انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہمارا معاملہ نہیں: امریکی نائب صدر

News Inside

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ تین دن سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری اس کشیدگی پر لائیو اپ ٹیٹس یہاں دیکھیے:

انڈیا کا پاکستان پر انڈین حدود میں 15 مختلف مقامات پر حملوں کا الزام۔

پاکستانی فوج کے مطابق انڈیا کا پاکستان پر حملوں کا الزام ڈراما ہے۔ ’جب پاکستان حملہ کرے گا تو دنیا دیکھے گی۔‘

انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوابی گولہ باری سے 15 اموات ہوئیں۔


صبح 07 بجکر 26 منٹ

امریکہ کے نائب صدر کا بیان: ’انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہمارا معاملہ نہیں‘

 امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو کشیدگی کم کرنی چاہیے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ان جوہری طاقتوں پر قابو نہیں پا سکتا اور اگر ان کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو وہ ’ہمارا معاملہ نہیں ہوگا۔‘

نو مئی 2025 کو فاکس نیوز کے پروگرام ’دی سٹوری وِد مارٹھا مک کالم‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ جتنی جلدی ممکن ہو، ٹھنڈا ہو جائے۔ لیکن ہم ان ممالک کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روئٹرز کے مطابق انہوں نے مزید کہا ’ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ انہیں کشیدگی کم کرنے کی ترغیب دیں، لیکن ہم ایسی جنگ میں فریق نہیں بنیں گے جس کا بنیادی طور پر ہم سے کوئی تعلق نہیں اور جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔‘

نائب صدر وینس نے کہا ’ہماری امید اور توقع یہی ہے کہ یہ معاملہ کسی بڑے علاقائی تنازع یا خدانخواستہ جوہری جنگ کی طرف نہ جائے۔‘

امریکہ نے گذشتہ دنوں میں دونوں ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہیں۔ جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے وزیر اعظم اور انڈیا کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور براہِ راست بات چیت کریں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ’افسوس ناک‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے دونوں ممالک اب مزید آگے نہیں بڑھیں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک ’ذمہ دارانہ حل‘ کی طرف بڑھیں۔


صبح 07 بجکر 10 منٹ

امریکہ کا پہلگام حملے کی آزادانہ تحقیقات کی حمایت کا عندیہ

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ امریکہ انڈین زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کی حمایت کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس مقصد کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔‘

سی این این کے مطابق ٹیمی بروس نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ روبیو ’ان رابطوں اور کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

ایک نیوز بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا ’بات چیت ہونی چاہیے۔ امریکہ اس ساری صورتحال میں مرکزی کردار میں رہا ہے، خاص طور پر گذشتہ دو دنوں میں دونوں ممالک کے مختلف رہنماؤں سے بات چیت کے ذریعے۔‘

امریکی وزیر خارجہ روبیو نے آج انڈیا کے وزیرِ خارجہ اور پاکستان کے وزیرِ اعظم سے الگ الگ ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں سے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا ’ہر صورتِ حال میں، خاص طور پر ایسی حساس اور خطرناک صورتِ حال میں جہاں سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہو، ہم اس کی تفصیلات عام نہیں کرتے۔‘


صبح 06 بجکر 20 منٹ

پاکستان اور انڈیا کے درمیان قومی سلامتی کی سطح پر رابطہ ہوا ہے: امریکہ میں پاکستانی سفیر

امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ان کی قومی سلامتی کونسلز کی سطح پر رابطے ہوئے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان فی الوقت کوئی بات چیت جاری ہے۔

سی این این کو گذشتہ رات دیے گئے ایک انٹرویو میں سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین حالیہ جھڑپوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کی ذمہ داری اب انڈیا پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے انٹرویو میں کہا ’میرا خیال ہے کہ قومی سلامتی کونسلز کی سطح پر رابطہ ہوا ہے، لیکن اب جو کشیدگی بڑھ رہی ہے، چاہے وہ اقدامات کی صورت میں ہو یا بیانات کی، اسے رکنا ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اب کشیدگی کم کرنے کی ذمہ داری انڈیا پر ہے، لیکن صبر کے بھی کچھ تقاضے اور حدود ہوتے ہیں۔ پاکستان کو جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ ہماری عوامی رائے حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ردعمل دے۔‘

دنیا کی کئی بڑی طاقتوں، بشمول امریکہ، نے انڈیا اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور باہمی رابطے بحال رکھیں۔ واشنگٹن نے براہِ راست مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

جمعرات کے روز پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے پر ڈرون حملوں کا الزام لگایا، جبکہ پاکستان کے وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ مزید جوابی کارروائی ’یقینی‘ ہوتی جا رہی ہے۔ روئٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ شدید جھڑپوں میں اب تک لگ بھگ چار درجن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


مزید خبروں اور اپ ڈیٹس کیے لیے یہاں کلک کیجیے۔ 

 امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو کشیدگی کم کرنی چاہیے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ان جوہری طاقتوں پر قابو نہیں پا سکتا اور اگر ان کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو وہ ’ہمارا معاملہ نہیں ہوگا۔‘
جمعہ, مئی 9, 2025 - 07:45
Main image: 
jw id: 
hmgZ977k
type: 
SEO Title: 
انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہمارا معاملہ نہیں: امریکی نائب صدر


from Independent Urdu https://ift.tt/XcyHlTe

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
<div class='sticky-ads' id='sticky-ads'> <div class='sticky-ads-close' onclick='document.getElementById("sticky-ads").style.display="none"'><svg viewBox='0 0 512 512' xmlns='http://www.w3.org/2000/svg'><path d='M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z'/></svg></div> <div class='sticky-ads-content'> <script type="text/javascript"> atOptions = { 'key' : '9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} }; document.write('<scr' + 'ipt type="text/javascript" src="http' + (location.protocol === 'https:' ? 's' : '') + '://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js"></scr' + 'ipt>'); </script> </div> </div> </div> </div>