ایس سی او اجلاس: بلاول بھٹو کی شرکت سے پاکستان انڈیا تعلقات بہتر ہوں گے؟

News Inside

شنگھائی تعاون تنظیم کا 23واں اجلاس انڈیا کے شہر گوا میں پانچ مئی سے شروع ہو رہا ہے جس میں نئی دہلی کی دعوت پر پاکستانی کی نمائندگی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کریں گے جو آج انڈیا پہنچیں گے۔

پانچ اور چھ مئی کو انڈیا کے ساحلی شہر گوا میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں ایس سی او رکن ممالک کے علاوہ ڈائیلاگ پارٹنرز اور مبصر اراکین کی نمائندگی بھی ہو گی۔

پاکستان اور انڈیا دونوں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ رواں برس انڈیا کے پاس ہے اس لیے انڈیا ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کا شیڈول:

پاکستان دفتر خارجہ حکام کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری وفد کے ہمراہ جمعرات کی سہ پہر گوا پہنچیں گے۔

وزرائے خارجہ کی آمد کا سلسلہ جمعرات کی صبح سے شروع ہو جائے گا۔ جمعرات کی شام کو وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی کچھ وسط ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔

جمعرات کی شام شنگھائی تعاون تنظیم کے میزبان ملک کی جانب سے ثقافتی شب کا انعقاد کیا جائے گا۔ جس میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو سیکرٹری خارجہ کے ہمراہ شرکت کریں گے۔

جمعہ پانچ مئی کی صبح اجلاس کے مقام پر تمام وزرائے خارجہ اکٹھے ہوں گے جہاں ان کا پہلے گروپ فوٹو بنایا جائے گا اس کے بعد باضابطہ خطابات کا سلسلہ شروع ہو گا۔

جمعے کی سہ پہر حتمی اعلامیے پر تمام رکن ممالک دستخط کریں گے جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

اعلامیے کے بعد پروگرام کے مطابق بلاول بھٹو پاکستانی میڈیا سے بات چیت کریں گے اور پھر واپس وطن روانہ ہو جائیں گے۔

وزیر خارجہ دورہ: ’یہ کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہے‘

انڈپینڈنٹ اردو سے سابق سفیروں سے بلاول بھٹو زرادی کے دورہ انڈیا کے حوالے سے رائے جاننے کے لیے رابطہ کیا۔

سابق سفیر اور انڈیا میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالاباسط نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان انڈیا تعلقات پہ اس دورے کا کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا چونکہ دو طرفہ ملاقات تو انڈین ہم منصب سے پاکستانی وزیر خارجہ کی متوقع نہیں ہے۔ ہاتھ تو وہ ملا لیں گے لیکن میں اس میں کوئی بہت بڑا بریک تھرو نہیں دیکھ رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 عبدالاباسط نے مزید کہا کہ ’اہم یہ ہو گا کہ پاکستان میں اپنی تقریر میں مدعا ثابت کیسے کرے گا۔‘

اسی حوالے سے سابق سفیر آصف درانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’شنگھائی تعاون تنظیم کی شمولیت اس لیے ہے کہ پاکستان شنگھائی تعاون کا رکن ہے اس کا پاکستان انڈیا تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسی کو امید ہے کہ کوئی برف پگھلے گی۔ لیکن سیاست میں سب ممکن ہے اور کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔‘

شنگھائی تعاون تنظیم کی کیا اہمیت ہے؟

شنگھائی تعاون تنظیم جنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک کی ایک بڑی علاقائی تنظیم ہے۔ جس کا باقاعدہ قیام سنہ 2001 میں ہوا۔

اس سے قبل 1996 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پانچ رکن ممالک تھے جنہیں شنگھائی فائیو بھی کہا جاتا تھا۔ ابتدائی اراکین میں چین، روس، قزاقستان، کرغستان اور تاجکستان شامل تھے۔

جب 2001 میں ازبکستان بھی شامل ہوا تو اس کا نام شنگھائی فائیو سے تبدیل کر کے ایس سی او رکھ دیا گیا کیونکہ اس وقت نائن الیون کے بعد سے شدت پسندی عروج پر تھی اس کے علاوہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔

اس لیے ابتدا میں اس تنظیم کا مقصد شدت پسندی کا خاتمہ اور خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنا تھا۔ بعد ازاں رکن ممالک کے مابین سکیورٹی اور تجارتی تعلق مضبوط کرنا اور امن کا قیام کو بھی شامل کیا گیا۔

سنہ 2017 میں ایس سی او کانفرنس آستانہ میں ہوئی جہاں انڈیا اور پاکستان کو بھی مستقل رکن کے طور پر شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل کیا گیا جس کے بعد رکن ممالک کی تعداد اب آٹھ ہو چکی ہے۔ ان کے علاوہ افغانستان بیلا روس، ایران اور منگولیا مبصر رکن ممالک ہیں جبکہ نیپال، ترکی، آذربائیجان، ارمینیا، کمبوڈیا اور سری لنکا ڈائیلاگ پارٹنر ممالک ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا دو روزہ وزرائے خارجہ اجلاس انڈیا کے شہر گوا میں ہو رہا ہے جس میں نئی دہلی کی دعوت پر پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری شرکت کریں گے۔
جمعرات, مئی 4, 2023 - 06:45
Main image: 

<p class="rteright">29 جولائی 2022 کو ازبکستان کے شہر تاشقند میں ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا گروپ فوٹو(اے ایف پی/روسی وزارت خارجہ)</p>

type: 
SEO Title: 
ایس سی اواجلاس:بلاول بھٹوکی شرکت،پاکستان انڈیاتعلقات بہترہوں گے؟


from Independent Urdu https://ift.tt/crB1k4y

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;