راولپنڈی اور کلکتہ کے درمیان 1950 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ دونوں شہروں میں صرف ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں جی ٹی روڈ پر واقع ہیں۔
کابل سے آنے والی سے اس تاریخی شاہراہ کا آخری کنارہ بحیرہ ہند پر واقع کلکتہ شہر ہے جو کبھی ہندوستانی کپڑے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوا کرتا تھا۔ یہاں 1943 میں ایک ایسا قحط آیا، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ یہی قحط راولپنڈی میں ایک یتیم خانے کے قیام کی وجہ بنا جسے آج ہم انجمن فیض الاسلام کے نام سے جانتے ہیں۔
فیض آباد راولپنڈی میں انجمن فیض الاسلام کے یتیم خانے سے پہلے یہ جگہ اوجڑی کلاں کہلاتی تھی، جو راجہ غیرت نامی ایک مقامی شخص کی جاگیر شمار ہوتی تھی۔ جب یہاں 1964 میں انجمن فیض الاسلام کے یتیم خانے کی بنیاد رکھی گئی تو یہ علاقہ اسی نسبت سے فیض آباد کہلایا جانے لگا۔
قائد اعظم کا انجمن فیض الاسلام کے لیے 500 روپے کا عطیہ
1944 میں قائد اعظم جب راولپنڈی تشریف لائے تو انہوں نے بھی اس یتیم خانے کا دورہ کیا تھا، لیکن یہ ہی جاننا کافی نہیں ہے بلکہ اس یتیم خانے کے قیام کے پیچھے بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی شخصیت تھی۔ جب بنگال میں خطرناک قحط پھوٹ پڑا اور لاکھوں لوگ بھوک و افلاس سے مرنے لگے تو قائد اعظم کی ہدایت پر راولپنڈی کے مسلم لیگیوں نے یہاں ایک یتیم خانے کی بنیاد رکھی جہاں اس قحط کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کو لایا گیا تھا۔
انجمن فیض الاسلام راولپنڈی کی بنیاد 2 اپریل 1943 کو کیلیاں والی مسجد کے ساتھ دو کمروں کے ایک مکان میں رکھی گئی۔ تاہم جب قائد اعظم تشریف لائے تو یتیم خانہ کمیٹی چوک کے قریب مکان نمبر K-162 میں منتقل ہو چکا تھا۔
کلکتہ کے قحط کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں کلکتہ میں ہوا جس میں صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان بھر میں مسلمان تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس قحط کی وجہ سے یتیم ہونے والے مسلمان بچوں اور بے سہارا عورتوں کی دیکھ بھال کا فریضہ سر انجام دیں۔
انجمن اسلام لاہور جیسی تنظیمیں پہلے ہی یہ کام بخوبی سر انجام دے رہی تھیں۔ تاہم انجمن فیض الاسلام کے پاس تب تک کوئی یتیم خانہ موجود نہیں تھا۔ محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی مرکزی، صوبائی اور شہری تنظیموں کو ایک خط لکھ کر ہدایات جاری کیں کہ وہ ایسے یتیم خانے قائم کریں جہاں یتیموں کی کفالت ممکن ہو سکے۔ اس پس منظر میں راولپنڈی میں یہ یتیم خانہ قائم ہوا جس میں بنگال سے30 یتیموں کو لایا گیا۔
نامور تاریخ دان اور مصنف ڈاکٹر محمد ریاض، انجمن فیض الاسلام راولپنڈی کے موجودہ صدر ہیں۔ وہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ تاریخ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’راولپنڈی مسلم لیگ کی جانب سے محمد صادق جن کو ’منا‘ کہا جاتا تھا وہ بنگال گئے جہاں کلکتہ مسلم لیگ نے یتیم بچے ان کے حوالے کیے۔ یہ بچے 6 دسمبر 1943 کو ٹرین کے ذریعے راولپنڈی پہنچے تو عمائدین شہر نے ریلوے سٹیشن پر ان کا استقبال کیا۔ ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑا انجمن نے اٹھایا۔‘
قائد اعظم جب مئی 1944 میں کشمیر کے دورے پر گئے تو وہ لاہور، سیالکوٹ اور جموں کے راستے سری نگر گئے تھے لیکن مسلم لیگ راولپنڈی کی دعوت پر انہوں نے مری کے راستے راولپنڈی آنے کی دعوت قبول کر لی۔ اس دورے کے لیے انہیں انجمن کے مہتمم راجہ غلام قادر غبار نے بھی خط لکھا تھا۔
