سعودی عرب کے شہری دفاع کے ادارے نے کہا ہے کہ ہفتے کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل جنوبی علاقے جازان میں گرنے سے دو افراد زخمی جب کہ ایک مسجد اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے (ایس پی اے) کے مطابق الطوال گورنری میں گولہ گرنے کے بعد سول ڈیفنس کی ٹیمیں حملے کی جگہ پر پہنچ گئیں۔ اس حملے میں کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سقوط مقذوف في محافظة الطوال بمنطقة جازان نتج عنه إصابتان وأضرار مادية في مسجد وعدد من المباني والمركبات.#الدفاع_المدني pic.twitter.com/gMdcr41KMQ
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) September 12, 2026
سول ڈیفنس کے ایک ترجمان نے شہری املاک کو نشانہ بنانے کے عمل کو ’بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی‘ قرار دیا اور مزید کہا کہ حکام نے ایسے واقعات کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ حملہ گذشتہ چند دنوں میں جنوبی سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے کے بعد مملکت میں سکیورٹی کی کشیدہ صورت حال کے دوران ہوا ہے۔
منگل کو حوثیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ جان بوجھ کر سعودی عرب کے قومی بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

<p>سعودی عرب کے مطابق جازان کے علاقے میں حوثیوں کے گولے سے دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مسجد، کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا (ایس پی اے)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/lecR5Tq