امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اچانک اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران جوہری پروگرام پر براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں جبکہ ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ عمان میں ہونے والی یہ بات چیت بالواسطہ ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ایران کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔‘
اس سے قبل امریکہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران کو خبرادار کر چکا ہے کہ یا وہ براہ راست مذاکرات کرے یا پھر ’بمباری‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اوول آفس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران سے براہ راست مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ شروع ہو چکے ہیں۔‘
انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ ’یہ ہفتے کو ہوں گے۔ ہماری بہت بڑی ملاقات ہوئی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں سب اس پر متفق ہیں کہ ڈیل ہی بہتر ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہفتے کو ہونے والے مذاکرات اعلیٰ سطح پر ہوں گے۔‘ تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی ان مذاکرات کی تصدیق تو کر دی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات براہ راست نہیں ہو رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ ہفتے کو عمان میں ’بالواسطہ اعلیٰ سطح‘ مذاکرات کریں گے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’ایران اور امریکہ بالواسطہ اعلی سطح مذاکرات کے لیے ہفتے کو عمان میں ملاقات کریں گے۔ گیند امریکی کورٹ میں ہے۔‘
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 7 اکتوبر 2025 کو اوول آفس میں اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے (روئٹرز)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/LmqB0eX