمیوں کے تین مہینے پروفیسروں کے لیے جہاں بہت سا وقت لاتے ہیں، وہیں بہت سا کام اور کچھ پریشانیاں بھی ساتھ لاتے ہیں۔
اچھی بات صرف یہ ہے کہ اس موسم میں فالسہ بھی آ جاتا ہے۔ فالسہ پیاس کی شدت کم کرنے اور دل و دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی خاصیت رکھتا ہے۔
جامعات سے درخواست ہے کہ وہ کیمپس میں اچھے فالسے کے شربت کا انتظام ضرور کریں تاکہ پروفیسر شدید گرمی میں ٹھنڈا ٹھنڈا شربت پی کر نہ صرف موسم کی سختی برداشت کر سکیں بلکہ تنخواہ دیکھ کر جو خون اور دل میں گرمی پیدا ہوتی ہے، اس کا بھی کچھ علاج ہو سکے۔

<p class="rteright">مجھے دوسرا بڑا جھٹکا پی ایچ ڈی کے بعد لگا جب ملک کی ایک نامور جامعہ کی طرف سے مجھے ملازمت کی پیشکش ہوئی (اینواتو)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/G4rY3kv
