آسٹریلوی سینیٹ میں برقع پہن کر آمد کا خطرناک ڈراما

News Inside

پاپولسٹ (عوامی جذبات سے کھیلنے والا) سیاست دان بننے کے لیے ایک خاص قسم کا انسان ہونا پڑتا ہے۔ بےشرمی اس میں مدد دیتی ہے، لیکن غصہ اس کی کلید ہے۔ یہ آسانی سے آنا چاہیے، یا اگر آپ ڈراما کر رہے ہیں تو کم از کم اسے پورے یقین کے ساتھ ظاہر کیا جانا چاہیے۔

آسٹریلیا کی ’ون نیشن پارٹی‘ کی رہنما پاؤلین ہینسن کو اپنا یہ ’طریقہ واردات‘ خوب اچھی طرح یاد ہے۔ اور یہ کوئی اچھی بات نہیں: لوگوں کے کسی گروہ کو ولن بناؤ، تماشا کھڑا کرو اور پھر اس سے ملنے والی تشہیر کے مزے لوٹو۔

گذشتہ روز وہ برقع پہن کر آسٹریلوی سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئیں۔ ان کے بقول یہ عوامی مقامات پر چہرہ مکمل ڈھانپنے پر پابندی کے بل کے مسترد ہونے کے خلاف احتجاج تھا۔

ایوان میں حکمران جماعت کی رہنما پینی وونگ نے مسلمان سینیٹروں کے ساتھ مل کر اس ڈرامے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ’آسٹریلوی سینیٹ کے کسی رکن کے شایان شان نہیں۔‘ بلاشبہ یہ اس قابل نہیں تھا۔

آج کل سنسنی پھیلانے والے سیاست دانوں کی ایک بڑھتی ہوئی کلاس، جنہیں ٹی وی اور ریڈیو ٹاک شوز پر ان ہی جیسے میزبان اکساتے ہیں، لوگوں کے پست جذبات کو ابھارنے کے لیے آداب، قائم شدہ قواعد اور یہاں تک کہ قانون کو بھی نظر انداز کر دیتی ہے۔

ہینسن اب کئی دہائیوں سے ’نسل پرست کارڈ‘ کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی عوامی زندگی کا آغاز آسٹریلیا کے آبائی باشندوں (Aborigine) پر اپنے خیالات کے اظہار سے کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی موجودہ توجہ بھوری جلد والے تارکین وطن پر مرکوز کر لی۔

لیکن اگرچہ آسٹریلوی ثقافت اور سیاست پر ان کا بلاشبہ اثر پڑا ہے، تاہم یہ اثر اس لحاظ سے قابل غور ہے کہ دیگر مغربی ملکوں میں موجود عوامی جذبات بھڑکانے والے لیڈروں (Demagogues) کے مقابلے میں یہ کتنا کم رہا ہے۔

آسٹریلیا کی تقریباً ایک تہائی (31.5 فیصد) آبادی بیرون ملک پیدا ہوئی ہے۔ لیکن وہاں پاپولسٹ تحریک کا، برطانیہ میں ’ریفارم یو کے‘ کے عروج، امریکہ میں ’ماگا‘ (MAGA) تحریک، یا براعظم یورپ میں دائیں بازو کی لہروں سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔

کچھ آسٹریلوی ماہرین کا خیال ہے کہ ان کے ملک کا لازمی اور ’ترجیحی‘ ووٹنگ کا نظام سیاسی انتہا پسندوں کو دور رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

لیکن شاید آسٹریلیا کی زیادہ خوشحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ معاشی دباؤ کا شکار معاشرے قربانی کے بکرے تلاش کرتے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں غریبوں اور محروموں کی بڑھتی ہوئی تعداد نائجل فراج اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغامات کو قبول کرتی ہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو صدارتی انتخابی مباحثے میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیوں کیا ہوتا کہ غیر قانونی تارکین وطن امریکیوں کے پالتو بلیاں اور کتے کھا رہے ہیں؟

اور ایک بار جب پاپولسٹ اس سے بچ نکلتے ہیں، تو وہ دوبارہ ایسا ہی کرتے ہیں، چاہے ان کی حرکتیں کتنی ہی جھوٹی یا گھٹیا کیوں نہ ہوں۔

برازیل کے بدمعاش سابق صدر ہائر بولسونارو کو نہ صرف کانگریس کے رکن کے طور پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی بلکہ وہ کانگریس کی ایک خاتون رکن کو یہ کہنے کے باوجود صدر بن گئے کہ وہ ان کا ریپ کرنے کی زحمت نہیں کریں گے کیونکہ وہ ’بہت بدصورت‘ ہیں۔

