میانوالی کی پوپل مچھلی جو ’سخت سردی میں بھی گرمی لگوا دے‘

News Inside

سخت سردیوں کی آمد پر کھانوں کے شوقین افراد صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں دریائے سندھ کے کنارے واقع علاقے کمر مشانی کا رخ کرنے لگتے ہیں، جس کی وجہ یہاں کی تین انچ چھوٹی ذائقے دار مچھلی ہے۔

سندھی زبان میں ’چلوہ‘ اور مقامی زبان میں ’پوپل‘ کہلائی جانے والی اس مچھلی کی مانگ بڑے سائز کی مچھلیوں سے زیادہ ہے۔

پوپل کو اچھی طرح دھو کر بغیر کوئی مصالحہ لگائے صرف آٹا اور نمک لگا کر توے پر گھی یا بغیر گھی کے تلا جاتا ہے۔ قدرتی طور پر نمکین ہونے کی وجہ سے اسے چٹنی یا سلاد کے بغیر کھایا جاتا ہے۔

تین انچ کی پوپل کو دیگر مچھلیوں کے برعکس ثابت گردن اور کانٹوں سمیت کھایا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمر مشانی اڈے پر مچھلی فروش نور زمان ہر سال سخت سرد موسم میں دھویں اور گاہکوں کی بھیڑ میں پوپل فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔

نور، جن کے آباؤ اجداد بھی اسی کام سے وابستہ تھے، نے بتایا کہ یہ چھوٹی دریائی مچھلی کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ اس کی سخت موسم سرما میں طبی لحاظ سے بہت اہمیت ہے۔

 ان کے مطابق پرانے حکیموں اور بڑے بوڑھوں کا ماننا ہے کہ یہ سردی کا بہترین علاج ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پرانے ریشے، زکام و کھانسی وغیرہ میں بھی موثر ہے۔

نور نے مزید بتایا کہ 600 روپے کلو میں فروخت ہونے والی پوپل کا سردیوں میں خاص سیزن ہوتا ہے اور گرمیوں میں یہ ختم ہو جاتی ہے۔

’یہ مچھلی پورے ضلع میانوالی سمیت ملتان، لاہور یہاں تک کہ کراچی تک لوگ بطور سوغات لے کر جاتے ہیں۔‘

یہاں اکثر گاہک رش کے سبب کھانے سے رہ جاتے ہیں۔ سخت سردی میں کمر مشانی آئے ہوئے گاہک صائم جاوید نے بتایا کہ وہ ہر سال بہت دور سے یہاں صرف پوپل کھانے آتے ہیں۔.

صائم کے مطابق پوپل مچھلی ایسی ہے جو ’سخت سردی میں بھی گرمی لگوا دے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قدرتی طور پر نمکین دریائی مچھلی پوپل کو صرف آٹا اور نمک لگا کر تل کر پیش کیا جاتا ہے۔
ہفتہ, جنوری 13, 2024 - 06:30
Main image: 

<p class="rteright">میانوالی کی مشہور تین انچ والی ’پوپل‘ مچھلی (خالد اشفاق/ سکرین گریب)</p>

jw id: 
KDc6Dda4
type: 
SEO Title: 
میانوالی کی پوپل مچھلی جو ’سخت سردی میں بھی گرمی لگوا دے‘


from Independent Urdu https://ift.tt/4UOdY8c

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;