مالاکنڈ کا 18 ماہ کا حنان خود بیٹھ نہیں سکتا اور نہ ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دے سکتا ہے۔ ان کے والد شمس الرحمن بتاتے ہیں کہ جب حنان نو ماہ کا تھا تو اسے تیز بخار ہوا، جس کے دوران اسے دورہ پڑا اور اسے نوشہرہ کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔
ان کے مطابق اس واقعے کے بعد حنان کی جسمانی حرکات متاثر ہوئیں اور وہ نہ چل سکا اور نہ ہی اپنے ہاتھ کو حرکت دے سکا۔
حنان اس وقت پشاور کے اکبر کیئر انسٹیٹیوٹ میں فزیوتھراپی کے لیے آتا ہے۔ یہ ادارہ خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے قائم کیا گیا ہے، جہاں سیریبرل پالسی سمیت مختلف جسمانی مشکلات کا سامنا کرنے والے بچے فزیوتھراپی کے لیے آتے ہیں۔
یہاں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کے علاوہ بلوچستان، پنجاب، کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی بچے لائے جاتے ہیں۔
سیریبرل پالسی کیا ہے؟
اکبر کیئر انسٹیٹیوٹ کے فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر سلیم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سیریبرل پالسی ایسی کیفیت ہے جس میں پیدائش سے تقریباً دو سال کی عمر تک بچے کے دماغ کو کسی بھی وجہ سے نقصان پہنچنے کے نتیجے میں اس کی جسمانی حرکات متاثر ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دماغ جسم کی حرکات کو کنٹرول کرتا ہے، اس لیے دماغ کے جس حصے کو نقصان پہنچتا ہے، اس کے مطابق بچے کی حرکت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بچے کو سر کنٹرول کرنے، بیٹھنے، کھڑے ہونے یا چلنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سلیم خان نے بتایا کہ ان کے پاس آنے والے بچوں کی ہسٹری میں پیدائش کے وقت بچے کا نہ رونا، دورے پڑنا، شدید یرقان، وقت سے کچھ پہلے پیدائش، کم وزن کے ساتھ پیدائش اور ماں میں انفیکشن جیسے عوامل سامنے آتے ہیں۔
ان کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ایک ہزار میں دو سے تین بچے سیریبرل پالسی سے متاثر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان میں اس حوالے سے جامع قومی سطح کا مطالعہ موجود نہیں، تاہم دستیاب مطالعات کی بنیاد پر ان کے مطابق یہاں یہ شرح تقریباً ایک ہزار میں تین بچوں تک ہو سکتی ہے۔
حنان کے والد شمس الرحمن بھی اپنے بیٹے کی موجودہ حالت کو نو ماہ کی عمر میں پیش آنے والے بخار اور دورے کے بعد ہونے والی تبدیلی سے جوڑتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈاکٹروں کو حنان کی حالت کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔
ڈاکٹر سلیم خان کے مطابق سیریبرل پالسی سے متاثرہ بچوں کے لیے فزیوتھراپی بحالی کے عمل کا اہم حصہ ہے۔
اکبر کیئر انسٹیٹیوٹ میں ایسے بچوں کی جسمانی حرکات بہتر بنانے کے لیے مختلف ورزیشوں کے ذریعے فزیوتھراپی کی جاتی ہے اور والدین کو بھی بچوں کے ساتھ یہ مشقیں کرنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق فزیوتھراپی کے ذریعے بچے کی جسمانی صلاحیتوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے، تاہم سیریبرل پالسی سے متاثرہ بچے مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوتے۔ باقاعدہ فزیوتھراپی اور مناسب تربیت سے ان کی جسمانی حرکات اور صلاحیتوں میں بہتری ممکن ہے۔

from Independent Urdu https://ift.tt/4hdrioS