بولسونارو، جنہیں ’لاطینی امریکہ کا ٹرمپ‘ کہا گیا، نے 2022 میں مضحکہ خیز انتخابی ہتھکنڈوں کے ساتھ دوبارہ انتخاب لڑا، جس میں ایک ویڈیو بھی شامل تھی جس میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے بائیں بازو کے مخالفین ایل جی بی ٹی لابی کو خوش کرنے کے لیے ڈے کیئر سینٹرز میں بچوں کو عضو تناسل کی شکل والے نپلوں والی فیڈر بوتلیں بانٹ رہے ہیں۔

اور اپنے دوست ٹرمپ کی طرح، بولسونارو نے اس انتخاب سے پہلے ووٹنگ میں دھاندلی کے بارے میں پاگل پن پر مبنی سازشی نظریات کو فروغ دیا جسے وہ ہار گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاپولسٹ جانتے ہیں کہ اگر آپ جھوٹ کو اتنی زور سے اور اتنی دیر تک دہرائیں گے تو یہ پیغام کچھ ووٹروں کے ذہن میں بیٹھ جائے گا۔

سوشل میڈیا نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ٹوئٹر (ایکس)، جسے دائیں بازو کی پاپولزم کے سب سے زیادہ شور مچانے والے حامیوں میں سے ایک ایلون مسک اپنی ذاتی جاگیر کی طرح چلاتے ہیں، نے مہم چلانے والوں اور سیاست دانوں کو اپنے ’شاک ٹیکٹکس‘ استعمال کرنے کے لیے ایک ان ایڈیٹڈ آواز فراہم کر دی ہے۔

ایلون مسک غیر منتخب ’ٹیک اولیگارک‘ (Tech-oligarch) ہیں اور وہ اپنی طاقت کا استعمال بین الاقوامی سطح پر کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے ستمبر میں دائیں بازو کے کارکن ٹامی رابنسن کی طرف سے منعقد کی گئی برطانیہ کی ’یونائیٹ دی کنگڈم‘ ریلی میں کیا۔ مسک نسل اور صنف پر مبنی اپنے سازشی مواد کو دنیا بھر میں ایکس پر اپنے 20 کروڑ سے زیادہ فالوورز تک براہ راست پہنچا سکتے ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ دائیں بازو کی پاپولزم، سفید فام قوم پرستی اور ’ٹیکنو کلیپٹوکریسی‘ (ٹیکنالوجی کے ذریعے لوٹ مار) کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور اس کے حامیوں کے سنسنی خیز ہتھکنڈے اب ختم ہونے والے نہیں ہیں۔

یہ بات اس امر کو اور بھی اہم بناتی ہے کہ دائیں اور بائیں بازو کے مرکزی دھارے کے سیاست دان پارٹی سیاست کو ایک طرف رکھیں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

برطانیہ میں آثار امید افزا نہیں ہیں۔ جب کنزرویٹو پارٹی کی سینیئر شخصیت جیسے رابرٹ جینرک کرایہ نہ دینے والوں کو شرمندہ کرنے والی ویڈیوز بنا کر تشہیر حاصل کرتے ہیں، جس میں وہ ’عجیب و غریب ترک حجاموں کی دکانوں‘ پر طنز کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ پیغام ’ریفارم یو کے‘ کی طرف سے تارکین وطن کے ’حملوں‘ اور ’برطانوی اقدار کا اشتراک نہ کرنے‘ والے گروہوں کے حوالے سے زیادہ مختلف نہیں لگتا۔

ٹرمپ کے امریکہ میں رپبلکن پارٹی اپنے اصولوں کو ترک کر چکی ہے، اور اس نے بدمعاشوں اور لٹیروں کو سفید فام ورکنگ کلاس کی شکایات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے، جس کا حتمی فائدہ خود ان کے سوا کسی کو نہیں ہوتا۔

ہم برطانیہ میں خود کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ نقاب پوش امیگریشن ایجنٹوں کے چھاپے اور سمگلروں کی کشتیوں پر ڈرون حملے یہاں نہیں ہو سکتے۔ لیکن 10 سال پہلے زیادہ تر امریکی بھی یہی کہتے تھے۔

پیر کو ایک آسٹریلوی سیاست دان برقع پہن کر سینیٹ میں آ گئیں جسے ایک اشتعال انگیز سٹنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
بدھ, نومبر 26, 2025 - 06:30
Main image: 

<p class="rteright">آسٹریلین سینیٹر پولین ہینسن 24 نومبر، 2025 کو احتجاجاً برقع پہن کر پارلیمنٹ میں داخل ہوئیں (دا ایج/ایکس اکاؤنٹ)</p>

jw id: 
dHs1HwDu
type: 
SEO Title: 
آسٹریلوی سینیٹ میں برقع پہن کر آمد کا خطرناک ڈراما


from Independent Urdu https://ift.tt/o7rMPws

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;