دو سال قبل، جون 2024 میں جب پاکستان کے وزیر اعظم نے چین کا دورہ کیا تو صدر شی کے ساتھ ان کی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں پاکستان اور چین کے درمیان ’ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری‘ مزید مستحکم کرنے اور سی پیک کو ’سی پیک 2.0‘ کے درجے تک اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سی پیک کی پہلی دہائی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بجلی کی پیداوار پر مرکوز تھی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں درج ذیل اہداف پر توجہ دی جائے گی:
کئی نئے کوریڈورز کی تعمیر، بشمول گروتھ (ترقیاتی)، روزگار، جدت طرازی اور گرین (ماحول دوست) کوریڈورز۔
قراقرم ہائی وے کی بحالی و مرمت۔
گوادر بندرگاہ کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانا۔
سی پیک کو ایک کھلا اور سب کو شامل کرنے والا پلیٹ فارم بنانا۔
سائنس و ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت، آئی سی ٹی اور کان کنی جیسے سی پیک کے ترجیحی شعبوں میں تیسرے فریق (دیگر ممالک یا اداروں) کی فعال شرکت کا خیرمقدم کرنا۔
اصل چیلنجز سی پیک پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرنے میں مضمر ہیں۔ یہ چیلنجز اندرونی اور بیرونی دونوں نوعیت کے ہیں۔اندرونی سطح پر، یہ بات واضح ہے کہ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے معاشی پالیسیوں کا تسلسل، کاروبار میں آسانی، کاروبار کرنے کی لاگت اوردفتری پیچیدگیوں میں کمی اور سہولت کاری کے عمل کو تیز رفتار بنانے کی ضرورت ہے۔
خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے عمل کو تیز کرنا ہوگا تاکہ نہ صرف چینی سرمایہ کاری بلکہ دیگر ممالک اور پاکستان کے اپنے سرمایہ کاروں کو بھی راغب کیا جا سکے۔ اس میں کراچی بندرگاہ سے پشاور تک پاکستان ریلوے لائن (ایم ایل-1 ٹریک) کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔ ایک اور چیلنج صنعتی ترقی کے لیے توانائی کو سستا بنانا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
اس کے علاوہ بیرونی چیلنجز بھی موجود ہیں۔چین ایک تزویراتی شراکت دار ہے جس نے 2015 میں سی پیک کے معاہدے پر دستخط کیے اور اس وقت سرمایہ کاری کی جب پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ چین پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔ اپنی جانب سے، پاکستان نے بھی چین کے تمام بنیادی مفادات اور تحفظات کا احترام کیا ہے۔
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، تو پاکستان کی آزادی کے فوراً بعد، جب پاکستان کمزور پوزیشن میں تھا اور اسے اپنے ریاستی ڈھانچے کی تعمیر کرنی تھی، اس وقت امریکی عسکری اور معاشی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ تب سے لے کر اب تک، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکہ ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستانی طلبہ، طبی ماہرین، ٹیکنالوجی کے ماہرین، ماہرینِ زراعت اور سائنس دانوں کے لیے ایک پرکشش منزل ہے۔ تاہم، چونکہ امریکہ چین کے ساتھ سٹریٹجک مسابقت میں ہے، اس لیے وہ سی پیک کو مثبت نگاہ سے نہیں دیکھتا۔
پاکستان بخوبی واقف ہے کہ اپنے مفاد کے پیشِ نظر اسے چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں درست توازن قائم کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے ان دونوں تعلقات کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ مزید برآں، ایسے دور میں جب تعاون اور محاذ آرائی ساتھ ساتھ چل رہے ہوں—جیسا کہ امریکہ اور چین یا چین اور انڈیا کے درمیان—پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے فروغ کے لیے تمام اہم فریقین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔
دریں اثنا، دنیا عالمی جغرافیائی سیاست میں بڑی سٹریٹجک تبدیلیوں کی گواہ بن رہی ہے۔ روس کی 'گریٹر یوریشین پارٹنرشپ' کی تجویز کے تحت، چین ایشیا کو یورپ سے ملانے کے لیے تین زمینی راہداریوں اور بحرِ منجمد شمالی سے گزرنے والے ایک سمندری راستے پر کام کر رہا ہے۔ یوریشیا کے یہ زمینی راستے عملی طور پر امریکہ کی اس پالیسی کو بے اثر کر دیتے ہیں جس کا مقصد 'انڈو پیسیفک سٹریٹجی' کے ذریعے چین کے عروج کو روکنا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ سب دیکھتے ہوئے امریکہ نے زمینی حقائق کے مطابق خود کو ڈھالا ہے اور چین کے حوالے سے اپنے محاذ آرانہ رویے کو تبدیل کر کے ایک ایسے طرزِ عمل کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جو دونوں ممالک کے لیے سودمند ہو۔ 14 مئی 2026 کو بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں، صدر شی اور صدر ٹرمپ نے ’تعمیری سٹریٹجک استحکام‘ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
