سندھ کے تاریخی شہر خیر پور سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ایک چھوٹا سا گاؤں۔ نام میر نواز رند جسے غربت نے ہے گھیرا۔ کچے پکے مکان جہاں دیہاتیوں کا ہے بسیرا۔ اردگرد ہرے بھرے کھیت اور کھجوروں سے لدے ہوئے درختوں کا جھرمٹ۔ لیکن نہ وڈیروں کی طرح کھیتوں کی ملکیت اور نہ ہی مالدار درختوں پر کوئی مالکانہ حق حاصل ہے۔
گاؤں کی مشکلات بھری زندگی کا عکس مکانوں اور کھیتوں کے درمیان بہتی ندی کے گدلے پانی میں دھندلا سا جاتا ہے۔ ندی میں تیرتی ہوئی بھینسیں، کنارے پر درختوں کے نیچے پڑی چارپائیوں پر سستاتے گاؤں کے بوڑھے اور قریب ہی ننگے بدن کھیلتے بچے نظر آتے ہیں۔
چند برس قبل سندھ میں آئی سیلابی آفت نے جہاں صوبہ بھر میں تباہ کاریاں مچائیں وہاں گاؤں کی غربت بھری جھونپڑیوں اور کچے مکانات کو بھی بہا لے گیا تھا۔ گاؤں کی رہائشی حلیمہ خاتون اسی آزمائشی ماحول میں اپنی زندگی اور بچوں کی تعلیم کے خوابوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حلیمہ نو سال سے بکریوں کی خریدو فروخت کا کاروبار کر رہی ہے لیکن سیلاب میں بہت کچھ کھو جانے کے بعد اب اپنے خاندان کو زندگی سے دوبارہ جوڑنے میں مصروف ہیں۔ خود ان پڑھ لیکن اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے خوابوں دیکھتی ہیں۔
حلیمہ خاتون کی کل جمع پونجی ۔ چار بکریاں ۔ پانچ بیٹے، دو بیٹیاں اور ایک کمرے اور برآمدے پر مشتمل مکان۔ اس کے علاوہ اپنے شوہر کے ساتھ خریدی ہوئی ایک لاڈلی موٹر سائیکل بھی ہے، جو اس کی چھوٹی بیٹی پروین کے خیرپور شہر میں کالج آنے جانے کے لیے ہے۔
حلیمہ نے کاروبار کا آغاز بیس ہزار روپے کے چھوٹے قرضے کے ساتھ شروع کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ قافلہ بنتا گیا۔ حلیمہ کی طرح گاؤں کی باقی عورتوں نے بھی چھوٹے موٹے کاروبار کا آغاز کیا۔ پھر آس پاس کے دیہاتوں کی خواتین بھی شامل ہوگئیں۔
دس ہزار سے تین لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضوں کی فراہمی اور ان کی ریکوری ایک منظم طریقہ کار سے ہوتی ہے۔ عمل درآمد کی ذمہ داری سندھ حکومت کی تنظیم سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور اس کے صوبہ بھر میں پھیلے ہوئے سینکڑوں کارکنوں کی ہے۔ مقصد غربت سے چھٹکارا اور خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔ تنظیم کی بنیاد تو فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی گلگت بلتستان میں کامیابی سے متاثر ہو کر ڈالی گئی تھی۔ تاہم اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے دور میں ہی ہوا ہے۔
تین لاکھ کے لگ بھگ خواتین اس وقت بلاسود قرضوں سے چھوٹے کاروبار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہی ہیں۔ میرا بالائی سندھ کافی عرصہ بعد جانا ہوا۔ سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور کے دیہاتوں میں ان خواتین سے ملاقات ہوئی اور ان کی کہانیاں خود ان کی زبانی سنیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان خواتین کو بلاؤل بھٹو اور آصفہ کے ساتھ اپنی ہی دستکاری والی رلیوں پر بیٹھ کر کاروبار کی ترقی اور مسائل بیان کرنا یاد ہے۔ بار بار ذکر کرتی ہیں۔ بیشتر خواتین یا تو ان پڑھ یا چار پانچ جماعتوں تک پڑھی ہوئی ہیں۔ غربت لیکن ہمت کی بےشمار کہانیاں۔
