فلسطینی طالب علم حسن ناصر، جو غزہ میں ایک حملے کے دوران اپنی ٹانگ سے محروم ہوئے، پاکستان میں تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ مصنوعی ٹانگ کی مدد سے دوبارہ چلنے اور جسمانی اعضا سے محروم فٹ بال کھلاڑیوں کی ٹیم بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
غزہ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ حسن ناصر کے لیے اپنی ٹانگ کھونا صرف جسم کا ایک حصہ کھونا نہیں تھا بلکہ اس کے بعد زندگی کے بارے میں ان کی سوچ بھی بدل گئی۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹانگ کٹنے کے بعد ان کے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال آیا کہ اب لوگ انہیں کس نظر سے دیکھیں گے؟ معاشرہ ان کے بارے میں کیا سوچے گا اور ان کی زندگی آگے کیسے گزرے گی؟
لیکن وقت کے ساتھ حسن ناصر نے اپنی صورتحال کو قبول کیا اور اسے اللہ کی رضا سمجھ کر زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے اللہ کے فیصلے پر رضا اختیار کی اور اسی رضا نے مجھے اپنی زندگی آگے بڑھانے کی طاقت دی۔ میری ٹانگ مجھ سے پہلے جنت چلی گئی۔‘
حسن ناصر کے لیے چلنا کبھی زندگی کی عام سی سرگرمی تھی، لیکن ٹانگ کھونے کے بعد یہی عمل ایک مسلسل جدوجہد بن گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جسم کا کوئی حصہ کھونا آسان نہیں ہوتا کیوں کہ انسان کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ اس کے بغیر زندگی کیسے گزرے گی؟
وہ اپنی معذوری کو اپنی زندگی میں رکاوٹ نہیں سمجھتے۔’میں نے اپنی ٹانگ اللہ کی راہ میں قربانی سمجھ کر قبول کی۔ میں کہتا ہوں کہ میری ٹانگ مجھ سے پہلے جنت چلی گئی۔‘
حسن ناصر کا کہنا ہے کہ انہیں اللہ کے فیصلے اور تقدیر پر یقین ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ صبر کا اجر اللہ کے پاس ہے۔ ’مجھے یقین ہے کہ اگر میں اللہ کی رضا پر راضی رہوں تو اللہ مجھے اس سے کہیں زیادہ عطا کرے گا۔‘
حسن ناصر اس وقت پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کریں اور مستقبل میں اپنی تعلیم اور تجربے کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کریں۔
یونیورسٹی میں حسن ناصر خود کو بعض اوقات دوسروں سے مختلف محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول ان جیسے حالات سے گزرنے والا شاید کوئی دوسرا طالب علم وہاں موجود نہیں۔ ’میں خود سے کہتا ہوں: حسن، تم مضبوط ہو۔ تم نے اپنی ٹانگ کھوئی لیکن اس نے تمہاری زندگی نہیں روکی۔ تم نے صبر کیا اور الحمدللہ کہا۔‘
وہ کہتے ہے کہ ’میرے نزدیک اصل معذوری جسم کی نہیں، ذہن کی ہوتی ہے۔ جب تک انسان سوچ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے اور اپنے مقصد کے لیے کام کرسکتا ہے، جسمانی نقصان اسے روک نہیں سکتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی دونوں ٹانگیں بھی چلی جاتیں تو ان کی زندگی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ ان کے خواب اور مقاصد اب بھی موجود ہیں۔
حسن ناصر زخمی ہونے سے پہلے پروفیشنل فٹبال کھلاڑی تھے۔ ٹانگ سے محرومی کے بعد انہیں اپنا پسندیدہ کھیل چھوڑنا پڑا، لیکن فٹبال سے ان کی محبت آج بھی برقرار ہے۔ ’میرے لیے فٹبال صرف کھیل نہیں، زندگی اور عشق ہے۔ اگرچہ میری ٹانگ نہیں ہے، پھر بھی میں فٹبال سے محبت کرتا ہوں اور کھیلنے کی خواہش رکھتا ہوں۔‘
وہ مستقبل میں جسمانی اعضا سے محروم فٹبال کھلاڑیوں کے لیے ایک ٹیم بنانے کا خواب دیکھتے ہیں، چاہے یہ ٹیم پاکستان میں ہو یا کسی اور ملک میں۔ ان کے مطابق غزہ میں بھی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو بیساکھیوں کے سہارے فٹبال کھیلتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر نمائندگی ملے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی موجودہ تعلیم بھی اس خواب کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ’میں دوسروں کے لیے مثال بننا چاہتا ہوں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان کی کہانی سے حوصلہ حاصل کریں۔
’میں دوسروں کے لیے مثال بننا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے دیکھ کر حوصلہ حاصل کریں۔‘ وہ اپنی جدوجہد پر فخر کرتے ہیں اور پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حسن ناصر کے مطابق ان کی ٹانگ کولہے کے قریب سے کاٹی گئی ہے، جس کی وجہ سے ان کا امپیوٹیشن کیس پیچیدہ ہے اور ان کے لیے موزوں مصنوعی ٹانگ حاصل کرنا بھی آسان نہیں۔ ’میری سب سے بڑی خواہش دوبارہ عام لوگوں کی طرح چلنا ہے‘۔ ان کی سب سے بڑی خواہش اب دوبارہ چلنے کے قابل ہونا ہے۔
وہ امید رکھتے ہیں کہ پاکستانی حکومت ان کی مدد کرے گی اور ان کی حالت کے مطابق مصنوعی ٹانگ فراہم کرنے میں تعاون کرے گی۔حسن ناصر کے مطابق اگر پاکستان انہیں مصنوعی ٹانگ فراہم کرنے میں مدد کرے تو یہ ان کے لیے بہت بڑی نعمت ہوگی۔
وہ پاکستانی حکومت سے مستقل رہائش یا شہریت جیسی سہولت فراہم کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل پاکستان میں محفوظ ہوسکے۔ ’اگر پاکستانی حکومت مجھے رہائش یا پاسپورٹ جیسی کوئی سہولت دے تو کم از کم میرا مستقبل یہاں محفوظ ہوسکتا ہے۔‘ غزہ میں جنگ اور اپنی جسمانی معذوری کے باوجود وہ مستقبل کے بارے میں مایوس نہیں۔
وہ پاکستان میں اپنے تعلیمی سفر کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی صلاحیتوں کو ایسے لوگوں کے لیے استعمال کریں جو جسمانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کے خوابوں میں دوبارہ چلنا، فٹبال کھیلنا، جسمانی اعضا سے محروم کھلاڑیوں کی ٹیم بنانا اور دوسروں کے لیے مثال بننا شامل ہے۔

<p class="rteright">غزہ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ حسن ناصر کے لیے اپنی ٹانگ کھونا صرف جسم کا ایک حصہ کھونا نہیں (مہوش قماس/انڈپینڈنٹ اردو)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/2u7EeFI