مسلم لیگ راولپنڈی کے سیکرٹری سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی چونکہ خود بھی انجمن کے پہلے صدر تھے، اس لیے وہ بھی پیش پیش تھے کہ قائد اعظم اس یتیم خانے کا دورہ ضرور کریں۔ جب محمد علی جناح 26 جولائی کی شام کو راولپنڈی پہنچے تو اگلے ہی روز انہوں نے انجمن فیض الاسلام کا دورہ کیا۔
اس دورے کی رپورٹ ’زمیندار‘ اخبار میں 3 اگست کو چھپی جس میں لکھا گیا: ’راولپنڈی ۔۔27 جولائی: صبح کو قائد اعظم اکابرین مسلم لیگ کے ہمراہ یتیم خانہ انجمن فیض الاسلام میں پہنچے جہاں 21 ضرب گولوں کی سلامی دی گئی۔ بنگال کے یتیم و مظلوم بچے خوشنما وردیوں میں ملبوس لیگ کا ترانہ گا رہے تھے۔ قدم قدم پر قائد اعظم، خدام مسلم لیگ اور یتامائے بنگال کے فوٹو لیے جا رہے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’جب قائد اعظم کرسی صدارت پر جلوہ افروز ہوئے تو کارروائی اجلاس چھ سالہ یتیم بچے کی تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوئی۔ ترانہ ملی کے بعد راجہ غلام قادر غبار مہتمم اعلیٰ نے قائد اعظم کی خدمت میں ایک درد بھرا سپاس نامہ پیش کیا جس کے جواب میں قائد اعظم نے مندرجہ ذیل تقریر اردو میں فرمائی: ’آج میں کارکنان یتیم خانہ اور اکابرین مسلم لیگ کو بالخصوص اور مسلمانان راولپنڈی کو بالعموم مستحق مبارک باد سمجھتا ہوں جنہوں نے بنگالی اور دوسرے یتامیٰ کی پرورش کا ذمہ لے رکھا ہے۔ مجھے مسرت ہوئی کہ مسلمانان راولپنڈی ترقی پر ہیں اور اب نہ صرف ان میں سیاسی بیداری ہو چکی ہے بلکہ وہ تعمیر ملت کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں جس کا پہلا ثبوت میری نگاہوں کے سامنے ہے۔
’ہمارا مقصد صرف سیاسی عروج ہی نہیں بلکہ سارے مسلمانوں کے ہر پہلو کی حفاظت کرنا اور مسلم قوم کو ہر لحاظ سے مضبوط بنانا ہے۔ اگر ہم نے کمزوریوں کو دور کر کے مسلم قوم کی اجتماعی، اقتصادی، اصلاحی اور مذہبی زندگی کو مستحکم کر دیا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم اپنے عزیز ترین نصب العین پاکستان کو حاصل نہ کر لیں۔‘
آخر میں آپ نے ادارے کی خدمات کی تعریف فرمائی جس کی وجہ سے یتامیٰ آج خوش و خرم نظر آ رہے ہیں اور اپنی طرف سے مبلغ پانچ صد روپیہ کا گراں قدر عطیہ عطا فرمایا۔ اس کے بعد سردار آتما سنگھ نامدھاری بانی تحریک عبادت نے مختصر الفاظ میں غریبوں اور یتیموں کی امداد کے لیے تقریر فرمائی اور پانچ صد روپیہ نقد کے علاوہ تمام یتامیٰ کو کوٹ سلوا دینے کا وعدہ فرمایا۔
قائد اعظم نے انجمن فیض الاسلام کے دورے کے موقع پر عطیے کا جو اعلان کیا تھا اس کی ادائیگی کے لیے انہوں نے واپس جا کر 30 ستمبر کو ایک خط راجہ غلام قادر غبار کو لکھا، جس کے ساتھ 500 روپے کا چیک بھی تھا جو نیشنل آرکائیو میں محفوظ ہے۔
1944 میں دس گرام سونے کی قیمت 53 روپے تھی، جس کی قدر آج کے حوالے سے ہم دیکھیں تو یہ 35 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے جو قائد اعظم نے عطیہ کی تھی۔
یتیم خانے کی ابتدا کیسے ہوئی؟
انجمن فیض الاسلام راولپنڈی کی بنیاد رکھنے میں تین لوگ شامل تھے۔ راجہ غلام قادر غبار، پیزادہ نور احمد قدوسی اور محمد حسین صادق، راجہ غلام قادر غبار سماجی بہبود کے کاموں میں پیش پیش رہتے تھے ان کا تعلق ظفر وال سیالکوٹ سے تھا۔ وہ مدرسہ تعلیم القرآن لاہور سے بطور سفیر وابستہ تھے جب انہوں نے خود کو انجمن فیض الاسلام کے لیے وقف کر دیا۔
وہ چندہ جمع کرنے کی مہم پر ہندوستان کے کئی شہروں میں گئے۔ بعد ازاں ملائیشیا اور انڈونیشیا کا دورہ بھی کیا۔ پیرزادہ نور احمد قدوسی، مسلم لیگی رہنما پیرزادہ راحت مسعود قدوسی کے دادا کے بھائی تھے۔ پہلے روز سات روپے ایک آنہ کا چندہ جمع ہوا۔ آستانہ گولڑہ شریف نے بھی یتیم خانہ کے لیے 28 روپے عطیہ کیے۔
