اسلام آباد پولیس نے اتوار کو بتایا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایڈووکیٹ ایمان حاضر زینب مزاری کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے آفیشل ایکس اکاؤنٹ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں علی وزیر اور ایمان مزاری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’دونوں ملزمان اسلام آباد پولیس کو تفتیش کے لیے مطلوب تھے۔ تمام کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔‘
اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے علی وزیر اور ایمان مزاری کوگرفتار کرلیا ہے۔
— Islamabad Police (@ICT_Police) August 20, 2023
دونوں ملزمان اسلام آباد پولیس کو تفتیش کے لیے مطلوب تھے۔ تمام کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔
اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کی جاری کردہ خبر کو ہی درست تسلیم کیا جائے۔ کوئی پولیس…
اس سے قبل اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار مونا خان کو بتایا کہ علی وزیر اور ایمان مزاری کے خلاف تھانہ ترنول میں ہفتے کی شب ایف آئی آر درج ہوئی، جس کے باعث انہیں حراست میں لیا گیا۔
پولیس افسر کے مطابق علی وزیر اور ایمان مزاری کے خلاف 18 اگست کو این او سی کی خلاف ورزی، بغیر اجازت جلسے اور سڑکوں کی بندش پر یہ ایف آئی آر درج ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آج ہی دونوں کو مقامی عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریماند لیا جائے گا۔
18 اگست کو پی ٹی ایم نے اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں ایک جلسہ کیا تھا۔ اس سے قبل یہ جلسہ سپریم کورٹ کے باہر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعدازاں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ کامیاب مذاکرات کے بعد پی ٹی ایم قیادت نے اسلام آباد جلسہ گاہ کی جگہ سپریم کورٹ سے تبدیل کر کے ترنول کرنے پر اتفاق کیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب ایف آئی آر کے متن کے مطابق: ’ریلی/ جلسہ بمطابق این او سی ترنول چوک جی ٹی روڈ کی ایک سائیڈ پر کرنا تھا۔ انہوں (پی ٹی ایم شرکا) نے این او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب چلنا شروع کردیا، جن کو روکا گیا تو ریلی کی شرکا جن کی تعداد 700 سے 800 کے قریب تھی، جن میں سے اکثر شرکا بامسلح ڈنڈے اور چند کے پاس آتشی اسلحہ بھی تھا، نے پولیس فورس کے ساتھ مزاحت کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ جن کو نفری کی مدد سے آگے بڑھنے سے روکا گیا تو شرکا نے کنٹینر اور گاڑیاں جی ٹی روڈ کے درمیان کھڑی کرکے جی ٹی روڈ کو دونوں طرف سے بند کر دیا۔‘
مزید کہا گیا کہ ’جب پی ٹی ایم کی قیادت اور شرکا کو جی ٹی روڈ کھولنے کا کہا گیا تو شرکا مزاحمت کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے پولیس پر حملہ آور ہوئے اور سرکاری گاڑی کے شیشے توڑ دیے۔‘
میری بیٹی کو گھر سے ’اغوا‘ کرلیا گیا: شیریں مزاری
اس سے قبل سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا تھا کہ اتوار کو علی الصبح ان کی بیٹی ایڈووکیٹ ایمان مزاری کو اسلام آباد میں واقع ان کے گھر سے خواتین پولیس اہلکار اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ساتھ لے گئے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صبح چار بجے کے قریب اپنے پیغام میں شیریں مزاری نے لکھا: ’ابھی ابھی خواتین پولیس اہلکار اور سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ ہمارے (گھر کے) مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر آئے اور میری بیٹی کو ساتھ لے گئے۔ ہمارے سکیورٹی کیمرے اور ایمان کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون چھین لیا۔‘
شیریں مزاری کے مطابق ہم نے پوچھا کہ وہ کس لیے آئے ہیں اور وہ ایمان کو گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ وہ پورے گھر میں گھومتے رہے۔ میری بیٹی اپنے رات کے کپڑوں میں تھی، انہوں نے کہا کہ مجھے لباس تبدیل کرنے دو لیکن وہ انہیں گھسیٹ کر لے گئے۔‘
Just now police women, plainclothes people and r ager types took my daughter away after braking down our front door. Taking away our security cameras and her laptop and cell. We asked who they had xome for and they just dragged Imaan out. They marched all over the house. My…
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 19, 2023
سابق وفاقی وزیر نے بتایا کہ انہیں کوئی وارنٹ نہیں دکھایا گیا اور نہ کوئی قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ شیریں مزاری نے اسے ’ریاستی فاشزم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم گھر میں صرف دو خواتین رہتی ہیں۔ اس طرح ایک اغوا ہے۔‘
ایمان مزاری نے بھی اتوار کو صبح تین بجکر 20 منٹ پر اپنے گھر میں نامعلوم افراد کے داخلے اور سکیورٹی کیمرے توڑے جانے کے حوالے سے ٹویٹ کی تھی۔
Unknown persons breaking down my home cameras banging gate jumped over
— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) August 19, 2023
ایکس پر ‘ریلیز ایمان مزاری‘ کا ٹرینڈ بھی ٹاپ پر ہے، جس میں ایمان مزاری اور علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی ایمان مزاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
... of state-sanctioned violence against people exercising their right to freedom of expression and assembly. Ms Hazir-Mazari must be released immediately and unconditionally.
— Human Rights Commission of Pakistan (@HRCP87) August 20, 2023
<p class="rteright">بائیں جانب ایڈووکیٹ ایمان حاضر زینب مزاری اور دائیں جانب پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر (تصاویر: ویڈیو سکرین گریب/ علی وزیر ٹوئٹر اکاؤنٹ)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/QGojvVf