پالیسی میں اس تبدیلی کے نتیجے میں، امریکہ نے اپنی 'پیسیفک کمانڈ' کے نام سے 'انڈو' کا لفظ حذف کر دیا ہے۔ شی اور ٹرمپ کی گذشتہ ماہ واشنگٹن میں دوبارہ ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے اپنے تنازعات کی بجائے باہمی تاثر اور مساوی حیثیت پر توجہ مرکوز رکھی۔
اس تجزیے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ امریکہ شاید ’سی پیک 2.0‘ کی مخالفت میں اتنا سرگرم عمل نہ ہو۔ اس کے برعکس، امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی، عسکری اور سفارتی تعاون کو مضبوط بنانے میں نئی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
’سی پیک 2.0‘ کو درپیش بیرونی چیلنجز کا ایک اور سلسلہ انڈیا کی جانب سے بھی آ سکتا ہے، جس نے کبھی بھی سی پیک یا پاکستان اور چین کے تعلقات کو مثبت نظر سے نہیں دیکھا۔
امریکہ کے کیمپ میں مضبوطی سے شامل ہونے کے باوجود، بھارت اس بات کا اندازہ لگانے میں ناکام رہا کہ امریکہ اور چین کسی دن پرامن مسابقت کے لیے اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے پر متفق ہو سکتے ہیں۔ نہ ہی اس نے مئی 2025 کے بعد پاکستان کی عسکری حیثیت میں نمایاں اضافے اور حالیہ ایران-امریکہ جنگ میں ثالثی کے کردار کی وجہ سے اس کی سفارتی اہمیت میں اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انڈین قیادت ان رجحانات کو تسلیم کرے گی اور چین و پاکستان کے خلاف اپنی مخاصمانہ پالیسیوں میں تبدیلی لائے گی یا نہیں۔ انڈیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بالادستی قائم کرنے کا رویہ عالمی سطح پر ناکام ہو چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں علاقائی سطح پر بھی ناکام رہے گا۔ بھارتی قیادت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ’خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو‘ کے اصول پر عمل کرنا ہے۔
پاکستان کے خلاف پراکسیز کا استعمال یا کسی اور جارحیت کی دھمکیاں کسی کام نہیں آئیں گی۔
تاہم، انڈیا کی پالیسی کے قطع نظر، پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور ساتھ ہی ممکنہ انڈین جارحیت کے خلاف اپنی دفاعی تیاری بھی برقرار رکھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران، پاکستان نے نہ صرف امریکہ، ایران اور خلیجی و علاقائی ریاستوں بلکہ چین کے ساتھ بھی رابطہ اور تعاون برقرار رکھا۔
عالمی معیشت پر اس تنازعے کے سنگین اثرات کے پیشِ نظر، یہ امر اہم ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا جلد خاتمہ ہو اور یہ خطہ اجتماعی سلامتی کے تصور پر مبنی ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دے، جیسا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ معاہدے‘ کی صورت میں دیکھا گیا تھا۔ اجتماعی و باہمی تعاون پر مبنی سلامتی اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام کا تصور ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
دنیا بھر میں جاری جغرافیائی سیاسی ہنگامہ خیزی کے اس دور میں، چین کے ساتھ ساتھ امریکہ اور روس کے ساتھ بھی پاکستان کے قریبی تعلقات ملک کو ان طاقتوں کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی تعلقات استوار کرنے کا ایک خوش آئند موقع فراہم کرتے ہیں؛ مثلاً زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا، معیشت کو ڈیجیٹل بنانا، بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا اور کان کنی و صنعتی شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنا۔
سی پیک کے پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور توانائی کی پیداوار پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد، اب یہ ضروری ہے کہ اس کے دوسرے مرحلے کو نجی شعبے کے لیے سازگار، برآمدات پر مرکوز، روزگار کے مواقع پیدا کرنے والا اور تکنیکی اعتبار سے قدر میں اضافے کا باعث بنایا جائے۔
اس تحریر کے مصنف، سفیر اعزاز احمد چوہدری، پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p class="rteright">30 جولائی 2023 کو لاہور میں موٹر سائیکل پر سوار ایک خاندان چینی نائب وزیر اعظم کے دورے سے قبل سڑک پر نصب چین اور پاکستان کے قومی پرچموں کی شکل میں سجاوٹ کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/zjyD5J7
