میٹا کے سمارٹ گلاسز، خواتین سڑک پر اجنبیوں سے ملاقات سے خوفزدہ

News Inside

جب یامینی (شناخت ظاہر نہ کرنے کے لیے ان کا نام تبدیل کیا گیا ہے) کو جون کی ایک شام گھر جاتے ہوئے سڑک پر ایک اجنبی شخص نے روکا تو ان کے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ شاید وہ خطرے میں ہیں۔

انڈیا کے شہر کولکتہ میں رہنے والی 35 سالہ پروفیسر یامینی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’میں ذرا چونک گئی تھی۔ رات کے تقریباً سوا آٹھ بجے تھے اور جس جگہ اس شخص نے مجھے روکا، وہاں زیادہ لوگ بھی نہیں تھے۔ اس لیے میں سوچ رہی تھی کہ کیا مجھ سے کوئی چیز گر گئی ہے یا وہ مجھے چھرا مارنے والا ہے؟‘

اس شخص نے یامینی سے کہا کہ اس نے انہیں دور سے دیکھا تھا اور وہ اسے ’خوبصورت‘ لگی تھیں۔

یامینی اس ملاقات کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتی تھیں اور امید کر رہی تھیں کہ وہ شخص ان کا گھر تک پیچھا نہیں کرے گا، اس لیے انہوں نے شائستگی سے جواب دیا اور وہاں سے چلی گئیں۔

اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس ملاقات کو اس شخص کے رے بین میٹا سمارٹ گلاسز کے ذریعے خفیہ طور پر ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔

انہیں اگلے روز اس وقت معلوم ہوا جب ان کے ایک طالب علم نے انہیں بتایا کہ وہ اس شخص کے انسٹاگرام فیڈ پر موجود ایک ویڈیو میں نظر آ رہی ہیں۔

وہ شخص مبینہ طور پر خود کو ’پک اَپ آرٹسٹ‘ کہتا ہے اور اس ملاقات کو سڑک پر خواتین سے بات کرنے کا طریقہ بتانے کے لیے بطور مثال استعمال کر رہا تھا۔

اگلے چند روز کے دوران یامینی کے مزید ساتھیوں نے انہیں ویڈیو کے بارے میں پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔

اس وقت تک یہ ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی تھی اور اس کے ساتھ غلط املا میں یہ کیپشن درج تھا: ’جب آپ کسی سینیئر خاتون کے قریب آتے ہیں‘۔ اس ویڈیو کو 23 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔

یامینی کے ساتھ پیش آنے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا یا واحد واقعہ نہیں ہے۔ دنیا بھر سے ایسی مثالیں سامنے آ رہی ہیں جن میں خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر بات چیت یا ملاقات کی کوشش کا سامنا کرنا پڑا اور پھر ان واقعات کو ممکنہ طور پر لاکھوں لوگوں تک آن لائن نشر کیا گیا، جبکہ کئی خواتین کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی ریکارڈنگ کی جا رہی ہے۔

رواں سال کے آغاز میں 22 سالہ برطانوی طالبہ ازوبیل تھامپ سن نے بھی اس وقت خود کو ’متاثر‘ اور ’خوف زدہ‘ محسوس کرنے کے بارے میں بات کی تھی جب ایک شخص نے اپنے میٹا سمارٹ گلاسز سے ان کی ریکارڈنگ کی تھی۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ وہ اس ملاقات کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے ’مردوں کا اعتماد بڑھانا‘ چاہتا تھا۔

اب میٹا کو انڈیا میں انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کی جانب سے قانونی کارروائی کا سامنا ہے، جس نے یامینی کی جانب سے ٹیکنالوجی کمپنی کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔

نوٹس میں ’تمام کاپیز ہٹانے، ہر قسم کا رابطہ ختم کرنے، اس ڈیوائس اور اس میٹا اکاؤنٹ کی تفصیلات ظاہر کرنے جس کے ساتھ یہ منسلک ہے، شواہد محفوظ رکھنے، آمدنی کی تفصیلات فراہم کرنے اور ناجائز حاصل شدہ منافع واپس کرنے، معافی مانگنے، مونیٹائزیشن معطل کرنے‘ اور دو کروڑ 5 لاکھ انڈین روپے (ایک لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ) ہرجانے اور تادیبی معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ سمارٹ گلاسز کے معاملے پر میٹا کو انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کی جانب سے بھیجا گیا دوسرا قانونی نوٹس ہے۔

اس سے قبل دہلی کے ایک شخص کی جانب سے نوٹس بھیجا گیا تھا، جس کا کہنا ہے کہ رے بین میٹا گلاسز پہنے ایک اجنبی نے سڑک پر انہیں ہراساں کیا۔

ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، جس کی ریکارڈنگ سے شکایت کنندہ لاعلم تھا۔

اس ویڈیو کو تقریباً پانچ لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، اسے 15 ہزار 700 سے زیادہ لائکس مل چکے ہیں اور اس پر 500 سے زیادہ تبصرے کیے گئے، جن میں مبینہ متاثرہ شخص کا مذاق اڑانے والے تبصرے بھی شامل تھے۔

