’ملک ان انتظام ہم سنبھالیں گے۔‘ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ڈونلڈ ٹرمپ ’امریکہ سب سے پہلے‘ کے نعرے اور اس وعدے پر انتخابی مہم (کامیابی سے) چلا رہے تھے کہ وہ امریکہ کو مزید کسی تباہ کن غیر ملکی مہم جوئی میں نہیں الجھائیں گے۔
اب ذرا دیکھیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ وینزویلا کے عوام شاید ایک پرانے جابر سے نجات پا گئے ہوں، لیکن اب ان پر ایک اور حکمران مسلط ہونے والا ہے، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ اس بار یہ حتمی ’یانکی‘ (امریکی) ہے، جو ایک ایسے ’گروہ‘ کے ذریعے حکومت کرے گا جس میں مارکو روبیو (وزیرِ خارجہ)، پیٹ ہیگ سیتھ (المیہ و طربیہ وزیرِ دفاع) اور امریکی جرنیلوں کا ایک ٹولہ شامل ہے۔ ٹیڈی روزویلٹ کے دور کے بعد سے کسی امریکی صدر نے جنوب کے ہمسایوں کو نوآبادی بنانے میں ایسی بےشرمی اور مسرت کا مظاہرہ نہیں کیا۔
کیا ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ ہے کہ ٹرمپ ’قوم سازی‘ میں جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما، جو بائیڈن یا خود اپنے پچھلے دورِ صدارت سے بہتر ثابت ہوں گے؟ ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ امریکہ اس کام کا اہل نہیں۔ یہ وہ سبق ہے جسے ٹرمپ اب ایک اور ’ڈیل‘ کی خاطر بھلا رہے ہیں، یعنی ایک ایسی خارجہ پالیسی جو مکمل طور پر تجارتی مقاصد کے تابع ہے۔
ٹرمپ نے پرمسرت تنہائی پسندی (جس کی خواہش اور توقع ان کی ’ماگا‘ تحریک کو تھی) کی نہیں، بلکہ نئی سامراجیت کی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نہ صرف وینزویلا کا ’انتظام سنبھالے‘ گا بلکہ وینزویلا کے عوام سے اس کی قیمت بھی انہی کے تیل کی دولت سے وصول کرے گا۔
وہ امریکی تیل کمپنیاں جنہیں دہائیوں کے دوران وینزویلا سے نکالا گیا تھا، اب صنعت کا بنیادی ڈھانچہ دوبارہ تعمیر کرنے واپس آئیں گی اور امریکہ ان نقصانات کا ازالہ چاہے گا جو امریکی مفادات کو ایک طویل عرصے کے دوران پہنچے۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ٹرمپ کو ان کے ماضی کے وعدے اور انہیں نظرانداز کرنے کے خطرات یاد دلانے والا آخری عالمی رہنما، جیسا کہ ٹرمپ شاید کہیں، نکولس مادورو نامی ایک آدمی تھا۔ اگست میں مادورو نے جذباتی ہو کر ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے کہہ دیا تھا: ’آؤ اور مجھے گرفتار کرو، میں یہیں میرافلوریس (صدارتی محل) میں تمہارا انتظار کروں گا۔ دیر مت کرنا، بزدلو۔‘
ٹرمپ کو شاید یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے فیصلہ کر لیا۔ اب ہمیں پریس کانفرنس سے معلوم ہوا ہے کہ آپریشن ’ایبسولیوٹ ریزولو‘ (عزمِ کامل) کی منصوبہ بندی کئی مہینوں سے جاری تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر کسی کو یاد دہانی کی ضرورت تھی، تو وینزویلا کے علاقے پر جزوی قبضے کا منصوبہ (اور اس میں صرف تیل کا انفراسٹرکچر شامل نہیں ہو گا) اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ کا امریکہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے ان کنونشنز سے مزید ایک درجہ دور ہو گیا ہے جو تنازعات کے حل کے لیے مسلح طاقت کے استعمال سے روکتے ہیں۔ ہم تنہائی پسندی سے نکل کر جنگل کے قانون میں داخل ہو چکے ہیں۔
