مغربی ایشیا کے سکیورٹی اتحاد کا وقت؟

News Inside

حالیہ ایران-امریکہ تنازعے نے گذشتہ کئی دہائیوں کی سب سے اہم تزویراتی بحث کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مغربی ایشیا اپنی سکیورٹی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتا رہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے ممالک کی قیادت میں علاقائی سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے؟

اس جنگ نے موجودہ سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا اور ایک بنیادی تضاد کو اجاگر کیا یعنی مغربی ایشیا دنیا کا توانائی سے مالا مال ترین خطہ ہونے کے باوجود آج بھی دنیا کے کم محفوظ ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

تقریباً آٹھ دہائیوں سے امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی فراہم کرنے والی بنیادی قوت رہا ہے۔ اس نے ایک جانب عرب بادشاہتوں کو تحفظ فراہم کیا جب کہ دوسری جانب انقلابی ایران کو محدود رکھنے کی پالیسی اپنائے رکھی۔ امریکی فوجی اڈوں، بحری بیڑوں، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور اسلحے کی فروخت نے ایک ایسا سکیورٹی حصار قائم کیا جس نے خطے کی تزویراتی صورتِ حال کو تشکیل دیا۔

تاہم ایران-امریکہ جنگ نے اس نظام کی دراڑوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ امریکہ کی زبردست عسکری برتری ایران کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے یا خطے میں پائیدار استحکام قائم کرنے میں ناکام رہی، حالانکہ اس جنگ نے ایران پر بھاری معاشی اور فوجی اخراجات مسلط کیے۔ بالآخر جنگ بندی اور سفارتی رابطوں نے ایک اہم سبق دیا: مغربی ایشیا میں دیرپا امن صرف فوجی طاقت یا بازداریت کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے جامع اور سب کو شامل کرنے والی علاقائی سفارت کاری ضروری ہے۔

کسی بھی مستقبل کے سکیورٹی فریم ورک کے مرکز میں ایران اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک ہوں گے۔ جغرافیہ کا تقاضہ ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود وہ ہمیشہ ہمسایہ رہیں گے۔ مشترکہ آبی راستے، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور تجارتی گزرگاہیں ان کی سکیورٹی کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ فریقین میں سے کوئی بھی دوسرے کو صرف حریف سمجھتے ہوئے پائیدار استحکام حاصل نہیں کر سکتا۔

اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب اور قطر ایران اور جی سی سی کے درمیان بات چیت کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ کوششیں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، لیکن وہ اس بڑھتے ہوئے ادراک کی عکاسی کرتی ہیں کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے علاقائی طریقہ کار ہی اپنانا ہوگا۔ تاہم اس راستے میں کئی بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔

سب سے پہلے، اعتماد کا مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے خلیجی بادشاہتیں غیر ریاستی گروہوں کی ایران کی حمایت اور اس کے نظریاتی اثرورسوخ کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہیں۔ دوسری جانب تہران خلیج میں امریکہ کی وسیع فوجی موجودگی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی کامیابی کے لیے ایران کو اپنے ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی قابلِ اعتماد یقین دہانیاں کرانا ہوں گی۔ ایسی ضمانتیں خصوصاً جی سی سی ممالک کے لیے اہم ہیں کیونکہ ان کی اولین ترجیح ہمیشہ اپنی حکومتوں کا تحفظ رہی ہے۔ جس طرح ایران توقع رکھتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی تہران میں حکومت کی تبدیلی کی کسی بھی پالیسی سے دستبردار ہوں گے، اسی طرح خلیجی ممالک بھی یہ چاہتے ہوں گے کہ ایرانی اثرورسوخ ان کے سیاسی نظاموں کو چیلنج نہ کرے۔

تیسرا مسئلہ وسیع تر مشرقی عرب دنیا، یعنی عراق، شام اور لبنان سے متعلق ہے۔ یہ ممالک اب بھی علاقائی کشمکش سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ عراق بدستور ایرانی اور امریکی اثرات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی شیعہ شناخت کے بجائے عرب شناخت کو زیادہ نمایاں کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ لبنان سیاسی طور پر نازک اور معاشی طور پر کمزور ہے جبکہ حزب اللہ مسلسل اسرائیل کے نشانے پر ہے۔ شام شاید سب سے زیادہ غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہے۔ برسوں کی خانہ جنگی کے بعد ملک میں سیاسی تبدیلی، علاقائی تنازعات اور گولان کی پہاڑیوں کے قریب اسرائیلی فوجی کارروائیاں اس کے مستقبل کے کردار کے بارے میں کئی سوالات پیدا کرتی ہیں۔