شکار پور کی مہناز مہر کا چائے کے ڈھابہ سے ’ساریان‘ ریستوران تک کا سفر۔ لاڑکانہ کے مضافاتی علاقے کی شاہ بانو جو شادی کے بعد گھریلو تشدد کا شکار ہوئی۔ سوئی دھاگہ کے کاروبار سے آغاز کیا۔ پھر سلائی مشین خریدی۔ خود شاہ بانو کے الفاظ میں، ’سلائی کرتے محسوس ہوتا تھا جیسے اپنے ہی زخموں کو سوئی دھاگہ سے سی رہی ہوں۔‘ تن تنہا سفر کا آغاز کیا لیکن اب پچاس کے لگ بھگ خواتین ساتھ کام کر رہی ہیں۔ شاہ بانو کی ’سروان بوتیک‘ کی مالکن بننے کی کہانی۔
قریب ہی گاؤں کمبی کی لڑکی روزینہ سیال کی داستان۔ تعلیم بارہویں جماعت تک۔ حالیہ سیلاب میں سکول کے کیمپ میں پناہ لینی پڑی، نہ زیور، نہ پیسے اور نہ ہی مال مویشی۔ خاندان کی مخالفت کے باوجود دو لاکھ روپے کا قرضہ لے کر کاروبار کی ٹھانی۔ خواتین کے سینٹری نیپکن بنانے سے آغاز کیا۔ اب ’سوئی دھاگہ‘ کے نام سے ایک سینٹر قائم کیا ہے۔ آس پاس کے کئی دیہاتوں کی خواتین سے روایتی دستکاری کا کام لیتی ہیں۔ ستر، اسی عورتیں اور لڑکیاں روزینہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ فیس بک پیج ہے، انسٹاگرام اکاؤنٹ ہے۔
موہن جو داڑو گاؤں کی لڑکی سمرین سولنگی۔ ہزاروں برس پرانی تہذیب کے میوزیم میں رکھے مجسموں اور مہروں کی نقل مٹی سے تراشتی ہے۔ مٹی کی جیولری بنا دیتی ہے۔ اپنے پرکھوں کے ہنر کو ماڈرن کاروبار بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
خیرپور کے دیہات کی چار جماعتیں پڑھی ہوئی شہربانو کیلے کے تنوں سے دھاگہ، رسی اور کپڑا بنا رہی ہے۔ اپنے کاروبار کو ماحول دوست قرار دیتی ہیں۔ آٹھ سال قبل پندرہ ہزار روپے کے قرضہ سے کاروبار کو لاکھوں کی مالیت کا بنا لیا۔ حال ہی میں یورپین یونین کی 25 لاکھ روپے کے قرضہ کی گرانٹ کے لیے درخواست دی۔ بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہتی ہیں۔
بکریوں کا کاروبار کرنے والی حلیمہ خاتون ہو یا کیلے کے تنوں سے ماحول دوست کاروبار کرنے والی شہربانو، ان خواتین کے پاس اب اپنا شناختی کارڈ ہے۔ خود بینک جا کر اکاونٹ کھلوایا ہے۔ اپنی کمائی سے خاندانوں کی کفالت کر کے خود اعتمادی حاصل کی ہے۔
شہروں کے تعلیم یافتہ لوگوں کو یہ سماجی پیش رفت عام محسوس ہو۔ تاہم ان پسماندہ علاقوں میں جہاں خواتین فرسودہ روایتوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہوں ان کے لیے کاروبار کرنا تو کجا گھروں سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہ پیش رفت انقلابی تبدیلیوں سے کم نہیں۔
میں بھی سندھ کے معاشرے میں پلا بڑھا ہوں۔وڈیرہ شاہی، عزت کے نام پر قتل، کاروکاری جیسی ظالم روایتیں، بچیوں کی کم عمر میں شادیاں اور اب عورتوں کا کاروبارکرنا، خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانا۔ خود ان پڑھ یا معمولی تعلیم یافتہ ہونا لیکن اپنی بچوں کے لیے اعلی تعلیم کے ارادے رکھنا۔ یہ خواتین اب بھی معاشرے کی رواتوں سے مکمل آزادی حاصل نہیں کر سکی ہیں لیکن آہستہ آہستہ ان معاشرتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔ مجھے یہ سماجی تبدیلیاں سندھ میں خواتین کا خاموش انقلاب محسوس ہوتی ہیں۔
