پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کے نام سے دوسری عالمی کانفرنس کا اسلام آباد میں افتتاح ہو گیا ہے جس میں معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی یاداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
دو روزہ فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان منرل فورم کا افتتاح اعزاز کی بات ہے، ہم ایسے موقع پر اکٹھے ہیں جب پاکستان معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
’حکومت پاکستان نے مشکل لیکن ضروری فیصلے کیے ہیں تاکہ معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اپنے جغرافیے کی وجہ سے دنیا میں کان کنی کے لیے اہم مقام رکھتا ہے۔ پاکستان میں معدنی وسائل کے بڑے دخائر ہیں جس میں ریئر ارتھ منرل بھی شامل ہیں۔
’امید ہے فورم سے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی۔‘
منرلز انوسٹمنٹ فورم میں سعودی عرب، چین، امریکہ، ترکی اور آذر بائیجان کے سرکاری اعلی سطح وفود سمیت عالمی سرمایہ کار کمپنیاں شریک ہیں۔
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اس کانفرنس کی مرکزی میزبان ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے میڈیا مینیجر ذیشان زیدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو فورم میں شریک ہونے والےسرکاری وفود کی تصدیق کی اور بتایا کہ ’کینیڈا سے بھی ایک وفد شریک ہو رہا ہے۔‘
دو برس قبل معدنی سرمایہ کاری فورم کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا جبکہ اب دوسری عالمی کانفرنس اسلام آباد جناح کنونشن سینٹر میں ہو رہی ہے۔
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شرکت اور خطاب بھی متوقع ہے۔
فورم میں معدنیات کے حوالے سے پینل ڈسکشن بھی ہو گی۔ خلیجی اور یورپی ممالک کے سفیروں کو بھی کانفرنس میں دعوت دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی سفارت خانے نے بھی بیان جاری کیاہے کہ ’پاکستان منرلز انوسٹمنٹ فورم میں معدنیات کے اہم شعبے میں امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے 8 سے 10 اپریل 2025 کو سینیئر امریکی عہدیدار ایریک میئر کی سربراہی میں وفد اسلام آباد پہنچے گا۔
’وفد پاکستان میں امریکی کاروبار کے مواقع بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے سینیئر پاکستانی حکام سے ملاقات کریں گے۔ ایس بی او میئر دہشت گردی کے خلاف پاکستان امریکہ کے مابین جاری تعاون کی اہم اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے سینیئر حکام کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔‘
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 معدنی شعبے کے لیے انقلابی اقدام ہے۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے حکومت کی موثر حکمت عملی، معدنی وسائل سے معاشی استحکام کے لیے استفادہ حاصل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
معدنی سرمایہ کاری فورم کی تفصیل کیا ہے؟
منرل انویسٹمنٹ فورم 2025 کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق: ’یہ فورم عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا۔ معدنی وسائل کے شعبے میں سرمایہ کاری، پاکستان کی برآمدات اور اقتصادی استحکام میں معاون ثابت ہوگی۔
’پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں مائننگ ڈیولپمنٹ پر مباحثے، جدید ٹیکنالوجیز اور وسائل کی نمائش بھی پیش کی جائے گی۔‘
معدنی سرمایہ کاری فورم کے چار حصے
میسر معلومات کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت منعقد ہونے والا معدنی سرمایہ کاری فورم چار حصوں پر مشتمل ہو گا۔
سٹریٹجک کانفرنس، ٹیکنیکل کانفرنس، عالمی نمائش اور غیر ملکی مہمانوں کے لیے گالا ایوننگ کا اہتمام کیا جائے گا۔
سٹریٹجک کانفرنس میں پاکستان کے اعلیٰ پالیسی سازوں، بین الاقوامی کمپنیوں کے سربراہان اور غیر ملکی وزرا و نمائندگان کے مابین سٹریٹجک بات چیت ہو گی تاکہ کان کنی میں اصلاحات سے لے کر سرمایہ کاری کے فریم ورک کو تشکیل دیا جا سکے۔
جبکہ ٹیکنیکل کانفرنس بنیادی طور پر ماہرین ارضیات، انجینئرز، کان کنی کے ماہرین اور اکیڈمی کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، جس میں تکنیکی ٹریک ایکسپلوریشن، پروسیسنگ، انفراسٹرکچر کے معیارات پر مبنی پریزنٹیشنز، پراجیکٹ کیس اسٹڈیز اور مستقبل کے ٹیک شوکیسز ہیں- ان میں ریکوڈک اور دیگر فلیگ شپ پروجیکٹس بھی شامل ہیں۔
سرمایہ کاری فورم میں مختلف نمائشوں کا بھی انعقاد ہو گا جس میں شرکت کرنے والی کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی نمائش کریں گے جبکہ شریک ہونے والے مہمانوں کے لیے ثقافتی پروگرام اور عشائیے کا اہتمام بھی فورم کا حصہ ہے۔
پاکستان میں کن مقامات میں معدنی ذخائر موجود ہیں؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈپینڈنٹ اردو کے پاس سرکاری معلومات کے مطابق ریکوڈک و سینڈک میں 5.5 ارب ٹن تانبے اور سونے کے ذخائر ہیں۔
بلوچستان میں 6.5 ارب ٹن تانبہ، کرومائیٹ، بیریٹ اور چونا پتھر موجود ہے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈک دنیا کے بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر میں سے ایک ہے۔
اس منصوبے سے پاکستان سالانہ چار لاکھ ٹن تانبہ اور پانچ لاکھ اونس سونا حاصل کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سندھ تھر کول میم 185 ارب ٹن کوئلہ موجود ہے جو توانائی کے شعبے کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں زمرد، عقیق اور دیگر قیمتی پتھر پنجاب میں سلیکا، راک سالٹ اور لوہا موجود ہیں جو صنعتی ترقی کے لیے اہم ہیں۔
گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں سونا، مولیبڈینم اور معیاری چونا پتھر موجود ہے۔
معدنی سرمایہ کاری فورم کا پہلا اجلاس کب ہوا؟
پاکستان میں پہلی منرل سمٹ 2023 میں ہوئی جس میں بیریک گولڈ، ریوٹنٹو اور بی ایچ پی بلٹن جیسے عالمی سرمایہ کاروں کی شرکت نے کی تھی۔
فورم میں سعودی عرب کے معدنیات کے نائب وزیر انجینیئر خالد بن صالح نے بھی شرکت کی تھی۔ فورم میں وزیراعظم شہبازشریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے شرکت کی تھی اور اعادہ کیا گیا کہ پاکستان آنے والی سرمایہ کاری کو سرخ فیتے کی نظر نہیں ہونے دیں گے۔
اِسی دوران حکومت نے ایس آئی ایف سی کے تحت فارن انویسٹمنٹ ایکٹ 2022، ٹیکس چھوٹ اور آسان ملکیتی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کیتھرین مارش اور چین کے ژیان جیولوجیکل سروے سینٹر کا ایک وفد فورم میں شرکت کے لیے وفاقی دارالحکومت پہنچ گیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بنک کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ وہ اس اہم سرمایہ کاری فورم کے ذریعے معدنی شعبے کی ترقی کے لیے پرامید ہیں۔
ژیان جیولوجیکل سروے سینٹر کے پروجیکٹ مینیجر نے بھی فورم کے لیے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔
<p class="rteright">8 اپریل 2025 کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے (پی ٹی وی/ سکرین گریب)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/0ZgSiUW