تاہم جس واقعے نے اسے علاقے بھر میں متعارف کروایا وہ راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر ایک خاتون کی وفات تھی جس کے ساتھ تین معصوم بچے بھی تھے۔ جب مشنریز یہ بچے تحویل میں لینے کے لیے آئیں تو مسلمانوں نے کہا کہ یہ مسلمان بچے ہیں، انہیں ان کے حوالے کیا جائے۔ چنانچہ جب انجمن فیض الاسلام کی کفالت میں یہ بچے آئے تو شہر بھر میں یہ خبر پھیل گئی کہ انجمن نے تین بچوں کو غیر مسلم ہونے سے بچا لیا ہے۔
پاکستان بننے کے بعد 1962 میں راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر اوجڑی گاؤں میں 102 کنال زمین خریدی گئی جس میں سے 72 کنال پاکستان آرمی کو لیز پر دی گئی جو سالانہ کرایہ ادا کرتی ہے۔ اسی جگہ پر انجمن کے تاحیات صدر میاں حیات بخش نے 1964 میں مرکزی کیمپس کی تعمیر شروع کی تھی جہاں انجمن کا صدر دفتر، سیکرٹریٹ، بچوں کی اقامت گاہ، سیکنڈری سکول، شعبہ تعلیم القرآن، پبلک لائبریری، ڈسپنسری اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ قائم ہیں۔
یہاں 500 بچوں کا ہاسٹل بھی ہے۔ ٹرنک بازار، مندرہ، دوبیرن اور پکا کھوہ میں بھی ادارے کے کیمپس قائم ہو چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر اس وقت 1100 یتیم بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ادارے کے زیرِ اہتمام اس وقت فیض الاسلام ہائی سکول ٹرنک بازار، فیض الاسلام ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، بوائز ہائی سکول مندہ، گرلز سیکنڈری سکول مندرہ، انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، الزینب ووکیشنل سینٹر مندرہ، مڈل سکول دوبیرن بھی چل رہے ہیں۔
فاطمہ جناح سمیت کس کس نے انجمن فیض الاسلام کا دورہ کیا؟
ٹرنک بازار والے کیمپس میں تقسیم سے پہلے سناتم دھرم سکول تھا جسے محکمہ اوقاف نے کرائے پر انجمن کو دے دیا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے 22 اکتوبر 1962 کو اسی کیمپس کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے انجمن کو 10,000 روپے بطور عطیہ دیے تھے۔ تب سونا 132 روپے تولہ تھا اگر اس کو آج کے سونے کی قیمتوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ رقم سوا تین کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔
فاطمہ جناح ان دنوں جنرل ایوب کے مارشل لا کے خلاف ملک بھر کا دورہ کر رہی تھیں تاہم راولپنڈی کے دورے کی دعوت انہیں انجمن کے تاحیات صدر میاں حیات بخش نے دی تھی۔ اس موقعے پر تصاویر میں انہیں بچوں کی جانب سے پیش کیے گئے ٹیبلو میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اور تصویر میں میاں حیات بخش، ہیڈ ماسٹر شیخ حبیب اور نائب صدر ملک خدا بخش مسلم لیگی خواتین کے ساتھ ان کا استقبال کر رہے ہیں۔
فاطمہ جناح نے انجمن کی تعریف کی اور کہا کہ اسلام میں یتیموں کی کفالت پر زور دیا گیا ہے اور قائداعظم بھی یتیموں کی تعلیم و تربیت میں پیش پیش رہتے تھے۔ انجمن کا دورہ کرنے والی دیگر اہم شخصیات میں نوبیل انعام یافتہ مدر ٹریسا، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زید، امام کعبہ، جنرل ضیا الحق، صدر رفیق تارڑ، وزیراعظم شوکت عزیز، امریکی سینیٹر شیلا جیکسن، وزیراعظم معراج خالد، چیئرمین سینیٹ میاں محمد سومرو، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عبد القیوم خان اور ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔

<p class="rteright">27 جولائی 1944 کو قائد اعظم نے انجمن فیض الاسلام راولپنڈی کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر راجہ غلام قادر غبار، سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی، پیر زادہ نور احمد قدوسی، محمد حسین صادق اور دوسرے عمائدین شہر بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔ (تصویر بشکریہ انجمن فیض الاسلام آرکائیوز)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/QBDS6nc