زندگی میں اہم ترین ایک بات یاد رکھیے، اپنی پی آر کو ویڈیو گیم والے ٹوکن کی طرح استعمال کریں۔
اگر کوئی بڑا آدمی آپ کا جاننے والا ہے تو ذہن میں رکھیں آپ کے پاس اس سے کروانے کے لیے ایک بار کام ہو سکتا ہے، دو بار ہو سکتا ہے، اور وہ کر بھی سکتا ہے لیکن تیسری بار وہ نہیں کرے گا۔
کیوں؟
کیونکہ آپ اپنے ٹوکن استعمال کر چکے ہوں گے۔
ہمارے زمانے میں ویڈیو گیم ٹوکن سے چلتی تھی، دکانوں میں کھڑے ہیں پیسے ہاتھ میں لے کے، ایک روپے کا ایک ٹوکن، ٹوکن ڈالا گیم چلی، ٹوکن مک گیا، کھیل بھی ختم۔
تو اس دنیا میں جہاں پی آر ایک سہولت یا ہتھیار کے طور پہ استعمال ہوتی ہے، یاد رکھیے کہ ہر بندے سے کام لینے کے لیے آپ کے پاس دو ٹوکن فری ہیں ۔۔۔ تیسرا ٹوکن کیسے ملے گا، وہ پھر آپ کی قسمت ہے۔
اب سوال بنتا ہے وہ ٹوکن خرچ کس وقت کیا جائے؟ اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ اچھی طرح چھان پھٹک کر دیکھ لیں، جس کام کے لیے آپ بڑے صاحب کو بولنے جا رہے ہیں کیا وہ واقعی اتنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر آپ کی دنیا ختم ہو جائے گی؟ اگر نہیں ۔۔۔ تو رک جائیں۔
کوئی بھی جگاڑ لگا لیں مگر ٹوکن ضائع نہ کریں۔
یہ سب تعلقات آپ کا سوشل کیپیٹل ہوتے ہیں، مطلب باقاعدہ سرمایہ، جیسے نوکری ہے، کاروبار ہے، اصل والے پیسے ہیں ۔۔۔ تو ان کو جب آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں پہ ضائع کر دیں گے تو اصل کام کے وقت سمجھیے کہ بارش ہو گی اچانک، لیکن چھتری آپ کی، دھوپ میں استعمال ہو ہو کے پہلے ہی ٹوٹ چکی ہو گی۔
یہ کوئی چالاکیاں نہیں سکھا رہا بھائی ادھر بیٹھ کے میں آپ کو، فیکٹ ہے، دنیا میں یہی ہوتا ہے، ہر آدمی اپنی پی آر سٹرانگ کرنے کے چکر میں گھوم رہا ہوتا ہے لیکن اسے یوز کہاں کرنا ہے، وہ قسمت والوں کو ہی سمجھ میں آتا ہے۔
میری بات پوچھیں تو ساری زندگی کوئی ٹوکن ضائع کر ہی نہیں سکا کیونکہ یہ گیم مجھے آتی نہیں ہے۔ مصنوعی تعلقات بنانا، ان کے بل پہ آگے نکلنا ۔۔۔ بری بات نہیں ہے لیکن طبیعت کا چکر ہے سارا۔
مجھے برا لگتا تھا یہ سب، کہ یار اگر غلطی سے کوئی ریسورس فل آدمی جاننے والا بن ہی گیا ہے تو اب جان لیں لیں کیا اس کی؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کئی مرتبہ کئی کام پڑے مگر شرم آ گئی، لوگ دوست یار تھے لیکن نہیں کہہ سکا ۔۔۔ یہ میری کارپوریٹ تربیت کی کمی تھی۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ وہ کام کیسے کروانے ہیں، کسے کہنا ہے، اور کہنا کیسے ہے، تو شاید وہ ہو بھی جاتے۔
مجھے اعتراف کرنے دیجے کہ میں اسے اپنی ناکامی سمجھتا ہوں۔
لیکن پھر مجھے یہ بات سمجھ کس طرح آئی ٹوکن والی؟ صرف ایسے کہ میں نے زندگی کے بہت سال اس دنیا میں گزار لیے ہیں جہاں اب آپ نے قدم رکھنا ہے۔ مالک کی مہربانی سے کئی مرتبہ میں خود وہ انسان رہا ہوں جس سے جاننے والوں کو کام پڑ گئے، میں نے کر بھی دیے، لیکن اس کے بعد یہی سب میرے ساتھ بھی ہوا۔ پہلی بار کرنا ضروری تھا، دوسری مرتبہ کرنے میں تھوڑی بے آرامی ہوئی ۔۔۔ تیسری مرتبہ تک مجھے انکار کرنا آ چکا تھا۔
تو مختصراً، صرف اتنی بات یاد رکھیں کہ جو کام کلرک کر سکتا ہے ان کے لیے چیف منسٹر کو فون مت کھڑکائیں۔ ایسا کوئی بھی کارڈ آپ کے پاس موجود ہے تو اس کا جیب میں رہنا اسے استعمال کرنے سے ہمیشہ بہتر ہے۔

<p>جیمنائی</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/ESdkTax