سبی: چمڑے پر کشیدہ کاری کا فن جس کی ڈیمانڈ عرب ممالک میں بھی ہے

News Inside

مختلف رنگ اور اقسام کے دھاگوں کو خوبصورت ڈئزائن میں بدلنے کو کشیدہ کاری کہتے ہیں اور بلوچستان کے علاقے سبی سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ محمد امین اس ہنر کو چمڑے پر منتقل کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں، جس کی ڈیمانڈ عرب ممالک میں بھی ہے۔

محمد امین  نے کشیدہ کاری کا ہنر اپنے آبا واجداد سے سیکھا۔ ان کے داد اور اس کے بعد ان کے والد سبی میں چمڑے پر کشیدہ کاری کرنے کے بعد روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا بناتے تھے۔ ان کی تیار کردہ اشیا لوگوں میں بہت مقبول تھیں۔

محمد امین اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ مل کر ان دنوں سریاب روڈ میں واقع چھوٹی سی دکان میں اپنے برسوں پرانے ہنر کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس سے اپنے گھر والوں کی کفالت بھی کرتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 محمد امین چمڑے پر کشیدہ کاری کرنے کے بعد اس سے لیڈیز پرس، بٹوے، ٹشو پیپر کے ڈبے، فوٹو فریم اور کی چین تیار کرتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ایک پرس کو تیار کرنے لیے آٹھ سے نو دن درکار ہوتے ہیں اور اس میں 15مختلف قسم کے دھاگے استعمال کیے جاتے ہیں۔‘

محمد امین کے مطابق چمڑے پر کشیدہ کاری کی مانگ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک خاص طور پر عرب ممالک میں زیادہ ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ ملک کے مختلف صوبوں میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں بھی ان کے سٹالز لگائے جاتے ہیں، جہاں ان کے کام کو بہت پسند کیا جاتا ہے اور فروخت ہونے والی مختلف اشیا سے انہیں معقول آمدنی ہو جاتی ہے، جس سے انہیں گھر کا چولہا جلانے میں مدد ملتی ہے۔

محمد امین چمڑے پر کشیدہ کاری کر کے اس سے خواتین کے پرس، بٹوے، کی چین اور دیگر اشیا تیار کرتے ہیں۔
ہفتہ, جنوری 3, 2026 - 08:15
Main image: 

<p class="rteright">چمڑے پر کشیدہ کاری کرنے والے سبی کے ہنرمند محمد امین (انڈپینڈنٹ اردو)</p>

jw id: 
CzWd4W8x
type: 
SEO Title: 
سبی: چمڑے پر کشیدہ کاری کا فن جس کی ڈیمانڈ عرب ممالک میں بھی ہے


from Independent Urdu https://ift.tt/o7CU2PT

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;