پہلی بار، جنگ کے کئی برسوں بعد، روسی نظامِ حکومت اس مقام پر دکھائی دیتا ہے جہاں داخلی تقسیم کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
کریملن کے سیاسی منتظمین ایک طرف فوج کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات پوری کرنے اور دوسری طرف سماجی و معاشی استحکام برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، لیکن جب کوئی حریف دیوار سے لگ جائے تو خطرہ اور بڑھ جاتا ہے اور یہی صورت حال آج ولادی میر پوتن کے ساتھ دکھائی دے رہی ہے۔
گذشتہ ہفتے کی ایک صبح ماسکو میں ایک گاڑی کے مالک ایگور کارپوف طلوعِ آفتاب سے پہلے ہی پیٹرول خریدنے کے لیے قطار میں جا کھڑے ہوئے۔ کئی ہفتوں سے جاری یوکرینی ڈرون حملوں نے یورپی روس کی تقریباً تمام آئل ریفائنریوں کو یا تو نقصان پہنچایا ہے یا بند کر دیا ہے، جس کے بعد ہر گاڑی کو صرف 20 لیٹر پیٹرول دیے جانے کی حد مقرر کر دی گئی۔
ریٹائرڈ انجینیئر اور کاروباری شخصیت کارپوف نے اپنی مٹسوبشی ایس یو وی اور ہنگامی ضرورت کے لیے چند ڈبے بھرنے میں مجموعی طور پر چھ گھنٹے صرف کیے۔
61 سالہ کارپوف طنزیہ انداز میں کہتے ہیں: ’میں ایک عظیم توانائی سپر پاور کی کارکردگی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں، لیکن مجھے شکر گزار ہونا چاہیے، کیونکہ پیٹرول کے لیے قطار میں کھڑے ہونے سے مجھے اپنی جوانی یاد آ گئی۔ 80 کی دہائی میں جب میں نے اپنی پہلی گاڑی خریدی تھی تو ہمیں پوری رات قطار میں کھڑا رہنا پڑتا تھا اور راشن کوپن بلیک مارکیٹ سے خریدنے پڑتے تھے۔‘
چار سالہ جنگ میں پہلی بار عام روسی شہری ایندھن کی قلت، بڑھتی مہنگائی اور سست معیشت کے اثرات براہِ راست محسوس کر رہے ہیں۔ ماسکو کی قطاریں بھی کچھ نہیں، اگر ان درجنوں غصے بھری ویڈیوز کو دیکھا جائے جو ٹیلی گرام پر شیئر ہو رہی ہیں اور جن میں کراسنودار کے علاقے میں 60 کلومیٹر طویل ٹریفک جام اور داغستان، تووا اور دیگر دور دراز علاقوں میں ایندھن کی فراہمی کے تقریباً مکمل خاتمے کا ذکر ہے۔
اسی دوران کریملن کے پالیسی ساز اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے درکار بھاری سرمایہ اور افراد کہاں سے لائے جائیں جبکہ وہ معاشی و سماجی استحکام بھی برقرار رہے، جسے پوتن اپنی سیاسی کامیابی کی بنیاد اپنا ٹریڈ مارک قرار دیتے رہے ہیں۔
اس تازہ بحران کی اہم وجہ کیئف کی وہ نئی صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ چھوٹے بغیر پائلٹ طیارے ہزاروں کلومیٹر دور روسی حدود میں موجود ریفائنریوں، ایندھن کی ذخیرہ گاہوں اور فیکٹریوں کو درستگی سے نشانہ بنا رہا ہے۔ روسی اخبار نووایا گزیٹا کے مطابق جنوری سے اب تک روس کی 38 بڑی ریفائنریوں میں سے 31 پر حملے ہو چکے ہیں جبکہ ملک کے 83 میں سے کم از کم 78 علاقوں میں ایندھن کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔
روس کو اب بیلاروس، قازقستان، چین اور انڈیا سے مہنگا ڈیزل درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔ ایندھن کی قلت نے ٹرانسپورٹ، زراعت اور روزمرہ زندگی کے اخراجات کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہ تمام عوامل ان پابندیوں اور جنگی اخراجات کے بوجھ میں مزید اضافہ کر رہے ہیں جو پہلے ہی روسی معیشت کو جکڑ چکے ہیں۔ جنگ کے اخراجات براہِ راست اور بالواسطہ طور پر وفاقی بجٹ کا 45 فیصد سے زیادہ حصہ کھا رہے ہیں۔
سالانہ افراطِ زر تیزی سے بڑھ رہی ہے اور خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب روسی وزارتِ خزانہ کے مطابق 2026 کے پہلے چار ماہ میں تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی سرکاری آمدن 38.3 فیصد کم ہو گئی، حالانکہ ایران جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اسی عرصے میں روس کی 28 بڑی کمپنیوں کی مجموعی آمدن گذشتہ سال کے مقابلے میں 16.7 فیصد کم رہی۔
