پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ سے ایک روز قبل کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پہلے راولا کوٹ اور پھر مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ 26 جولائی کو میرپور ڈویژن سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ’مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے راولاکوٹ پہنچ کر وہاں جاری دھرنے میں شامل ہوں گے، جبکہ 27 جولائی کو نمازِ ظہر کے بعد تمام قافلے مظفرآباد کی جانب روانہ ہوں گے۔‘
انہوں نے ایک اور پیغام میں کہا کہ ’مظفرآباد ڈویژن (نیلم، جہلم ویلی اور مضافات) سے تمام قافلے مظفرآباد شہر کی جانب رخ کریں، وقت آ گیا ہے کہ ہر قدم مظفرآباد کی طرف بڑھے۔‘
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 27 جولائی کو آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پولنگ ہونا ہے۔
انتخابات کے قریب آتے ہی خطے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر الیکشن کمیشن کے سیکریٹری راجہ محمد شکیل خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا تھا کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیشِ نظر انتخابات کو مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق: ’موجودہ سکیورٹی صورتِ حال کے پیشِ نظر انتخابات مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پولنگ کا عمل فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں پُرامن انداز میں مکمل کیا جا سکے۔‘
الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر، جبکہ تیسرے مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔
دوسری جانب مظفرآباد انتظامیہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
انتظامیہ نے کہا کہ ’ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ جوائنٹ کمیٹی کا حتمی مقصد آزاد کشمیر کے انتخابات کو سبوتاژ کرنا ہے۔‘
انتظامیہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انتظامیہ لانگ مارچ کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
انتظامیہ نے کہا کہ ’کل میرپور ڈویژن میں صورتِ حال سے اندازہ ہو جائے گا کہ کتنے لوگ لانگ مارچ میں شریک ہوتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق میرپور میں ان کی (جوائنٹ کمیٹی) کے لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں، اگر وہاں سے بڑی تعداد میں لوگ نہ نکلے تو صورتِ حال مزید بہتر رہے گی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انتظامیہ کے مطابق حکومت نے انتخابات کے لیے پہلے ہی سکیورٹی کے جامع انتظامات کر رکھے ہیں اور ریاستی ادارے کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انتظامیہ نے مزید کہا کہ ’اس وقت صورتِ حال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے، انٹرنیٹ سروس بھی بحال ہے اور ریاست نے تمام ضروری اقدامات کر رکھے ہیں۔
’کل پولنگ عملے اور انتخابی سامان کی نقل و حرکت بھی شروع ہوگی، اس لیے سکیورٹی ادارے پوری طرح متحرک ہیں۔‘
انتظامیہ کے مطابق لانگ مارچ کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔
تاہم کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے لانگ مارچ کے اعلان میں احتجاج کی تفصیلی وجوہات یا آئندہ کے لائحۂ عمل سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
کمیٹی کے بیان میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ مختلف اضلاع سے آنے والے قافلے راولاکوٹ میں جمع ہوں گے اور اگلے روز مظفرآباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
آخری اطلاعات تک الیکشن کمیشن یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

<p>مظفرآباد میں 7 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی کال کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/qp6cxnj