چوتھا اور شاید سب سے اہم بیرونی عنصر اسرائیل ہے۔ ابراہم معاہدے نے خطے میں سفارت کاری کو یکسر بدل دیا اور اسرائیل کے کئی عرب ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات معمول پر آ گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممالک ایک جانب اسرائیل کے ساتھ تزویراتی شراکت داری برقرار رکھ سکتے ہیں اور دوسری جانب ایران کو شامل کرنے والے کسی علاقائی سکیورٹی مذاکرات کا حصہ بھی بن سکتے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل امریکی اثرورسوخ کو کم کرنے والے کسی علاقائی سکیورٹی نظام کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے۔ اسے یہ نئی صف بندیاں اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ محسوس ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ وہ لبنان یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مزید فوجی کارروائیاں کر سکتا ہے یا سفارتی پیش رفت کو سبوتاژ کرنے کے لیے علاقائی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ کر سکتا ہے۔

چھٹا سوال یہ ہے کہ کیا خلیجی ممالک مستقبل میں امریکہ سے اپنی فوجی موجودگی کم کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے؟ فوری طور پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم اگر وقت کے ساتھ باہمی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے تو خلیجی ممالک آہستہ آہستہ ایک متوازن سکیورٹی ماڈل کی طرف جا سکتے ہیں، جس میں واشنگٹن کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رہیں لیکن اپنی اجتماعی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالی جائے۔

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ امریکہ کو یک دم خطے سے باہر کرنے کی بجائے مغربی ایشیا بتدریج تزویراتی خودمختاری کی طرف بڑھے گا۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان کے پاس ایسی منفرد خصوصیات موجود ہیں جو اسے ایک اہم فریق بنا سکتی ہیں۔

اول، پاکستان کے ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان اور ترکیہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ بہت سی بیرونی طاقتوں کے برعکس اسلام آباد نے ہمیشہ خطے کے مختلف اور بعض اوقات متحارب فریقوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ ایران-امریکہ بحران کے دوران اس کی سفارتی سرگرمیوں نے ایک غیر جانب دار ثالث کے طور پر اس کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔

دوم، پاکستان کی اہمیت صرف سفارت کاری تک محدود نہیں۔ یہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور خطے کی تجربہ کار ترین روایتی فوجوں میں سے ایک کا حامل بھی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کا دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے جس میں فوجی تربیت، مشاورتی مشن، مشترکہ مشقیں اور ادارہ جاتی شراکت داریاں شامل ہیں۔ حالیہ چار روزہ انڈیا-پاکستان جنگ کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے اس کے علاقائی شراکت داروں کے اعتماد میں مزید اضافہ کیا ہے۔

سوم، پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مغربی ایشیا اور بحیرہ عرب کو ملانے والا پاکستان مختلف خطوں کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسے جیسے رابطہ کاری کے منصوبے اور علاقائی تجارتی راہداریوں کا فروغ ہوگا، پاکستان نہ صرف سکیورٹی تعاون بلکہ معاشی انضمام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مغربی ایشیا میں امن توانائی کے روابط، بحری تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارت کے فروغ کو آسان بنائے گا، جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

خطے کے ممالک کو اپنے معاملات کی باگ ڈور خود سنبھالنی چاہیے، جبکہ پاکستان، جو خطے کے طاقتور ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، ایک مرکزی کڑی کا کردار ادا کر سکتا ہے، ایسا کردار جو رویے میں مثبت اور مفاہمتی ہو مگر خطے کے دفاع کے معاملے میں مضبوط اور پرعزم ہو۔

سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور خلیجی ممالک اس نظام کا بنیادی حصہ بن سکتے ہیں جبکہ ایران کو تب شامل کیا جا سکتا ہے جب وہ عدم مداخلت کی قابلِ اعتماد ضمانتیں فراہم کرے۔ یہ کوئی حتمی یا مکمل تجویز نہیں، لیکن مستقبل کے ایک جامع سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد ضرور بن سکتی ہے۔

تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ پائیدار امن مذاکرات کے ذریعے قائم ہوتا ہے، طاقت کے زور پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ایران-امریکہ جنگ نے واضح کر دیا کہ جغرافیہ قومی سرحدوں کے دفاع میں ایک فیصلہ کن عنصر ہے، امریکہ اور اسرائیل واضح وجوہات کی بنا پر ایران پر قبضے کے لیے اپنی افواج نہیں بھیج سکے۔ یہی اصول علاقائی دفاع پر بھی لاگو ہوتا ہے جب اس کی ذمہ داری خود خطے کے ممالک سنبھالتے ہیں۔

ایران-امریکہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے سفارت کاری کے ایک غیر معمولی موقع کی کھڑکی کھول دی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ مضمون عرب نیوز میں شائع ہوچکا ہے۔

پاکستان کی اہمیت صرف سفارت کاری تک محدود نہیں۔ یہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور خطے کی تجربہ کار ترین روایتی فوجوں میں سے ایک کا حامل بھی ہے۔
جمعہ, جولائی 3, 2026 - 08:15
Main image: 

<p class="rteright">سعودی شاہی محل کی جانب سے 16 جولائی، 2022 کو جاری ہونے والی اس تصویر میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے حکام جدہ میں ایک اجلاس میں شریک ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
مغربی ایشیا کے سکیورٹی اتحاد کا وقت؟


from Independent Urdu https://ift.tt/OrmpDno

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;