اردو کے مشہور شاعر اکبر الہٰ آبادی کا خواتین سے متعلق کہا گیا شاہکار کلام ایک مجموعے کی صورت شائع ہوا جس کا نام عورت نامہ رکھا گیا۔ اس مجموعے میں وہ تمام اشعار شامل ہیں جن میں گھر سے نکلنے والی ہر عورت پہ لعنت ملامت کی گئی ہے۔ پھر چاہے وہ کالج پڑھنے والی دختران ہوں یا نوکری کرنے والے میم ، سب خواتین کو اکبر نے پبلک پسند لیڈی کہہ کر رگید دیا۔
مسئلہ یہ نہیں کہ صرف اکبر الہٰ آبادی کو ماڈرن تعلیم یافتہ خواتین سے چڑ تھی، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اکبر کے ایسے خیالات پہ واہ واہ کرنے والوں میں ان کے تمام ہم عصر شاعر اور ادیب شامل تھے۔ ان حضرات نے مشرقی روایات میں مغرب کی آمیزش کا سارا ملبہ برصغیر کی خواتین پہ ڈال دیا۔ اکبر کے جذبات دراصل ہمارے جنوبی ایشیائی پدرسری معاشرے کے عکاس تھے۔
خیر اکبر الہٰ آبادی کی خواتین سے شکایات کا ذکر تو یونہی چھڑ گیا اصل مدعا ایلون مسک اور ان کے ہمنواوں کی ہائے ہائے ہے۔ اس ٹولے نے بھی ایک لکیر پکڑ لی ہے جسے ہر کچھ عرصے بعد پیٹے جاتے ہیں ۔یہ مغربی دنیا کے ہر مسئلے کی وجہ یہاں رہنے والے تارکین وطن میں ڈھونڈتے ہیں۔
ایلون مسکی ٹولے کے مطابق گورے یعنی سفید فام نسل معدوم ہونے کو ہے، یورپی ثقافت بھی مٹنے کے قریب ہے۔ سفید فام مغربی ممالک کی مقامی آبادی اپنے ہی خطے میں اقلیت بننے والی ہے۔
دنیا بھر میں گوروں کی گھٹتی تعداد ایک حقیقت ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی ادارے اپنی حالیہ رپورٹوں کہتے ہیں کہ گذشتہ چار برسوں میں یورپ کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ اضافہ مہاجرین کی وجہ سے ہے جن میں ٹاپ پہ شام سے آنے والے افراد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یورپ میں پیدا ہونے والے چھبیس فیصد بچوں کی مائیں مقامی عورتیں نہیں۔
ان بھاری بھر کم رپورٹس کو بنیاد بنا کر ایلون مسک اینڈ کمپنی سفید فام نسل کی انحطاط پذیری کا سارا ملبہ یورپ بسنے والے تارکین وطن پہ ڈال رہے ہیں۔ امریکہ میں حال میں قتل ہونے والے چارلی کرک اور ان کی سفید فام سیاسی مہم کا بھی یہی نعرہ تھا۔
ماریو نوفل سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں۔انہوں نے ٹوئٹ کی جسے ڈھائی تین کروڑ افراد پڑھ چکے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ سفید فام افراد کی افزائش نسل بند ہوگئی ہے جس کی وجہ مغربی ممالک میں سیاہ فام ،عرب اور جنوبی ایشیائی نسلوں کی ہجرت ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مغربی نسلوں کے زوال پہ نوحہ کناں ان افراد کی خواہش ہے کہ یورپ میں بسنے والے سیاہ فام ، عرب اور وسطی و جنوبی ایشیائی نژاد افراد کا انخلا ہو یا کم از کم یہ نہ ہو تو مزید کو یورپ آنے نہ دیا جائے۔
یہ ٹولہ گھما پھرا کر مغرب کے ہر مسئلے کو مہاجرین سے جوڑ دیتا ہے مگر اصل مدعے کی جانب نہیں آتا۔ یہ کبھی نہیں بتاتے کہ یورپ میں خاندانی نظام کا قتل کسی انڈین، پاکستانی، فلپائنی یا مراکشی تارکِ وطن نے نہیں کیا۔
میرے حلقہ احباب میں شامل جرمن ڈچ یا سکینڈنیوین دوست بتاتے ہیں کہ ان کے دادا، پر دادا کئی افراد پہ مشتمل بڑے خاندان کا حصہ تھے۔ چھ، سات بچے لگ بھگ ہر خاندان میں ہوتے تھے۔ یہ یورپین اگر جرمنی، فرانس، اٹلی یا سپین جیسے ممالک کے شہری علاقوں میں رہتے تھے تب بھی بڑے گھرانوں، کئی بہن بھائیوں اور شادیوں کا کلچر موجود تھا۔
یورپ میں شادی جیسا سماجی محرک بھی کسی عرب النسل تارکِ وطن نے ختم نہیں کیا۔ گذشتہ 50 برسوں میں یہ احساس عام ہوا کہ شادی سماجی اور معاشی بوجھ ہے اس لیے یہ شادی سے کترانے لگے۔
جنگ عظیم دوم کے بعد سے آج تک یورپی خواتین نے مردوں کی شانہ بشانہ یورپ کی ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔ تلاش معاش کے اس چکر میں شادی، بچوں کی پیدائش اور بڑے خاندانوں کا کلچر کہیں دور رہ گیا۔ اس قدرتی عمل کے پیچھے بھی کسی سیاہ فام مہاجر کا ہاتھ نہیں۔
انڈسٹری، ٹیکنالوجی اور اب مصنوعی ذہانت کےپے در پے انقلابات نے مردوں اور عورتوں کی جسمانی بالخصوص تولیدی صحت پہ منفی اثر ڈالا ہے۔ کیا ایلون مسک اور ان کے نظریاتی حواری اس کا الزام بھی مہاجرین کو دیں گے ؟
یورپ میں تہذیب، خاندانی اکائی اور افزائش نسل کا جنازہ اس وقت نکلا جب یہاں جنسی آزادی اور جنسی شناخت کا معاملہ بڑھتے بڑھتے ہم جنس پرستی تک جا پہنچا۔ یورپ کس منہ سے دعویٰ کرسکتا ہے کہ جنسی انقلاب کے پیچھے بھی تارکین وطن کا ہاتھ ہے ؟
دنیا کی ہر ثقافت تبدیلی سے گزری ہے۔ سب نے کبھی نہ کبھی ہجرت، جنگوں، معاشی بحرانوں اور سماجی تبدیلیوں کا سامنا کیا ہے۔ نسل پرست چاہے جتنا زور لگالیں تبدیلی کے اس قدرتی دھارے کو تارکین وطن پہ الزام لگا کر روکا نہیں جا سکتا۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p>لندن میں لوگ 29 ستمبر 2025 کو ساؤتھ بینک کے ساتھ چل رہے ہیں، پس منظر میں ایلزبتھ ٹاور، جو عام طور پر ’بگ بین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے نظر آ رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/R2y3bXp