سکیورٹی کونسل اجلاس کے مقاصد حاصل کر لیے ’پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں‘: پاکستان

News Inside

8 بج کر 24  منٹ 

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پاکستان کے مستقبل مندوب عاصم افتخار نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان نے سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے اپنے مقاصد بڑی حد تک حاصل کر لیے ہیں۔

پاکستان کی درخواست پر نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے میں منعقد ہونے والے اجلاس میں 15 رکن ممالک نے شرکت کی۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق سفارت کاروں نے بتایا کہ سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے آغاز پر، اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے مشرق وسطیٰ، ایشیا اور پیسفک خالد خیاری نے رکن ممالک کو بریفنگ دی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو دی گئی بریفنگ میں عاصم افتخار نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد جنوبی ایشیا کی موجودہ صورت حال پر سکیورٹی کونسل کا جو اجلاس پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا، اس کے ذریعے ملک کے مقاصد بڑی حد تک حاصل ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے دلچسپی لی اور تحمل، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا۔ کئی رکن ممالک نے اس امر کو تسلیم کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طور پر حل کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ (پاکستان کے نقطۂ نظر سے) اس اجلاس کے تین اہم مقاصد تھے۔

’سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک کو اس بات کا موقع دینا کہ وہ انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اور پاکستان کو نشانہ بنانے والے جارحانہ رویے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بگڑتے ہوئے سکیورٹی حالات اور انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کر سکیں، جو اس وقت علاقائی اور عالمی امن و سکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔‘

’اس صورت حال سے نمٹنے کے بہترین طریقے پر تبادلہ خیال کرنا، جس میں ایک ایسے ٹکراؤ سے بچنے کی ضرورت شامل ہے جو سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، اور کشیدگی میں کمی کی فوری ضرورت پر زور دینا۔‘

’یہ یاد دلانا اور اجاگر کرنا کہ یہ سب کچھ ایک وسیع تر پس منظر میں ہو رہا ہے، جو کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پس منظر ہے۔

وہ بنیادی مسئلہ جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان موجود ہے  جس کا حتمی، منصفانہ اور پائیدار حل ابھی تک سکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے جو قبضے کے خلاف اپنی ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے جائز جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی واضح طور پر سامنے آئی کہ خطے میں استحکام یکطرفہ اقدامات سے برقرار نہیں رکھا جا سکتا — اس کے لیے اصولی سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی انڈیا کی کوشش کو دو ٹوک طور پر مسترد کر دیا، جس کی نہ صرف پاکستان بلکہ سکیورٹی کونسل کے تمام رکن ممالک نے مذمت کی ہے۔

انڈیا جو دعویٰ کر رہا ہے وہ محض پرانے الزامات کا اعادہ ہیں اور بے بنیاد، غیر مصدقہ اور سیاسی مفادات اور سٹریٹیجک مقاصد کو پورا کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں، جن میں جموں و کشمیر میں اپنی جبر و زیادتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو کمزور کرنا اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جو کہ ایک قانونی طور پر لازم معاہدہ ہے جسے عالمی بینک نے طے کرایا تاور جو جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا۔

انہوں نے کہا کہ پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں۔ یہ دریا 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگی کا منبع ہیں۔ ان کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش جارحیت کے مترادف ہے۔ ایسے کسی نظیر کو قبول کرنا ہر نچلی سطح پر واقع ریاست کے لیے خطرہ بن جائے گا۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ کئی رکن ممالک نے اس امر کو تسلیم کیا کہ تمام مسائل، بشمول جموں و کشمیر کا تنازع، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طور پر حل کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بھی واضح تاثر تھا کہ خطے میں استحکام یکطرفہ اقدامات سے قائم نہیں رکھا جا سکتا، اس کے لیے اصولی سفارت کاری، رابطے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔‘

