2025 میں پاکستان کو درپیش داخلی سلامتی کے چیلنجز میں مزید شدت آئی، جس کی بڑی وجہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحد پار حملوں کی وجہ سے طالبان حکومت کے ساتھ بگڑتے تعلقات رہے۔
ان کشیدگیوں کا فائدہ عسکریت پسند نیٹ ورکس نے اٹھایا، جبکہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف رہنے والے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران بلوچ باغی گروہوں نے بھی حملے کیے اور بہتر عسکری صلاحیتوں اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
اگرچہ داعش خراسان کو آپریشنل اور پروپیگنڈا دونوں محاذوں پر شدید دھچکے لگے، تاہم سال کے اختتام پر اس نے افغانستان پاکستان سرحدی خطے میں نظریاتی، نسلی اور فرقہ وارانہ خلیجوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ منظم ہونے کے آثار دکھائے۔
جنوبی ایشیا ٹیررازم پورٹل کے اوپن سورس ڈیٹا کے مطابق 2025 میں پاکستان میں 1,709 عسکریت پسندی کے واقعات پیش آئے، جن میں تقریباً 3,967 افراد جان سے گئے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد 2025 پاکستان کے لیے سب سے زیادہ پرتشدد سال ثابت ہوا۔ طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی موجودگی سے انکار اور اس کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر پاکستان نے افغانستان میں پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کی۔
اس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ گئے۔
اگرچہ قطر، ترکی اور سعودی عرب کی ثالثی سے ایک کمزور جنگ بندی ممکن ہوئی، تاہم کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
افغانستان پاکستان کے بڑے سرحدی راستے تجارت اور آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔ اسی دوران پاکستان نے طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز کر دیا۔ افغان علما کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرنے پر پابندی سے متعلق فتویٰ، جس کی طالبان حکومت نے توثیق کی، ایک مثبت پیش رفت تھی۔
پاکستان نے اس کا محتاط خیرمقدم کیا اور اس پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی پر زور دیا۔
ٹی ٹی پی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی سب سے بڑی فائدہ اٹھانے والی جماعت ثابت ہوئی۔ اس نے اپنے دائرہ اثر اور تنظیمی طاقت بڑھانے کے لیے مقامی ’جہادی‘ دھڑوں کو مسلسل اپنے اندر ضم کیا۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد عسکریت پسند گروہ ٹی ٹی پی میں شامل ہو چکے ہیں۔
دسمبر میں، طالبان کے طرز بغاوت کی نقل کرتے ہوئے، ٹی ٹی پی نے اپنی رہبری شوریٰ کے اجلاس کے بعد ایک نیا تنظیمی ڈھانچہ متعارف کرایا، جس میں مغربی اور وسطی نگرانی زون قائم کیے گئے اور کشمیر اور گلگت کو الگ الگ شیڈو صوبوں میں تقسیم کیا گیا۔
عسکری قیادت میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ احسان اللہ ایپی کو جنوبی فوجی زون کا سربراہ مقرر کیا گیا، جبکہ غازی فورس کے سربراہ ہلال غازی کو وسطی فوجی زون کا نائب سربراہ بنایا گیا۔ سیاسی کمیشن کی قیادت مولوی فقیر محمد سے لے کر عظمت اللہ محسود کو سونپی گئی، تاہم مولوی فقیر محمد بدستور کمیشن کے رکن ہیں۔
ٹی ٹی پی نے اپنے نام نہاد فضائی یونٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس کی قیادت سلیم حقانی کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم نے تجارتی بنیادوں پر دستیاب کوڈ کاپٹرز رکھنے کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی ڈرونز کو نگرانی، پروپیگنڈا اور حملوں کے لیے مزید استعمال کرے گی۔ 2025 میں خیبر پختونخوا میں ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں کم از کم 85 حملے رپورٹ ہوئے، جن کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور اتحاد المجاہدین پاکستان نے قبول کی۔
اگرچہ ان حملوں میں استعمال ہونے والا بارودی مواد محدود تھا، تاہم ان کی درستگی میں وقت کے ساتھ بہتری آئی۔ آئندہ عسکریت پسند نیٹ ورکس ڈرونز کی باربرداری، پرواز کے دورانیے اور خاموشی میں مزید بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔ ان صلاحیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی جانب سے علم اور وسائل کی منتقلی ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں نے اب تک ڈرونز کو صرف نگرانی اور تشہیر کے لیے استعمال کیا ہے، تاہم مستقبل میں اس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
بلوچستان میں شورش مزید شدت اختیار کر گئی، جس کی ایک بڑی وجہ ریاست کی حد سے زیادہ عسکری نوعیت کی انسدادِ بغاوت پالیسی اور عوامی حمایت سے محروم صوبائی حکومت کا قیام تھا۔ مارچ میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین کا اغوا، جس میں 440 مسافر سوار تھے، باغیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا واضح ثبوت تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ نے قبول کی۔
سال بھر بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر گروہوں نے شاہراہوں کو بلاک کیا، اچانک ناکے لگائے اور شناختی کارڈ کی بنیاد پر پنجابی مزدوروں کو نشانہ بنایا۔ زیادہ تر متاثرین وہ مزدور تھے جو روزگار کی تلاش میں بلوچستان آئے تھے۔ باغیوں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے لیے بعض دور دراز قصبوں پر عارضی قبضہ بھی کیا۔ اس کے جواب میں حکومت نے رات کے وقت سفر پر پابندی، کرفیو اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات کیے، جن کے نتائج محدود رہے۔ جب تک بلوچ عوام کی جائز شکایات کے حل کے لیے سیاسی راستہ اختیار نہیں کیا جاتا، شورش میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
داعش خراسان کے لیے 2025 مجموعی طور پر ایک مشکل سال رہا۔ پاکستان نے ایبی گیٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ محمد شریف اللہ کی گرفتاری میں امریکہ کی مدد کی۔ اسی طرح بلوچستان میں داعش کے بیرونی حملوں سے متعلق نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا گیا۔ داعش کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری اور یورپول کی جانب سے اس کے اہم پروپیگنڈا پلیٹ فارمز کی بندش نے تنظیم کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم سال کے اختتام پر داعش نے دوبارہ سرگرمیوں اور تشہیری مہمات کے ذریعے بحالی کے آثار دکھائے۔
2026 میں پاکستان کی داخلی سلامتی کا دارومدار بڑی حد تک طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات اور ٹی ٹی پی کے معاملے پر پیش رفت پر ہو گا۔ اسی طرح بلوچستان میں امریکی سرمایہ کاری، خصوصاً معدنی وسائل کے شعبے میں، صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات ڈالے گی۔
امریکہ کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا اور پاکستان کے ساتھ سکیورٹی تعاون میں اضافہ آئندہ سکیورٹی منظرنامے کے اہم عوامل ہوں گے۔
مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p>چمن میں پاکستان–افغانستان سرحدی کشیدگی کے دوران ہسپتال کے باہر سکیورٹی اہلکار تعینات (فائل فوٹو اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/JaNWpj0
