افغانستان میں طالبان کے پانچ سال کی ’سموتھ سیلنگ‘

News Inside

کئی ممالک کے دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی کڑی تنقید کے باوجود افغانستان میں طالبان نے اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کر لیے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں ایک اہم پہلو کا ناپید ہونا ہے۔ وہ پہلو کیا ہے؟ 

اگست 2021 میں کابل پر دوبارہ قبضے کے بعد بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ افغان طالبان کو جلد ہی شدید سیاسی اختلافات، معاشی بحران اور مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود طالبان نہ صرف اقتدار میں موجود ہیں بلکہ ان کا ملک کے تقریباً تمام ریاستی اداروں پر مکمل کنٹرول برقرار ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں کوئی مؤثر سیاسی یا فوجی اپوزیشن ابھر نہیں سکی۔

اس سے قبل طالبان کی پہلی حکومت میں وہ سو فیصد ملک پر قابض بھی نہیں تھے اور انہیں پنج شیر میں احمد شاہ مسعود کی عسکری مزاحمت کا سامنا تھا۔

افغانستان کی حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ منظم سیاسی مخالفین یا مضبوط مسلح مزاحمت ہوتی ہے۔

طالبان کے معاملے میں نہ تو کوئی فعال اور متحد سیاسی محاذ تشکیل پا سکا اور نہ ہی کوئی ایسی عسکری تحریک سامنے آئی جو ان کے اقتدار کے لیے حقیقی چیلنج بن سکے۔

سیاسی جماعتوں پر پابندی ہے لہذا ملک کے اندر نہ تو اسے کوئی سیاسی چیلنج درپیش ہے اور نہ ہی متحدہ اپوزیشن۔

اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد بیشتر اہم رہنما ملک چھوڑ گئے۔ جلاوطنی میں موجود یہ رہنما ابھی تک کسی متفقہ ایجنڈے، قیادت یا متبادل نظام حکومت پر اتفاق نہیں کر سکے۔

ان میں سے اکثر سوشل میڈیا کی حد تک تو ’کی بورڈ واریئرز‘ بنے ہوئے ہیں لیکن زمین پر کچھ نہیں۔ نتیجتاً افغان عوام کے پاس طالبان کے مقابلے میں کوئی واضح سیاسی متبادل موجود نہیں۔

افغانستان میں طالبان کے سخت کنٹرول کی وجہ سے سول سوسائٹی بھی اگر ناپید نہیں تو سرگرم نہیں۔ اختلاف رائے رکھنے والے کئی کارکنوں اور صحافیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس صورت حال میں عام شہریوں کی جانب سے کسی چیلنج کا ابھرنا مشکل ہے۔

فوجی محاذ پر بھی طالبان کے مخالف گروہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔

پنج شیر اور شمالی افغانستان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) سمیت بعض مزاحمتی گروہوں نے حملے کیے، مگر وہ کسی علاقے پر مستقل کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہے۔

ان گروہوں کے پاس نہ تو طالبان جیسا جنگی ڈھانچہ ہے، نہ محفوظ پناہ گاہیں، نہ مضبوط مالی وسائل اور نہ ہی کوئی بڑی بیرونی سرپرستی۔

پاکستان کی شمالی سرحد سے منسلک بدخشاں صوبے میں کچھ چھڑپیں گذشتہ چند ماہ سے جاری ہیں لیکن ان کے پھیلنے کے امکانات کم ہیں۔

طالبان نے اس علاقے میں مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے مزید سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

بدخشاں میں مزاحمت میں پیس پیش کمانڈر جمعہ خان فتح نے بھی تاہم ایک آڈیو پیغام میں کہا وہ اب بھی طالبان تحریک کا حصہ ہیں اور رہیں گے۔

بعض مبصرین کے مطابق یہ جھگڑا بھی مقامی معدنیات پر زیادہ اور سیاسی کم ہے۔

آج کی صورت حال 1990 اور 2000 کی دہائیوں سے بالکل مختلف ہے، جب طالبان خود حکومت مخالف تحریک تھے اور انہیں سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں، مالی معاونت اور مختلف سطحوں پر علاقائی حمایت حاصل تھی۔

آج طالبان کے مخالف گروہوں کے پاس ایسی سہولت موجود نہیں۔ اس لیے ان کی کارروائیاں زیادہ تر علامتی رہتی ہیں اور ملک کے طاقت کے توازن کو تبدیل نہیں کر پاتیں۔

طالبان کی بقا کی ایک اور اہم وجہ ریاستی طاقت پر ان کی اجارہ داری ہے۔ افغان فوج، پولیس، انٹیلی جنس ڈھانچہ اور سرحدی نظام مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنے جنگجوؤں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ضم کر کے ایک ایسی سکیورٹی مشینری قائم کر لی ہے جو ملک بھر میں ان کی عمل داری قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے نظم و ضبط اور نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے بعض اقدامات ضرور کیے ہیں، تاہم عدلیہ میں نگرانی اور احتساب کے حوالے سے شفافیت کا فقدان ہے۔

امدادی مشن (یوناما) کی رپورٹ میں نام نہاد سکیورٹی اینڈ فلٹریشن کمیشن اور وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے اداروں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے، جو طالبان کی شریعت کی سخت تشریح کے مطابق قائم کیے گئے اور جنہوں نے سابق آئینی اداروں کی جگہ لے لی ہے۔

اس میں کہا گیا کہ طاقت کے استعمال، گرفتاری، حراست، تلاشی اور ہجوم سے نمٹنے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے اقدامات سے متعلق قواعد کو واضح کرنا ضروری ہے۔

یوناما کی سربراہ اور افغانستان کے لیے سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے کہا کہ حکام یا انتظامی اہلکاروں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات، ان پر کی جانے والی تحقیقات اور متعلقہ طالبان حکام کی جانب سے کی جانے والی محکمانہ یا عدالتی کارروائیوں کے بارے میں عوامی سطح پر محدود معلومات اعتماد کو متاثر اور قانون شکنی کو روکنے کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی معطلی کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں کا احتساب کمزور پڑ گیا ہے۔

پاکستان کے ساتھ گذشتہ 10 ماہ کی شدید کشیدگی بھی محدود نوعیت کی ہے اور فل الحال کسی بڑی جنگ کا امکان نہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان نے داعش خراسان کو بھی آہنی ہاتھوں سے ڈیل کیا ہے جس کی وجہ سے اس کی حملے کرنے کی صلاحیت محدود رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ طالبان کو کوئی چیلنج درپیش نہیں۔ افغانستان کو بدستور اقتصادی مشکلات، انسانی بحران، داعش خراسان کے حملوں اور عوامی بے چینی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

لیکن ان مسائل میں سے کوئی بھی ابھی تک ایسی منظم سیاسی یا عسکری تحریک میں تبدیل نہیں ہو سکا جو طالبان کے اقتدار کو ہلا سکے۔

کابل پر دوبارہ قبضے کے بعد خیال تھا کہ افغان طالبان کو شدید سیاسی اختلافات، معاشی بحران اور مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا؟
ہفتہ, اگست 15, 2026 - 07:45
Main image: 

<p class="rteright">13 اگست، 2026 کو افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ کے موقعے پر کابل میں ایک چوک پر سوویت دور کے ایک فوجی ٹینک کو کرین کے ذریعے نصب کیا جا رہا ہے(واکیل کوہسار / اے ایف پی)</p>

jw id: 
yspTJNaG
type: 
SEO Title: 
افغانستان میں طالبان کے پانچ سال کی ’سموتھ سیلنگ‘


from Independent Urdu https://ift.tt/7ZgGFTU

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;