ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، پہلا میزائل آپ کے موبائل پر گرے گا

News Inside

اس سوال کو چھوڑ دیتے ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں۔ فرض کر لیتے ہیں کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟

پہلے مرحلے میں خوفناک بمباری، ایرانی قیادت اور اس کے دفاعی نظام کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ یقین کر لینے کے بعد کہ ایران اب کھلی جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ ہو گا معلومات کی جنگ کا، ان خبروں کا جو جھوٹی ہوں یا سچی لیکن یہ جنگ کا نقشہ بدل دینے پر قدرت رکھیں گی اور ہار جیت کا فیصلہ کریں گی۔

جو لوگ ایران کے زمینی حقائق کے مختلف ہونے کا تاثر دے رہے ہیں اور یہ قیاس کر رہے ہیں کہ رجیم چینج کا آپریشن امریکہ کے لیے اتنا سہل نہیں ہو گا اور ایران وینزویلا نہیں۔ ان لوگوں کو ان نئے ہتھیاروں کی تباہی کا اندازہ ہی نہیں جو الگوردم، اے آئی اور سیٹلائٹ سے داغے جاتے ہیں اور سیدھے آپ کے موبائل کے ذریعے آپ کے دماغوں کو بدل دیتے ہیں۔

یہ جنگ مصنوعی ذہانت لڑے گی

امریکہ اور ایران کی ٹیکنالوجی کا بظاہر کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اگرچہ ایران نے ماضیِ قریب میں اسرائیل کے اندر تک میزائل حملے کیے ہیں، جن میں سے بعض میزائلوں کو اسرائیل کا دفاعی نظام بھی روک نہیں سکا تھا۔ ایسا ہی ایک حملہ قطر میں امریکی فوجی بیس پر بھی کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران امریکہ کے کسی ایک جہاز کو بھی حملوں کے دوران نہ روک سکا، نہ نشانہ بنا سکا۔ اب بھی اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ اگر حملہ کرتا ہے تو وہ تباہ کن ہو گا، لیکن سوال اس ممکنہ حملے کے اصل ہدف کا ہے یعنی کیا امریکہ صرف فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے اندر رجیم بھی تبدیل کر سکتا ہے یا نہیں۔ یہ کام روایتی ہتھیاروں کی بجائے مصنوعی ذہانت سے لیا جائے گا۔

ایران کے اپنے اطلاعاتی نظام کو جام اور ناکارہ کرنے کے بعد معلومات تک رسائی کے تمام نظام کو مصنوعی ذہانت اور الگوردم کنٹرول کریں گے۔ ایسی ایسی خبرین منٹوں میں پھیلائی جائیں گی جن کی صداقت پر یقین کرنے سے پہلے ہی یہ کسی بھی میزائل سے زیادہ کار گر ثابت چکی ہوں گی۔

ان سے وہ لوگ جو موجودہ رجیم کے حامی ہیں ان کے حوصلے توڑے جائیں گے اور وہ لوگ جو اس رجیم کے مخالف ہیں انہیں زور آور ثابت کر دیا جائے گا۔ ایسا بالکل ممکن ہے۔ کسی بھی ملک میں رائے عامہ کے ٹرینڈز بنانا اور ان کی بنیاد پر رائے عامہ کو موڑنا اب نہایت ہی آسان اور تیکنیکی عمل ہے۔ انسانی سوچ کی بنیاد پر وہ فکری عمل جو قومی بیانیہ کی تشکیل کرتا ہے اب اسے تہس نہس کرنا یا پھر اس کی بنیادوں سے نیا بیانیہ اٹھانا اب چنداں مشکل نہیں۔

ماضی کی طرح افغنستان میں روسی مداخلت کے خلاف نہ تو کسی ’آپریشن نبراسکا‘ کی ضرورت ہے نہ ہی جنگ کا ایندھن بنانے والی نسل تیار کرنے کے لیے مدارس کا جال بچھانے اور لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں نصابی کتب چھاپنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ کام ایسی چابک دستی سے کیا جاتا ہے کہ ہر بندے کے ہاتھ میں موجود موبائل فون کے ذریعے کیلی فورنیا میں موجود ڈیٹا سرورز کے ذریعے مطلوبہ بیانیہ آپ کے دماغوں تک منتقل ہو جاتا ہے۔

اگرچہ ایران بھی پراپیگنڈا وار فیئر میں کمزور حریف نہیں اس نے یہ حربے ماضی میں عراق، شام، لبنان، یمن اور غزہ میں بھرپور طریقے سے آزمائے ہیں لیکن ٹیکنالوجی پر امریکی بالادستی کی وجہ سے ایران کے لیے امریکہ کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہو گا۔

وہ جنگ جو سانچ کو آنچ نہیں کا محاورہ بدل دے گی!