ایس آر ایس او کے سربراہ محمد ڈتل کلہوڑو کا تعلق خود سندھ کے دیہات سے ہے۔ سماج میں خواتین کے مسائل اور پیچیدگیوں سے واقف ہیں۔ پورے صوبہ سے غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس مشن کی تکمیل کے لیے مزید مالی وسائل بھی۔ ان کے آئیڈیل غربت کے خاتمہ پر کام کرنے والی لیجنڈری شخصیات یعنی اختر حمید خان اور شعیب سلطان ہیں۔
دنیا بھر میں غربت کی خاتمہ کے لیے مائیکرو فنانس یعنی سود پر چھوٹے قرضوں کی فراہمی کے منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں۔ میں نے کوئی بیس برس قبل بنگلہ دیش میں نوبیل انعام یافتہ پروفیسر یونس کا گریمئن بینک منصوبہ کی کامیابی کی جھلک دیکھی تھی۔ عورتوں کی متحرک تنظیموں نے بنگلہ دیش کی اقتصادی ترقی سے لے کر بڑھتی آبادی کے کنٹرول میں فعال کردار ادا کیا۔
خیر اپنی سوچوں کا رخ سندھ میں ان سماجی تبدیلیوں پر مرکوز رکھتے ہیں۔ ادھر گاؤں محمد نواز رند میں حلیمہ خاتون کے ساتھ ان کی دونوں بیٹیاں کھڑی ہیں۔ انیس برس کی بڑی بیٹی بغل میں دو بچوں کو لیے ہوئے تھی۔ اس کی شادی تیرہ سال میں ہی کر دی گئی تھی۔ حلیمہ خاتون سے جب میں نے پوچھا بچی کی اتنی جلدی شادی کیوں کروائی۔ اس نے اشارہ اپنی دوسری بیٹی پروین جو موٹر سائیکل کے ہینڈل کو پکڑے کالج جانے کی تیاری کر رہی تھی کی طرف کرتے ہوئے کہا، ’غلطی کا احساس ہوا تو جب ہی تو میں چھوٹی والی کو ڈاکٹر بنانا چاہتی ہوں۔‘
سندھ کی صدیوں پرانی ایک قبائلی روائت ’دنوان‘ یا ’پیروں کی رسی کاٹنا‘ ہے۔ جب کوئی بچہ پہلی مرتبہ چلنا سیکھتا ہے تو اس کے بڑے ماموں دونوں پیروں کو رسی سے باندھتا ہے۔ اس کے بعد اس رسی کو چھری سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ ماننا ہے کہ رسی کاٹنے سے لڑکے کی زندگی کی تمام رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی۔
لیکن لڑکیوں کے لیے یہ رسم نہیں ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اگر لڑکی کے پیروں کی رسی کاٹی گئی تو وہ گھر سے بھاگ جائے گی، اپنی پسند کی شادی کر لے گی۔ لیکن پروین کا ڈاکٹری کے خواب کے ساتھ گاؤں سے شہر تک موٹر سائیکل کا سفر اور ان خواتین کا سماجی رکاوٹوں کے باوجود زندگی کے ساتھ مقابلہ کرنا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خود ہی اپنے پیروں میں دنوان کے دھاگوں کو کاٹ کر مستقبل کے سفر پر چل پڑی ہیں۔
یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p class="rteright">موہن جو داڑو گاؤں کی ثمرین سولنگی ہزاروں برس پرانے مجسموں اور میوزیم میں رکھی مہروں کی نقل مٹی سے تراشتی ہے۔ ایسے میں وہ پرکھوں کے ہنر کو جدید کاروبار میں تبدیل کر رہی ہے (زاہد حسین/ قاضی آصف)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/POeuIYS