عمران خان کی بصارت پر بصیرت

News Inside

جب ریاست کسی سیاسی مخالف کو قید کرتی ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک قانونی ذمہ داری منسلک نہیں ہوتی بلکہ ایک انسانی ذمہ داری بھی جنم لیتی ہے۔ قید کسی شخص کی آزادی محدود کر سکتی ہے، اس کی انسانیت نہیں۔

یہ ہی بنیادی اصول آج پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت، خصوصاً ان کی بینائی اور اب ہائی بلڈ پریشرکے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کو ایک بڑے سیاسی اور انسانی حقوق کے مسئلے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

عمران خان کی سیاسی شخصیت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کی حکومت، ان کی پالیسیوں، ان کے سیاسی طرزِ عمل اور ان کے فیصلوں پر سخت تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیرِ بحث رہے ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ آئینی اور عدالتی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن ایک سوال ایسا ہے جس کا تعلق نہ تحریک انصاف سے ہے، نہ مسلم لیگ ن سے، نہ پیپلز پارٹی سے اور نہ کسی اور سیاسی جماعت سے۔ وہ سوال یہ ہے کہ ریاست کی تحویل میں موجود ایک انسان کو مناسب، بروقت اور قابلِ اعتماد طبی سہولت مل رہی ہے یا نہیں؟

حالیہ دنوں میں عمران خان کی بینائی کے حوالے سے تشویش سامنے آئی۔ ان کے اہل خانہ اور سیاسی نمائندوں نے طبی سہولیات اور آنکھوں کے علاج کے بارے میں سوالات اٹھائے، جبکہ حکومتی مؤقف یہ رہا کہ انہیں مناسب طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں سرکاری طور پر تشکیل دیے گئے طبی بورڈ کی جانب سے ان کی بینائی میں بہتری کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک ہی طبی معاملے پر ریاستی اداروں اور عمران خان کے خاندان یا سیاسی نمائندوں کے بیانات مختلف ہوں تو عام شہری کس پر یقین کرے؟

اس سوال کا جواب سیاسی بیان نہیں بلکہ آزاد اور شفاف طبی معائنہ ہونا چاہیے تھا۔

اگر عمران خان کی صحت بہتر ہے تو ایک معتبر اور آزاد طبی معائنہ اس حقیقت کو ثابت کر دے گا۔ اگر انہیں مزید علاج یا کسی ماہرِ امراضِ چشم کی ضرورت ہے تو وہ سہولت بلا تاخیر فراہم ہونی چاہیےتھی۔ اگر مختلف ڈاکٹروں کی رائے میں اختلاف ہے تو کسی غیر جانب دار طبی ماہر یا آزاد میڈیکل بورڈ سے حتمی رائے لی جا سکتی تھی اس معاملے کو سیاسی جنگ بنانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

بدقسمتی سے پاکستان میں ہم نے سیاست کو اس قدر زندگی کے ہر شعبے میں داخل کر دیا ہے کہ کبھی ہسپتال سیاست کا میدان بن جاتے ہیں، کبھی عدالتیں، کبھی پارلیمنٹ اور کبھی جیل کا میڈیکل روم۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بیماری بھی پہلے یہ پوچھتی ہے کہ مریض کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے، پھر علاج شروع ہوتا ہے۔ اگر مریض حکومت کا مخالف ہو تو تشخیص بھی سیاسی، دوا بھی سیاسی اور میڈیکل بورڈ بھی سیاسی بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ شاید یہ ہی ہماری سیاست کا وہ مقام ہے جہاں طنز بھی بے بس ہو جاتا ہے۔

مگر یہ صرف عمران خان کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کے ریاستی نظام کا مسئلہ ہے۔

ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب وہ اپنے حامیوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کے سامنے ایسا شخص ہو جس سے ریاست یا حکومت شدید سیاسی اختلاف رکھتی ہو۔ ایک مضبوط ریاست اپنے مخالف سے خوف زدہ نہیں ہوتی۔ اسے اپنے مخالف کی صحت کے بارے میں شفافیت سے خوف نہیں آتا۔ اسے آزاد ڈاکٹروں کے معائنے سے خطرہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ قانون کی طاقت شفافیت سے بڑھتی ہے، پردہ پوشی سے نہیں۔

پاکستان کی تاریخ ہمیں اس معاملے میں بہت تلخ سبق دیتی ہے۔ ہم نے سیاسی انتقام کا وہ چکر بارہا دیکھا ہے جس میں آج کا حکمران کل کا قیدی بن جاتا ہے، آج کا فاتح کل کا ملزم اور آج کا طاقتور کل کا مظلوم۔ ہر حکومت اپنے دور میں یہ یقین رکھتی ہے کہ اس کے فیصلے قومی مفاد میں ہیں، اور جب اقتدار بدلتا ہے تو وہی اصول دوسری طرف سے اسی حکومت کے خلاف استعمال ہونے لگتے ہیں۔

ہماری سیاسی تاریخ کا شاید سب سے افسوسناک مذاق یہ ہی ہے کہ ہر آنے والی حکومت اعلان کرتی ہے کہ وہ انتقام کی سیاست ختم کرے گی لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی اسے پچھلی حکومت کے بنائے ہوئے تمام سیاسی ہتھیار اچانک بہت مفید محسوس ہونے لگتے ہیں۔ پھر نئی حکومت بھی وہی پرانے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے، اور کچھ عرصے بعد نئی اپوزیشن بھی وہی شکایت کرتی ہے جو کل کی حکومت کرتی تھی۔ یوں نظام بدلنے کے بجائے صرف کردار بدلتے رہتے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کی قید اور صحت کا معاملہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کیا پاکستان میں ریاست حکومت سے بڑی ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کی جیلوں میں ہزاروں ایسے قیدی ہیں جن کے نام ٹی وی سکرینوں پر نہیں آتے۔ ان کے پاس سیاسی جماعتیں نہیں، بڑے وکیل نہیں، لاکھوں سوشل میڈیا فالوورز نہیں۔ اگر ریاست عمران خان کے معاملے سے ایک شفاف اور انسانی نظام قائم کرتی ہے تو اس کا فائدہ صرف ایک سیاسی رہنما کو نہیں ہوگا بلکہ ہر قیدی کو ہوگا۔

یہاں حکومت ایک تاریخی موقع رکھتی ہے۔

وہ عمران خان کی صحت کو ایک اور سیاسی محاذ بنانے کے بجائے اسے ریاستی شفافیت کی مثال بنا سکتی ہے۔ آزاد طبی ماہرین کو رسائی دی جا سکتی ہے، طبی رپورٹس کو مناسب حد تک شفاف بنایا جا سکتا ہے، خاندان کو ضروری معلومات دی جا سکتی ہیں ملاقات کروا کر قیدی کی صحت پر اطمینان دلایا جاسکتا ہے اور کسی بھی طبی اختلاف کو آزاد ماہرین کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

اگر یہ تمام حقوق عمران خان کو دیے جاتے ہیں تو یہ اقدامات عمران خان کو سیاسی طور پر آزاد نہیں کریں گے۔ نہ ہی ان کے خلاف مقدمات ختم کریں گے۔ لیکن یہ ایک ایسی ریاست کا تصور ضرور مضبوط کریں گے جہاں قانون سزا دے سکتا ہے مگر انسانیت نہیں چھین سکتا۔

یہ فرق معمولی نہیں۔

کیونکہ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے مخالف کو کتنا دباؤ میں لا سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کے ساتھ اختلاف کے باوجود اس کے حقوق کا کتنا احترام کرتی ہے؟