عاصم افتخار نے کہا کہ امن ’خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ ہم نے انڈیا کے حالیہ یکطرفہ اقدامات، خاص طور پر 23 اپریل کی غیر قانونی کارروائیوں، فوجی نقل و حرکت اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اقدامات اور ممکنہ کشیدگی کے معتبر شواہد نے صورت حال کو خطرناک حد تک تناؤ کا شکار بنا دیا ہے۔ آج صورت حال پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہے، کیوںکہ بڑھتی ہوئی اشتعال انگیز بیان بازی، فوجی نقل و حرکت اوراشتعال  انگیز اقدامات نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سکیورٹی کونسل میں امن کا پیغام لے کر آیا نہ کہ اشتعال انگیزی کا۔ یہ ذمے داری، تحمل اور اُن اصولوں کے احترام کا تقاضہ کرتا ہے جو ہماری دنیا کے نظم و نسق کو قائم رکھتے ہیں۔ آئیے اُن اہم نکات کو اجاگر کروں جو ہم نے پیش کیے۔

عاصم افختار نے مزید کہا کہ کونسل کو یاد دہانی کرائی گئی کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ جموں و کشمیر کا حل طلب تنازع ہے۔

کشمیری عوام آج بھی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، بلا جواز گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، تشدد، گھروں کی مسماری، اظہارِ رائے اور میڈیا پر پابندیاں، اور ان کے حقِ خودارادیت سے منظم انکار۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کونسل اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد کرے، جن میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کا انعقاد بھی شامل ہے تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انڈیا کی جانب سے غلط معلومات کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کو بے نقاب کیا یعنی پاکستان کو بدنام کرنے اور جھوٹے بیانیے گھڑنے کی کوششیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کونسل کو یاد دلایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا ملک رہا ہے، جس نے 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور بھاری معاشی نقصان برداشت کیا۔

 انڈیا کی جانب سے اس حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی جب کہ وہ خود خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات اور بیرون ملک دہشت گردی میں ملوث ہے، جیسا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ اور سرحد پار ٹارگٹ کلنگ۔ ان سب باتوں کا سامنا سچائی، شفافیت اور جوابدہی سے ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے تمام ہمسایہ ممالک، بشمول انڈیا، کے ساتھ پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا۔

ہم باہمی احترام اور خودمختار برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ ہم نے پہلگام واقعے کی آزاد، شفاف، غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ۔ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، لیکن اپنے مفادات کے دفاع اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر پرعزم رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سلامتی کونسل اور سکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ امن قائم کرنے اور تنازعات سے بچنے کے لیے فعال طور پر کردار ادا کریں۔ کونسل کا کردار صرف دور بیٹھ کر تنازع دیکھنا نہیں، بلکہ بروقت اور اصولی اقدام کے ذریعے اسے روکنا بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امن قائم کیا جاتا ہے، مکالمے، رابطے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ذریعے۔ انڈیا کا موجودہ رویہ ان میں سے کسی چیز کا عکاس نہیں۔

امن کی ذمے داری سب کو اٹھانی ہوگی۔ کشمیری عوام انصاف کے لیے بہت دیر سے منتظر ہیں۔ اور پاکستانی عوام خاموش تماشائی نہیں بنیں گے جب ان کے حقوق  پانی، امن اور خودمختاری  کو خطرہ لاحق ہو۔

انہوں نے کہا کہ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی جو اپیلیں آج ہمیں سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے سننے کو ملیں، وہ نہایت بروقت اور اہم ہیں اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے یہی واحد راستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹکراؤ نہیں چاہتا، لیکن ہم اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق مکمل طور پر تیار ہیں۔ جب ایک ایسے خطے میں امن خطرے میں ہو جہاں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے، تو یہ معاملہ عالمی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔

اجلاس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی پر غور کیا گیا جس میں سلامتی کونسل کے 15 ارکان شریک ہوئے۔
منگل, مئی 6, 2025 - 07:30
Main image: 

<p class="rteright">6 مئی 2025 کو نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار میڈیا کو بیفنگ دیتے ہوئے (اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مشن/ ایکس)</p>

type: 
SEO Title: 
سکیورٹی کونسل اجلاس کے مقاصد حاصل کر لیے ’پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں‘: پاکستان


from Independent Urdu https://ift.tt/EOpjSKb

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;