یہ صورت حال سیاسی اثرات بھی مرتب کر رہی ہے۔ روس کے واحد آزاد سروے ادارے ’لیواڈا سینٹر‘ کے مطابق فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی حمایت کم ہو کر ریکارڈ 24.3 فیصد رہ گئی ہے جبکہ اب اکثریت امن مذاکرات کی حامی ہے۔
یہ کریملن کے لیے ستمبر میں روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مسئلہ بن سکتے ہیں۔ اگرچہ حقیقی اپوزیشن پر روس میں سخت پابندیاں عائد ہیں، لیکن حکمران جماعت یونائیٹڈ رشیا سے ووٹروں کی بڑی تعداد ’وفا دار حزب اختلاف‘ بننا بھی ایک بڑی سبکی ثابت ہو سکتا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد کریملن پر ماضی میں ناپید تنقید معمول اور وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ ٹیلی گرام چینلز میں غصے سے بھرے موٹر سوار، فضائی دفاعی نظام کی ناکامی پر حیران شہریوں کی ویڈیوز اور حتیٰ کہ قوم پرست ’زی بلاگرز‘ بھی فوجی نااہلی اور جنگی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پوتن کا جواب البتہ ان تمام اشاروں کے مقابلے میں انکار کی صورت میں آیا ہے۔ گذشتہ ماہ انہوں نے پہلی بار ایندھن کے بحران کا اعتراف ضرور کیا، مگر اسے ’عارضی‘ اور ’غیر سنگین‘ قرار دیا۔ حالیہ بیانات میں وہ مسلسل جنگ جاری رکھنے کے حق میں زیادہ بات کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ روسی میڈیا اور معاشرے پر کریملن کا آہنی کنٹرول بدستور مضبوط ہے اور یہ تصور اب بھی ناقابلِ یقین لگتا ہے کہ پوتن جنگ ’ہارنے‘ کی صورت میں عوامی بغاوت کا سامنا کریں گے ناقابل فہم ہے، ماسوائے اس کے کہ روسی فوج کا مکمل انہدام ہو۔ کریملن انتظامیہ کی لیکڈ پالیسی دستاویز نے بتایا کہ حکومت کسی بھی ناکامی کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
پوتن کے لیے مسئلہ کافی قریب ہے۔ حالیہ مہینوں میں کئی رپورٹس اشارہ دیتی ہیں کہ روسی اشرافیہ کے اندر تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ جنگ سے تنگ اور اس سے فائدہ اٹھانے والے کاروباری حلقوں اور سکیورٹی اداروں سے وابستہ طاقتور شخصیات کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے حال ہی میں کومرسانت ولاست میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہر کوئی جنگ سے تھک چکا ہے۔ کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ لگتا ہے سب کچھ کسی قسم کی جیلی میں پھنس گیا ہے۔ ہماری محاذ پر پیش رفت سے کہیں زیادہ یوکرینی ڈرون حملے نقصان پہنچا دیتے ہیں۔‘
روس کے سب سے بڑے سرکاری بینک ’سبیربینک‘ کے سی ای او جرمن گریف نے 30 جون کو شیئر ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’مجھے نہیں لگتا اس ملک میں کوئی ایسا شخص ہوگا جس کی پہلی ترجیح جلد از جلد جنگ کا خاتمہ نہ ہو۔‘
اسی طرح کھاد کے شعبے کے ارب پتی کاروباری رہنما آندرے میلنی چینکو نے دی اکنامسٹ میں شائع ایک مضمون میں خبردار کیا کہ روس ایک ’بند گلی‘ میں داخل ہو رہا ہے اور اشرافیہ و عوام کے لیے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کیا۔
کارنیگی فاؤنڈیشن سے وابستہ تجزیہ کار تاتیانا ستانووایا کے مطابق: ’کئی برسوں کی جنگ میں روسی رجیم ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے وہ اندرونی تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہو۔‘
لیکن اس تمام تر عدم اطمینان کے باوجود پوتن فیصلہ کرنے کی حتمی اتھارٹی ہیں اور ناقدین کے سامنے گھٹنے ٹیکتے نہیں دکھائی دیتے۔ اس کے برخلاف وہ جنگ میں تیزی لانے کی تیاری کر رہے ہیں، امن کی کوشش نہیں کر رہے۔
روئٹرز نے گذشتہ ہفتے دو اعلیٰ کریملن ذرائع کے حوالے سے، جن میں سے ایک صدر سے باقاعدگی سے ملتے رہتے ہیں رپورٹ کیا کہ آنے والے مہینوں میں کشیدگی بڑھنے کا ’زیادہ امکان‘ موجود ہے۔
ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ پوتن نے ڈونیٹسک کے باقی حصے پر قبضہ کرنے پر ’مضبوطی سے اڑے‘ ہوئے ہیں اور ’حال ہی میں مشیروں کے ایک گروپ کی سرزنش کی جو موجودہ محاذ پر جنگ بندی کی بنیاد پر سمجھوتے کی تجویز دے رہے تھے۔‘ دوسرے نے کہا کہ پوتن کو ’کسی قسم کی فتح کی ضرورت ہے۔‘
