تمغے

News Inside

ملک کے 80ویں یوم آزادی پہ صدارتی سول انعامات کا اعلان ہوا تو وہی ہوا جو ہر برس ہوتا ہے۔ ایک طوفان اٹھا، جن کو تمغے مل گئے وہ اور جن کو حق دار ہونے کے باوجود نہ ملے وہ بھی مخمصے کا شکار ہیں۔

شرمندہ ہم بھی ہیں کیونکہ ہر برس ہی ہمارے کوئی دس بارہ دوستوں کو تمغے مل جاتے ہیں۔ خوشی اس بات پہ ہوتی ہے کہ ہمارے دوستوں کو تمغے ملے اور حیرت بھی اسی بات پہ کہ ہمارے دوستوں کو تمغے ملے؟

پچھلے کئی برس سے بہت قریبی لوگ اس فہرست میں شامل تھے، اس لیے بوجہ اقربا پروری اس موضوع پہ اچھا برا کچھ نہ لکھا۔ اس برس سوچا کہ دیکھیں آخر واویلا کیا ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ نابغے روز پیدا نہیں ہوتے اور ایک رو بہ زوال قوم میں تو خال ہی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے چاروں طرف ایسے کئی حیرت انگیز لوگ موجود ہیں کہ ان کے ہونے سے یہ گمان رہتا ہے کہ ہم ابھی مکمل طور پہ نابود نہیں ہوئے۔

مزے کی بات یہ کہ ان شمار کیے ہوئے چند کو یہ سول ایوارڈز ملتے ملتے کبھی کبھار اتنی دیر ہو جاتی ہے کہ ایوارڈ کا ملنا یا نہ ملنا بے معنی سا رہ جاتا ہے۔

کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ ایسوں کو عمر بھر تمغہ نہیں ملتا، گو انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی لیکن ایسی نا انصافی سے ایوارڈ کی قدر گھٹ جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تو ہوئے چند حقائق۔ ایک غوغا جو ہمیشہ سننے کو ملتا ہے وہ یہ کہ فلاں ناچنے والی کو ایوارڈ کیوں مل گیا یا فلاں گانے والے کو قومی ایوارڈ کیوں دے گیا۔ عرض یہ ہے کہ فنون لطیفہ سے وابستہ ان لوگوں کے لیے بھی باقاعدہ کیٹگری ہوتی ہے۔ یہ بھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں، آپ کو اور مجھے ہنساتے ہیں، تفریح فراہم کرتے ہیں۔ یہ ہم ہی ہیں۔

خاص طور پہ اس قسم کا اعتراض خواتین فنکاروں پہ ہوتا ہے۔ خیر جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں وہ ہر بات پہ اعتراض برائے اعتراض کرتے ہیں۔

بات پھر وہی آ جاتی ہے کہ آخر ان سول ایوارڈز سے لوگ مطمئن کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے کئی حل ہو سکتے ہیں، ایک حل تو ہم ابھی پیش کر دیتے ہیں، سادہ آسان اور فوری۔

تمام انعام یافتگان کے شعبوں میں ان کی خدمات دیکھیں اور یقیناً یہی اس ایوارڈ کا طریقہ ہے۔ اچھا اگر ان کی خدمات پہ شک ہے اور کوئی اور ان کے مقابلے پہ موجود ہے تو اس کا نام اور خدمات بتائیے، تاکہ بحث کسی منطقی نتیجے تک پہنچے۔

میری حقیر رائے میں چند افراد کے سوا کئی لوگ حق دار بھی ہوتے ہیں، اس غوغے سے نہ صرف ان کے نام پہ حرف آتا ہے بلکہ ایک ایوارڈ جو کہ قومی وقار کی علامت ہے ،اس کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔

ساتھ کے ساتھ میری ان افراد سے بھی دست بستہ اپیل ہے جو اپنے اثرو رسوخ کے بل بوتے پہ یہ ایوارڈ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے سمیٹتے ہیں کہ باز آ جائیں،  کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔

تیسری بات جو معترضین کو کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کے خیال میں جو لوگ واقعی اس انعام کے حق دار نہیں ہیں، ان کے نام اور نااہلی کی وجوہات یا تو متعلقہ اداروں کو بھیج دیں یا کسی اور ذریعے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیں۔ تمغہ لینے والوں کو ’گیس لائٹ‘ نہ کریں کہ ہائیں! آپ نے واپس کیوں نہیں کیا یہ انعام؟ آپ فلاں فلاں کے ساتھ سٹیج پہ جائیں گے؟

جنہیں شرمندہ کیا جانا چاہیے ان کے ساتھ تو آپ شامیں منا رہے ہیں اور باقیوں کو دھمکا رہے ہیں؟ تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

کچھ انعام یافتگان ایسے بھی ہیں جو اپنے سوشل میڈیا پہ اپنے انعام کا دفاع کرنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑے ہو گئے ہیں، نہ کیجئے، بہت برے لگ رہے ہیں۔

سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ کچھ ایوارڈز کو عدالت میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔ سول سوسائٹی ہمیشہ عوام کے حقوق کی محافظ رہی ہے۔ بات پھر وہی کہ خرابی کی نشاندہی مکمل طور پہ کیجیے اور خرابی کو جڑ سے ختم کیجیے۔

صدارتی ایوارڈز ایک قابل احترام سول اعزاز ہے، برائے مہربانی اسے دیگر سول شعبوں کی طرح مذاق نہ بننے دیں۔ تمغہ لینے کی خواہش ہے تو خود کو اس قابل بنائیں کہ تمغہ دینے والوں کو بھی فخر ہو اور دیکھنے والوں کے بھی سر بلند ہوں ورنہ یہ ہے کہ میمز بنتے رہیں گے۔

جنہیں ایوارڈ ملے ہیں وہ انعام پا کے بھی شرمسار رہیں گے اور جنہیں ایوارڈ نہیں ملے وہ انعام ملنے والوں کو دیکھ دیکھ کے شرمندہ ہوتے رہیں گے۔ بقول شخصے ’شرمندگی ہی شرمندگی ہے، یہ بھی کوئی زندگی ہے؟‘

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا صروری نہیں۔

جنہیں ایوارڈ ملے ہیں وہ انعام پا کے بھی شرمسار رہیں گے اور جنہیں ایوارڈ نہیں ملے وہ انعام ملنے والوں کو دیکھ دیکھ کے شرمندہ ہوتے رہیں گے۔ بقول شخصے ’شرمندگی ہی شرمندگی ہے، یہ بھی کوئی زندگی ہے؟‘
جمعہ, اگست 21, 2026 - 07:45
Main image: 

<p class="rteright">کچھ انعام یافتگان ایسے بھی ہیں جو اپنے سوشل میڈیا پہ اپنے انعام کا دفاع کرنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑے ہو گئے ہیں (اینواتو)</p>

type: 
SEO Title: 
تمغے


from Independent Urdu https://ift.tt/cYw172n

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;