رے بین میٹا سمارٹ گلاسز انڈیا میں مئی 2025 سے فروخت ہو رہے ہیں اور ان کی قیمت 29 ہزار 900 انڈین روپے (تقریباً 230 پاؤنڈ) سے شروع ہوتی ہے۔

میٹا کا مؤقف ہے کہ اس نے ان گلاسز میں رازداری کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات شامل کیے ہیں۔

کمپنی رے بین میٹا گلاسز کو ہاتھ لگائے بغیر تصاویر بنانے اور ویڈیو کالز کرنے، موسیقی سننے اور مصنوعی ذہانت کی معاونت کے لیے پیش کرتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ گلاسز پر موجود ایک ایل ای ڈی لائٹ دوسروں کو یہ بتاتی ہے کہ گلاسز ریکارڈنگ کر رہے ہیں، اسے بند نہیں کیا جا سکتا اور اسے ڈھانپنے کی کوشش کی جائے تو کیمرا غیر فعال ہو سکتا ہے۔

میٹا نے یہ بھی کہا ہے کہ صارف کی گیلری کے لیے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز ڈیوائس ہی میں رہتی ہیں، جب تک صارف خود انہیں شیئر نہ کرے۔

تاہم یامینی کا اصرار ہے کہ جس شخص نے انہیں رات کے وقت روکا، اس کے گلاسز پر ریکارڈنگ کی کوئی لائٹ نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ خیال ہی نہیں آیا تھا کہ عام دکھائی دینے والے گلاسز میں کیمرا بھی ہو سکتا ہے۔

انہیں آن لائن ویڈیو دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوا کہ اس شخص نے انہیں بات کرنے سے پہلے کچھ دیر تک فالو کیا تھا۔ ان کے مطابق اس بات نے اس مختصر گفتگو کے مقابلے میں اس واقعے کو کہیں زیادہ سنگین بنا دیا۔

وہ کہتی ہیں: ’مجھے ویڈیو سے ہی معلوم ہوا کہ وہ میرا پیچھا کر رہا تھا۔ ویڈیو سے مجھے پتا چلتا ہے کہ وہ کچھ دیر سے مجھے دیکھ رہا تھا اور اس نے مجھ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا، جو میرے لیے اس واقعے کو کہیں زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔‘

جب انہوں نے ویڈیو بنانے والے شخص کا سوشل میڈیا پیج دیکھا تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ واحد خاتون نہیں تھیں جنہیں اس نے سمارٹ گلاسز سے ریکارڈ کیا تھا۔ اس کی ویڈیوز پر اس کے فالوورز تبصرے کرتے، خواتین کا جائزہ لیتے اور ان کی ظاہری شکل کو ریٹنگ دیتے تھے۔

وہ کہتی ہیں: ’بہت سے مذاق اور تبصرے دراصل اس بات پر تھے کہ میں کیسی دکھتی ہوں اور کیسے چلتی ہوں۔ اس نے میرے جسم کو دوسروں کے استعمال کے لیے پیش کر دیا۔‘

یامینی نے انسٹاگرام سے ویڈیو ہٹوانے کی کوشش کی، لیکن یہ عمل ناممکن ثابت ہوا کیونکہ شکایت کے لیے موجود کسی بھی آپشن میں ان کے خدشات شامل نہیں تھے۔

یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ جب انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے جولائی میں میٹا گلاسز سے بنائی گئی ایسی ویڈیوز کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا جن میں عوامی مقامات پر اجنبی افراد کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا: ’اگر آپ ایسا مواد پوسٹ کر رہے ہیں جس میں لوگوں کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہو اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہو، جیسے ان پک اَپ لائن والی بہت سی ویڈیوز جن کے بارے میں ہم نے سنا اور دیکھا ہے، تو ہم اس مواد کو ہٹا دیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ چپکے سے دوسروں کی ویڈیوز بنائیں، انہیں ہراساں کریں اور پھر انہیں اپنے پلیٹ فارم پر پوسٹ کریں۔ اس لیے ہم ہر ممکن طریقے سے اس کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

میٹا کی اپنی پالیسیاں بھی تنگ کرنے اور ہراساں کرنے کے خلاف ہیں اور ڈیوائس سے قطع نظر اس طرح کے مواد کو پلیٹ فارم پر ممنوع قرار دیتی ہیں۔

اس میں ایسا مواد بھی شامل ہے جس میں افراد کو جنسی رنگ دے کر یا ان کے جسم کے بارے میں ناپسندیدہ تفصیلات بیان کر کے ہراساں کیا جاتا ہے۔

ایسے مواد کی تشہیر کرنے والے اکاؤنٹس کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں ’rizz‘، ’pickup‘، اور ’cold approach‘ جسے سرچ الفاظ اور ہیش ٹیگز کو بلاک کرنا بھی شامل ہے۔

تاہم دی انڈپینڈنٹ نے جانچ پڑتال کے بعد تصدیق کی کہ یامینی کے معاملے میں مواد بنانے والے شخص نے ’rizz‘ جیسے الفاظ بارہا استعمال کیے اور اس رپورٹ کی اشاعت کے وقت بھی یہ مواد پلیٹ فارم پر موجود تھا۔