’سانچ کو آنچ نہیں‘ درست ہے مگر اس ممکنہ جنگ میں ’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئیں کھیت‘ والا محاورہ زیادہ مناسب لگے گا۔ یعنی جب تک لوگوں کو پتہ چلے گا کہ اصل حقائق کیا ہیں تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

 آج کل عام سوشل میڈیا صارفین بھی اے آئی کی مدد سے ایسی ایسی فیک وڈیوز بنا لیتے ہیں کہ جب تک حقیقیت معلوم ہوتی تب تک فیک نیوز اپنا اثر دکھا چکی ہوتی ہے۔ اسے لاکھوں کروڑوں لائکس، کمنٹس اور شیئر مل چکے ہوتے ہیں۔ کون گرفتار کر لیا گیا؟ کون فرار ہو گیا اور کون مارا گیا؟ یہ سب کچھ اب فیک نیوز کے بائیں ہاتھ کا کام ہے اور یہی دراصل جنگ کا نقشہ بدل دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

وہ لوگ جو بہت طاقتور نظر آتے ہیں ان کے بارے میں غلط خبریں جنگ کا دھارا بدل دیتی ہیں۔ ماضی قدیم کی جنگوں میں بھی جب کمانڈر مارا جاتا تھا تو جنگ کا فیصلہ ہو جاتا تھا۔ جنگ کو جاری رکھنے کے لیے یہ ضروری ہوتا تھا کہ کمانڈر بھی صفوں میں موجود رہے اور اس کا گھوڑا بھی مسلسل دائیں بائیں دوڑتا رہے۔

میدان جنگ میں کمانڈر کی موت کو چھپانا ممکن نہیں ہوتا تھا کیونکہ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی تھی اور باقی سپاہ چاہے فتح یاب بھی ہو رہی تب بھی وہ پسپائی اختیار کر لیتی تھی۔

آج کی جنگوں میں جیمنگ آلات کی مدد سے اپنی سپاہ اور عوام سے رابطے منقطع کروانا کوئی مشکل کام نہیں، جس کے بعد یہ طاقتور فریق کی مرضی ہے کہ وہ کون سی فیک نیوز سے کون سا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس جنگ میں مرنے والے سے پہلے سچ کی تدفین ہو گی۔

جنگ سے کیا حاصل ہو گا؟

یہ جنگ افغان یا عراق جنگ کی طرح نہیں ہو گی جہاں اتحادی فوجیں میدان پر اتریں گی (بوٹس آن گراؤنڈ) اور پھر کئی سال تک وہاں موجود بھی رہیں گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گرین لینڈ پر قبضے کے منصوبے کے بعد نیٹو عملاً ختم ہو چکا ہے۔ دوسری طرف امریکی معیشت اور نہ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل المدتی جنگ کو برداشت کر سکتے ہیں، اس لیے اس جنگ میں کم سے کم وقت میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

وینزویلا اور گرین لینڈ سے جو ٹرمپ ڈاکٹرائن سامنے آیا ہے وہ وسائل پر قبضے سے عبارت ہیں، اس لیے یہاں بھی نظر ایرانی وسائل پر ہے۔

موجودہ رجیم کی جگہ من پسند قیادت بٹھانا اور پھر ایران پر پابندیاں ہٹا کر اسے عالمی دھارے میں شامل کرنا تاکہ ایرانی تیل کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو سکیں، جس کا فائدہ زوال پذیر امریکی معیشیت کو پہنچایا جا سکے۔

لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا یا اس کے لیے وقت زیادہ درکار ہوتا ہے تو آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے اس کی سلامتی سوالیہ نشان بن جائے گی۔ سعودی عرب، کویت، قطر، عراق اور متحدہ عرب امارات کے تیل کی برآمدات کا انحصار اسی راستے پر ہے۔ ایران اگر اسے مکمل بند نہ بھی کر سکے تب بھی یہاں غیر یقینی حالات سے ہی تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ سکتی ہیں۔

سمندری جہازوں کی انشورنس کا پریمیئم بڑھنے کا اثر بھی تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ یہی وہ ممکنہ وجہ ہے کہ کوئی بھی علاقائی طاقت یہاں امن کو داؤ پر لگانے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ تیل کی عالمی منڈی میں میزائل سے بھی کارگر ہتھیار خوف کو سمجھا جاتا ہے۔

اس لیے اس ممکنہ جنگ کا نشانہ صرف ایرانی رجیم ہی نہیں ہو گی بلکہ پوری دنیا ہو گی۔ تیل مہنگا ہو گا تو سب متاثرہوں گے لیکن اگر ٹرمپ اپنے مقاصد حاصل کر لیتے ہیں اور تیل سستا ہو جاتا ہے تو وہ دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے دنیا کو سستا تیل دے کر مہنگائی اور بیروزگاری سے بچایا ہے۔

اور جنگوں کے باوجود بھی وہ اپنے لیے امن کا نوبل انعام پانے کی کوشش کریں گے۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

امریکہ ایران ممکنہ ٹکراؤ: اس جنگ میں مرنے والے سے پہلے سچ کی تدفین ہو گی، جہاں میزائلوں سے زیادہ خطرناک ہتھیار ’مصنوعی ذہانت‘ اور ’فیک نیوز‘ ہوں گے۔
جمعہ, جنوری 30, 2026 - 06:45
Main image: 

<p class="rteright">جنگ کا پہلا نشانہ سچ ہوتا ہے، اور سائبر دور میں سائبر ہتھیار استعمال ہوں گے (پکسا بے)</p>

type: 
SEO Title: 
ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، پہلا میزائل آپ کے موبائل پر گرے گا


from Independent Urdu https://ift.tt/pesKP8t

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;