پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو کہا ہے کہ روایتی حریف انڈیا کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا اور اس کے لیے کسی نئے معاشی جائزے کی ضرورت نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیئے گئے آن لائن انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکہ جس نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا کلیدی کردار ادا کیا تھا، کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ممکنہ طور پر ’شارٹ آرڈر‘ میں پیش رفت ہوگی اور پاکستان زیادہ اعلیٰ قسم کی کپاس اور سویا بین درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ ہائیڈرو کاربن سمیت دیگر اثاثہ جات بھی تلاش کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد واشنگٹن انڈیا اور پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تجارت ایک بڑی وجہ تھی، جس کی وجہ سے انہوں (پاکستان اور انڈیا) نے ’لڑائی بند کر دی۔‘
پاکستان کو تقریباً تین ارب ڈالر کے تجارتی سرپلس کی وجہ سے امریکہ کو برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، لیکن فی الحال اپریل میں کیے گئے اعلان کے مطابق اس میں 90 دن کا وقفہ ہے۔
انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران پڑنے والے مالیاتی اثرات کو کم سے کم قرار دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسے ’موجودہ مالی وسائل میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جو حکومت پاکستان کو دستیاب ہیں۔‘
جب آئندہ بجٹ میں فوجی اخراجات میں ممکنہ اضافے کے بارے میں سوال کیا گیا تو وزیر خزانہ نے کہا کہ مخصوص منصوبوں پر بات کرنا قبل از وقت ہے، تاہم انہوں نے کہا: ’اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ہمیں جو بھی کرنے کی ضرورت ہوئی، وہ ہم کریں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعے (نو مئی)کو پاکستان کو ایک ارب ڈالر قرض کی فراہمی کی منظوری دی تھی، جو سات ارب ڈالر کے بڑے بیل آؤٹ معاہدے کا ایک حصہ ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان کو یہ قسط منگل (13 مئی) کو موصول ہو جائے گی۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی سہولت کے تحت پاکستان کو 1.4 ارب ڈالر کے نئے قرضے کی منظوری بھی دی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ جولائی سے شروع ہونے والے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو اگلے تین سے چار ہفتوں میں حتمی شکل دے دی جائے گی، جس میں 14 سے 23 مئی تک آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات ہوں گے۔
انٹرویو کے دوران وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ سندھ طاس معاہدہ، جسے انڈیا نے یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا، دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے معاہدے کی معطلی سے فوری طور پر کوئی اثر نہیں ہونے والا اور پاکستان ایسےکسی منظرنامے پر غور بھی نہیں کرنا چاہتا، جس میں اس معاہدے کی بحالی مدنظر نہ ہو۔‘
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہندو سیاحوں پر حملے کے بعد بڑھنا شروع ہوئی تھی، جس میں 26 اموات ہوئی تھیں۔ جس کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان دو دہائیوں سے زائد عرصے میں بدترین جھڑپیں ہوئیں۔
بعدازاں 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں دونوں ملکوں نے سیزفائر پر اتفاق کر لیا تھا۔
<p class="rteright">پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پانچ اپریل 2025 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (فاروق نعیم / اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/jZlcwbK