میٹا سے ویڈیو ہٹوانے کی کئی روز تک کوشش کے بعد یامینی ایک دوست کے ساتھ پولیس سٹیشن گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں پولیس اہلکاروں کو اپنی شکایت کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ کرنا مشکل تھا، تاہم بالآخر تعزیراتی قانون کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، جن میں غیر قانونی طور پر روکنا، خفیہ طور پر کسی کی ویڈیو بنانا اور تعاقب کرنا شامل ہیں۔

یامینی کے لیے اس واقعے کا سب سے دیرپا اثر دوسرے لوگوں پر ان کے اعتماد میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

ان کے مطابق اگر اس شخص نے موبائل فون سے واضح طور پر ان کی ویڈیو بنائی ہوتی تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔

وہ کہتی ہیں: ’اگر یہ موبائل فون ہوتا، اگر وہ فون مجھے ریکارڈ کرنے کے لیے سامنے لاتا تو اس میں میری بھی رائے شامل ہوتی اور میں کہہ سکتی تھی کہ میں ریکارڈ نہیں ہونا چاہتی۔‘ لیکن گلاسز کے معاملے میں، ان کے بقول: ’کسی کے مزاحمت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، خود اختیاری تو بہت دور کی بات ہے۔ میرا اپنے اختیار پر کوئی کنٹرول نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس واقعے نے ان کے اپنے رویے کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک عرصے تک جب بھی کوئی شخص ان کے قریب آتا تو وہ سوچنے لگتیں کہ کہیں وہ ان کی ریکارڈنگ تو نہیں کر رہا۔ انہوں نے باہر جاتے ہوئے ماسک پہننے پر غور کیا اور گھر سے باہر کم وقت گزارنے لگیں۔

کلاس روم میں بھی انہیں یہ احساس ہونے لگا کہ طلبہ سے اپنے فون پر ریکارڈنگ نہ کرنے کے لیے کہنا شاید کافی نہیں، کیونکہ وہ یہ نہیں جان سکتیں کہ کہیں کوئی طالب علم کسی چھپی ہوئی ڈیوائس سے ان کی ریکارڈنگ تو نہیں کر رہا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں بہت زیادہ شکی ہو گئی ہوں۔ میں ہر اس شخص پر شک نہیں کرنا چاہتی جسے میں دیکھتی ہوں۔ میں اپنے محلے کے لوگوں سے بات کرنا چاہتی ہوں اور یہ اختیار رکھنا چاہتی ہوں کہ میں کسی ویڈیو کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔‘

وہ کہتی ہیں: ’میں لوگوں کو شک کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہتی۔‘

دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر میٹا نے تصدیق کی کہ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے مقدمے میں شامل مبینہ ہراساں کرنے والی ویڈیو ہٹا دی گئی ہے۔ یامینی کے معاملے میں موجود ویڈیو بھی اسے بنانے والے شخص نے حذف کر دی ہے۔

میٹا کے ترجمان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’زیادہ سے زیادہ لوگ ہمارے مصنوعی ذہانت والے گلاسز استعمال کر رہے ہیں کیونکہ یہ روزمرہ کے کاموں میں واقعی مددگار ہیں، جیسے موسیقی سننا، سفر کے دوران براہ راست ترجمہ حاصل کرنا یا ہاتھ استعمال کیے بغیر کال کرنا۔ انہیں استعمال کرنے والے افراد اور ان کے آس پاس موجود لوگوں کو ان پر اعتماد ہونا چاہیے۔‘

ترجمان نے کہا: ’اسی لیے ہم نے اپنے اے آئی گلاسز میں ابتدا ہی سے رازداری کو شامل کیا ہے۔ مثال کے طور پر ہر جوڑے میں ایک کیپچر ایل ای ڈی ہوتی ہے جو تصویر یا ویڈیو بناتے وقت چمکتی ہے جسے آپ محفوظ یا شیئر کر سکتے ہیں۔ اسے بند نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی اس ایل ای ڈی کو ڈھانپ دے یا اسے نقصان پہنچائے تو کیمرا غیر فعال ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے ہمارے گلاسز مزید صلاحیتوں کے حامل ہوتے جائیں گے، ہم اپنے حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کرتے رہیں گے۔‘

رے بین میٹا سمارٹ گلاسز سے ’خفیہ‘ ریکارڈنگ اور ویڈیوز آن لائن شیئر کیے جانے کے بعد انڈیا میں میٹا کو قانونی کارروائی کا سامنا ہے، جبکہ رازداری اور رضامندی کے تحفظ کے لیے کمپنی کے اقدامات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
سوموار, ستمبر 21, 2026 - 08:30
Main image: 

<p>10 اگست 2026 کو نیویارک شہر کے ڈاؤن ٹاؤن بروکلین میں ایک الیکٹرانکس سٹور میں میٹا کے سمارٹ گلاسز نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
میٹا کے سمارٹ گلاسز، خواتین سڑک پر اجنبیوں سے ملاقات سے خوفزدہ
origin url: 
https://ift.tt/ZTDBkRU


from Independent Urdu https://ift.tt/D3tzCF5

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;