روسی میڈیا میں بھی بعض حلقے جنگ میں مزید شدت لانے کی حمایت کر رہے ہیں جن میں بالٹک ریاستوں اور رومانیہ میں نیٹو اڈوں یا یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے والی یورپی فیکٹریوں پر حملوں کی تجاویز شامل ہیں۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے رواں ماہ صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’کوئی شک نہیں کہ یورپ کی طرف سے کشیدگی بڑھائی جا رہی ہے۔‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹو عسکریت پسندی کے راستے پر چل پڑا ہے اور اس نے خود کو روسی فیڈریشن کے ساتھ محاذ آرائی کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے۔‘
حقیقت یہ ہے کہ کسی نیٹو ملک کے خلاف براہِ راست اشتعال انگیزی روس کے لیے اس سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت پسندی پوتن کا مضبوط پہلو نہیں ہے۔
اس سال کے آخر میں، برطانوی وزرا ایک عوامی معلوماتی مہم شروع کریں گے تاکہ گھریلو افراد کو ہنگامی حالات کے لیے تیاری کے بارے میں مشورہ دیا جا سکے، جس میں روسی سائبر حملے کی صورت میں خوراک، ادویات اور بنیادی بقا کے آلات کا ذخیرہ تیار کرنا بھی شامل ہے۔ وزیراعظم کے چیف سیکرٹری ڈیرن جونز نے منگل کو اعلان کیا کہ حکومت اگلے سال برطانیہ پر ’غیر ملکی ’مخالف‘ کی جانب سے ’ہائبرڈ‘ حملے پر وار گیم منعقد کرے گی۔
معروضی طور پر، کریملن کی جنگی کوشش کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن اور نقصان دہ کوئی چیز نہیں ہوگی جتنا کہ کسی نیٹو ملک کے خلاف براہ راست اشتعال انگیزی شروع کرنا۔ ایسا اقدام یورپی ممالک میں بڑھتی ہوئی جنگی تھکن اور یوکرین کے بارے میں شکوک و شبہات کو ختم کر دے گا، بڑھتی ہوئی تقسیم کے شکار نیٹو کو دوبارہ متحد کر دے گا اور جلد ہی پابندیوں میں مزید سختی کو جنم دے گا، جس سے روس کے معاشی مسائل موت کا چکر بن جائیں گے۔
لیکن معروضیت پوتن کا مضبوط پہلو نہیں۔ وہ آج بھی اس یقین پر آہنی طور پر قائم ہیں کہ روس جنگ جیت رہا ہے۔ کارنیگی فاؤنڈیشن کی ستانووایا کے مطابق پوتن یوکرین کی بڑھتی ہوئی حملہ آور صلاحیت کو مغرب کی ایک خفیہ کوشش سمجھتے ہیں، جس کا مقصد ان کی پوزیشن کمزور کرنا ہے۔
سال 2000 میں کئی انٹرویوز جیسے کہ کتاب فرسٹ پرسن میں پوتن نے لینن گراڈ کی ایک سیڑھی میں چوہے کو پھنسا دینے کا واقعہ بیان کیا تھا۔ ’اچانک وہ چوہا پلٹا اور مجھ پر جھپٹ پڑا۔ میں حیران بھی ہوا اور خوفزدہ بھی۔ اب چوہا میرا پیچھا کر رہا تھا۔‘
پوتن اس کہانی کو اکثر یہ سمجھانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں کہ کسی مخالف کو کونے میں دھکیل دینا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، مگر مغربی رہنما بھی اسی مثال کا حوالہ دے کر خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر پوتن خود کو گھرا ہوا محسوس کریں تو وہ غیر متوقع اور خطرناک ردعمل دے سکتے ہیں۔
پیسکوف نے حال ہی میں کہا: ’ایک بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ روسی فیڈریشن کی قابلِ اعتماد سکیورٹی اور اس کے قومی مفادات کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا۔ پوتن کے لیے، معاشی اور سیاسی نقصان کے باوجود، اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی تباہ کن جنگ کو فتح تک جاری رکھیں۔
برطانوی مصنف اوون میتھیوز نے بوسنیا، لبنان، افغانستان، چیچنیا، عراق اور یوکرین میں ہونے والے تنازعات کی رپورٹنگ کی ہے اور نیوز ویک کے ماسکو بیورو چیف بھی رہے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">روسی صدر ولادی میر پوتن 4 دسمبر، 2023 کو کریملن میں نئے تعینات ہونے والے سفرا کے لیے منعقدہ تقریب کے دوران (سپوتنک بذریعہ روئٹرز)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/mOU6jJT
