خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے راجگال کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن کے تناظر میں علاقہ عمائدین نے نقل مکانی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل تنظیم جمرود سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام پیر کو باب خیبر کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں راجگال سے ممکنہ نقل مکانی کو مسترد کردیا گیا۔
وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے راجگال میں ابھی تک عسکریت پسندوں کے خلاف کسی بڑے آپریشن یا نقل مکانی کی باظابطہ ہدایات نہیں جاری ہوئی ہیں۔
تاہم راجگال کے مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی حکام کی جانب سے وہاں کے رہائشیوں کو مکانات خالی کرنے کا بتایا گیا ہے جس کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہ ہو سکی۔
جمرود سیاسی اتحاد کے صدر مولانا سعید خان نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تیراہ راجگال کے بعض علاقوں کو مقتدر قوتوں کی جانب سے تین دن میں خالی کرنے کا بتایا گیا ہے لیکن اسے مزید ہم برداشت نہیں کر سکتے۔
مولانا سعید نے بتایا، ’دوبارہ نقل مکانی ہمارے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ مزید نقل مکانی کا بوجھ ہم نہیں اٹھا سکتے اور اس فیصلے کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں کئی مرتبہ کارروائیاں کی گئی ہیں اور تیراہ میدان کے متاثرین کے ساتھ مالی امداد کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا اور اب راجگال کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور وہ ہی اس علاقے کے مسائل حل کریں۔ ’ہم دو سال تک اسی وجہ سے خاموش تھے کہ آپ خود اپنے علاقے کے مسائل حل کریں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔‘
مولانا سعید نے بتایا، ’تیراہ سے پی ٹی آئی کے عبدالغنی منتخب نمائندہ ہیں اور عوام نے ووٹ دیا ہے لیکن ان کو عوام اور مقتدر حلقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ہمارے مسائل حل ہو سکیں۔‘
جمرود سیاسی اتحاد کے رہنما عرفان کھٹیاخیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے مطالبات میں تیراہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری بھی شامل ہے جس کا وعدہ حکومت نے کیا تھا۔
انہوں نے بتایا، ’سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تیراہ متاثرین کے ساتھ 55 کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ فنڈ اب جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح ہمارے ایجنڈے میں جمرود کے سرکاری محکموں میں کرپشن کا خاتمہ بھی شامل ہے جبکہ دہائیوں پرانا ریگی للمہ زمین کا مسئلہ بھی ہے جو ابھی تک حل نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تیراہ کے میدان علاقے میں اس سے پہلے بھی وہاں کے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، تاہم اس کے بعد وفاقی حکومت نے اس وقت بتایا تھا کہ وہاں پر کسی قسم کے آپریشن کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ وفاقی حکومت کی ایما پر نقل مکانی کی گئی ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے تیراہ کے نقل مکانی کرنے والوں کو اس وقت ٹرانسپورٹ اور ون ٹائم گرانٹ بھی دیا گیا تھا۔
نقل مکانی کرنے والوں سے دو ماہ بعد دوبارہ آباد کاری کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن تقریباً سات مہینے گزرنے کے بعد بھی ابھی تک ان کی واپسی کے حوالے سے حکومت نے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے۔
وادی تیراہ میں عسکریت پسندی
وادی تیراہ تقریباً 100 کلومیٹر پر محیط علاقہ ہے، جس کا کچھ حصہ ضلع اورکزئی میں بھی شامل ہوتا ہے اور یہ ایک سیاحتی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔
تاہم افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد دیگر ضم اضلاع کی طرح خیبر اور وادی تیراہ میں بھی عسکریت پسندی نے دوبارہ سر اٹھایا اور اس کی وجہ وادی تیراہ کا افغانستان کے ساتھ ملحقہ بارڈر ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق عسکریت پسند افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دراندازی کرتے ہیں اور یہاں پر کارروائی کر کے واپس افغانستان میں چھپ جاتے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان سے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تاہم افغان طالبان کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ارکان ان کے ملک میں موجود نہیں ہیں۔
ماضی میں ضلع خیبر اور خاص طور پر وادی تیراہ میں لشکر اسلام نامی عسکریت پسند گروپ سرگرم رہا، جس کی سربراہی منگل باغ کر رہے تھے، جو 2021 میں افغانستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں مارے گئے تھے۔
اس سے پہلے تیراہ سمیت ضلع خیبر میں 2014 سے 2017 تک خیبر1، خیبر2، خیبر3 اور خیبر4 کے نام سے فوجی کارروائیاں کی گئی تھیں اور علاقے سے عسکریت پسندوں کا صفایا کیا گیا تھا اور اس دوران بھی تیراہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔
تیراہ کے راجگال علاقے سے ممکنہ نقل مکانی کے حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

<p class="rteright">تنظیم جمرود سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام پیر کو باب خیبر کے مقام پر احتجاجی مظاہرے کا ایک منظر (تصاویر: خیبر سیاسی اتحاد) </p>
from Independent Urdu https://ift.tt/ji7AHop