اگر عمران خان عدالت کے فیصلے کے تحت قید ہیں تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔ اگر ان کے خلاف مقدمات ہیں تو وہ عدالتوں میں چلیں جیل میں نہیں۔  اگر ان کے خلاف سیاسی الزامات ہیں تو سیاسی میدان میں ان کا جواب دیا جائے۔ لیکن خدا کے لیے ان کی صحت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔

ڈاکٹر کا کام علاج ہے، سیاست دان کا کام سیاست اور عدالت کا کام انصاف دینا ہے لیکن جب یہ تینوں ذمہ داریاں ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں تو ریاست کمزور ہوجاتی ہے، سسٹم بیٹھ جاتے ہیں جس کی طرف گذشتہ دنوں وزیر داخلہ نے اقرار بھی کیا تھا۔

پاکستان کو آج ایک ایسے ریاستی رویے کی ضرورت ہے جو اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کے بجائے قانون کی بالادستی ثابت کرے۔ کیونکہ سیاسی انتقام کی روایت کسی ایک جماعت کو ہمیشہ فائدہ نہیں دیتی۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو آج مخالف کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور کل ہمارے اپنے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔

شاید یہ ہی وہ سبق ہے جو ہماری سیاسی تاریخ ہمیں بار بار سکھاتی رہی ہے، مگر ہم ہر بار امتحان میں وہی پرانا سوال دوبارہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عمران خان کا سیاسی مستقبل بالآخر عدالتیں، آئین، انتخابات اور عوام طے کریں گے۔ لیکن ان کی صحت کا فیصلہ سیاست نہیں، طب کرے گی۔ اگر انہیں علاج کی ضرورت ہے تو علاج ملنا چاہیے۔ اگر وہ صحت مند ہیں تو آزاد طبی ماہرین اس کی تصدیق کریں۔ اگر کوئی اختلاف ہے تو اسے شفاف طریقے سے حل کیا جائے۔

کیونکہ ایک ریاست کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ اپنے مخالف کو خاموش کرا دے۔ عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنے مخالف کی آواز سے اختلاف کرتے ہوئے بھی اس کی زندگی اور وقار کی حفاظت کرے۔

آج عمران خان جیل میں ہیں کل کوئی اور سیاسی رہنما ہو سکتا ہے۔ اقتدار کے چہرے بدلتے رہیں گے۔ لیکن اگر ریاست نے ایک ایسا اصول قائم کر دیا کہ قیدی کی سیاسی شناخت سے قطع نظر اس کی صحت، عزت اور بنیادی حقوق محفوظ رہیں گے تو یہ اصول ہر پاکستانی کے کام آئے گا۔

ایک قیدی اپنی آزادی کھو سکتا ہے، لیکن ریاست کو اپنی انسانیت نہیں کھونی چاہیے۔

اور شاید پاکستان کے لیے آج سب سے اہم سوال یہ ہی ہے۔ ہم ایسی ریاست بننا چاہتے ہیں جو اپنے مخالف کو سزا دے، یا ایسی ریاست جو سزا دیتے ہوئے بھی قانون، انسانیت اور اپنے آئینی وقار کو زندہ رکھے؟

اس سوال کا جواب صرف عمران خان کے بارے میں نہیں ہوگا۔

یہ پاکستان کے بارے میں ہوگا۔

ڈاکٹر کا کام علاج ہے، سیاست دان کا کام سیاست اور عدالت کا کام انصاف دینا ہے لیکن جب یہ تینوں ذمہ داریاں ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں تو ریاست کمزور ہوجاتی ہے، سسٹم بیٹھ جاتے ہیں جس کا وزیر داخلہ نے اقرار بھی کیا تھا۔
منگل, اگست 11, 2026 - 07:00
Main image: 

<p class="rteright">یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان&nbsp;سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ (اے ایف پی/ فائل فوٹو)</p>

type: 
SEO Title: 
عمران خان کی بصارت پر بصیرت


from Independent Urdu https://ift.tt/CKThqbA

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;