وینزویلا کے بعد، کیا کسی کو حیرت ہو گی اگر امریکہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے یا کیوبا پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کر لے؟ جس کا ذکر اس غیر معمولی بریفنگ میں بھی ہوا۔ یا ایران میں دوبارہ مداخلت کر لے، جیسا کہ ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے: ’اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر گولی چلائی اور انہیں پرتشدد طریقے سے مارا، جو کہ ان کی عادت ہے، تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ ان کی مدد کو آئے گا۔ ہم پوری طرح تیار ہیں۔‘
خیر، کم از کم مادورو جان سے نہیں مارے گئے۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ ایک حریف خاندان کے سربراہ کو، اس کی اہلیہ سمیت اغوا کرنا وہ کام ہے جو غنڈے کرتے ہیں، لیکن ایک لحاظ سے مادورو کا انجام اب تقریباً غیر اہم ہے۔ ہم منشیات کی کشتیوں اور کراکس پر بمباری کے صدمے سے آگے نکل چکے ہیں، ایک غیر ملکی رہنما کے اغوا کی سنگینی سے بھی آگے، اور اب ہم مغربی نصف کرہ میں اور اس سے بھی کہیں آگے امریکی بالادستی پر غور کر رہے ہیں۔
یہ جغرافیائی سیاسی غنڈہ گردی ہے۔ ٹرمپ نے، درحقیقت، مادورو کو ٹھکانے لگانے کا ٹھیکہ دیا، اور امریکی مسلح افواج نے دہائی کی سب سے بڑی ڈکیتی کمال مہارت سے سرانجام دی۔ یہ یقیناً ایک جرات مندانہ اقدام تھا اور ایک ایسی دنیا میں طاقت کا وہ مظاہرہ جس کا کوئی جواب نہیں، جہاں لاقانونیت بڑھ رہی ہے، جہاں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا قانون ہے، اور اگر آپ ’سرغنہ‘ کو نذرانہ نہیں دیں گے تو آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ایک طرفہ سفر پر روانہ کر دیا جائے گا۔ بس زیلینسکی سے پوچھ لیجیے۔
یہ شی جن پنگ، ولادی میر پوٹن، آیت اللہ خامنہ ای، کم جونگ ان اور کسی بھی دوسرے بدمعاش قسم کے طاقتور حکمران کے لیے ایک مضبوط پیغام اور تنبیہ ہے کہ بین الاقوامی کاروبار کرنے کا یہی نیا طریقہ اب معمول بن چکا ہے، اور ٹرمپ سب سے بڑے داداگیر ثابت ہوں گے۔ یہ صورتِ حال ظاہر ہے کہ یورپ، بشمول برطانیہ، کو تقسیم اور جبر کے سامنے پہلے سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔
انصاف کی بات کی جائے تو دنیا کے سب سے طاقتور خاندان کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے کچھ جوابدہی اور اپنے اقدامات کے لیے کم از کم قانونی جواز کا ایک لبادہ ضرور پیش کیا۔ اور مادورو، جو یقیناً ایک ہوشیار شخص ہیں، کوئی ولی یا بزرگ نہیں ہیں؛ انہوں نے وینزویلا کے عوام کا استحصال کرنے کے لیے ایک حقیقی مجرمانہ سازش کی سربراہی کی اور منشیات کی اس تجارت سے فائدہ اٹھایا جو دنیا بھر میں جرم اور مصیبت پھیلاتی ہے۔ وہ انسانی حقوق کے کوئی علمبردار نہیں۔ کم از کم اس مثال میں ٹرمپ نے اپنے دشمن کا انتخاب درست کیا ہے۔
لیکن اگر ٹرمپ اپنے حریف کے علاقے، یعنی وینزویلا کی انتہائی غیرت مند جمہوریہ پر قبضہ کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں، تو شاید وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ہی ایک ’ابدی جنگ‘ شروع کر رہے ہوں، اپنا عراق یا ویت نام، ایک ایسا تنازع جو واضح طور پر صرف پیسے اور تیل کے لیے ہے۔ اس سے متعلقہ لوگ شاید امیر تو ہو جائیں، لیکن اس کی قیمت امریکی جانوں کی صورت میں چکانی پڑے گی اور یقیناً یہ وہ کام نہیں جس کے لیے وہ منتخب ہوئے تھے۔ یہ ٹرمپ کی اب تک کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔
<p>وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز اپنے بھائی اور قومی اسمبلی کے سربراہ خورخے روڈریگیز کے ہمراہ 4 دسمبر 2025 کو کراکس میں قومی کانگریس میں 2026 کے مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقعے پر آتے ہوئے (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/pVOm8Yi