لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں 15 روز کے دورانیے میں خود سوزی کے دو واقعات سامنے آئے ہیں۔ پہلے واقعے میں طالب علم کی فوراً موت واقع ہو گئی جبکہ دوسرے میں طالب علم کو شدید چوٹیں آئیں۔ اسے فوراً ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
ان دونوں واقعات نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم، ان واقعات کا ذمہ دار محض یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کو ٹھہرانا غلط ہے۔ ان کے پیچھے ہمارے خاندانی نظام کے ساتھ ساتھ سیاسی و معاشی حالات کا بھی برابر کا ہاتھ ہے۔
جامعات میں عموماً پہلا ہفتہ اوریئنٹیشن ویک ہوتا ہے جس میں طالب علموں کو جامعات کی پالیسیاں بتائی جاتی ہیں۔ عموماً یہ پالیسیاں ہائر ایجوکیشن کمیشن یا دیگر اداروں کی طرف سے آتی ہیں جو جامعات میں متعلقہ ڈگری پروگراموں کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ پالیسیاں جامعات کی ویب سائٹس پر بھی موجود ہوتی ہیں۔ پروفیسر اپنی کلاس میں طالب علموں کو یہ پالیسیاں پھر سے بتانے کے پابند ہوتے ہیں تاکہ طلبہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ اپنا اکیڈیمک سفر پورا کر سکیں۔
عموماً طالب علم ان پالیسیوں کو جاننے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ پالیسیاں سنتے ہوئے انہوں نے شدید بور شکل بنائی ہوئی ہوتی ہے۔ پروفیسر ان کی شکلیں دیکھ کر گفتگو جلد از جلد سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سمسٹر کے اختتام پر جب طالب علم پالیسی نہ جاننے کی وجہ سے کسی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں تو روتے ہوئے کبھی فیکلٹی تو کبھی ایچ او ڈی اور کبھی ڈین کے دفاتر کے چکر کاٹتے ہیں۔
پورا سمسٹر غائب رہنے والے طالب علم سمسٹر کے آخر میں ایک دم نمودار ہوتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ دنیا کا ہر مسئلہ انہیں ہی درپیش ہے۔ یہ باتیں سمسٹر کے شروع میں ہونا چاہیے تاکہ فیکلٹی پہلے ہی ان کے مسائل جانتی ہو اور اسی مطابق اپنے کورس اور اس کی اسائنمنٹس اور امتحان کو ڈیزائن کرے۔ سمسٹر کے اختتام پر ایک دم تمام مسائل کے ساتھ نمودار ہونا طلبہ کے اپنے کیس کو کمزور کرتا ہے۔
طلبہ کو فیکلٹی سے سہولت کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی میں تھوڑی محنت بھی دکھانا چاہیے تاکہ فیکلٹی کو انہیں سہولت دینے کا کوئی بہانہ مل سکے۔ ورنہ سب کے لیے صبح اپنے بستر چھوڑ کر لیکچر کے لیے آنا مشکل ہے، پیپر والے دن سب کے گھروں میں کوئی نہ کوئی آفت آئی ہوتی ہے اور کوئز تو کسی کو بار بار بھیجی گئی ای میلز کے باوجود یاد نہیں رہتا۔
اساتذہ جب ہر سمسٹر ایک سی کہانیاں سنتے ہیں تو وہ بھی سخت ہو جاتے ہیں۔ جامعات اپنی پالیسیاں اساتذہ کے ذریعے طلبہ پر لاگو کرتی ہیں۔اساتذہ کو ایک حد تک طلبہ کو سہولت دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اس کے آگے وہ بھی بے بس ہو جاتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا بے حد ضروری ہے۔ کسی ایک طالب علم کو ہر جگہ سہولت دینا دیگر طالب علموں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اکثر دیگر طالب علم خود اس بارے سوال اٹھا دیتے ہیں۔ پھر فیکلٹی کو اپنی پالیسیوں پر دوبارہ نظر ثانی کرنا پڑتی ہے۔
تاہم، ایسے واقعات کے بعد ان نکات پر بات نہیں ہوتی۔ بس کسی ایک فیکلٹی کی شامت آجاتی ہے اور طالب علم کے مقابلے میں کوئی بھی موجود ہو اس کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔
عالمی جنوب میں غربت، سیاسی عدم استحکام، جرائم، عدم مساوات اہم مسائل ہیں۔ یہاں بچے کو پیدائش سے ہی خاندان کی قسمت بدلنے کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کم عمری سے ہی خود پر یہ بوجھ محسوس کرتے ہوئے شدید دباؤ میں کام کرتے ہیں۔ نہ اپنا بچپن جی پاتے ہیں، نہ جوانی اور بڑھاپا تو ہمارا روتے ہوئے ہی گزرتا ہے۔
ماں باپ مشترکہ خاندانی نظام میں گھر اور باہر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے ان کے مسائل پوچھنا ہی بھول جاتے ہیں۔ بچے کو پریشان دیکھتے ہیں تو بس ڈانٹ کر ہی کام چلا لیتے ہیں۔ ایسے میں بچے اپنی دل کی بات کس سے کریں۔
جین زی کا الگ المیہ ہے۔ ہم نے اپنا بچپن برقی آلات سے دور گزارا ہے۔ ان کا جنم سمارٹ فون کے ساتھ ہوا ہے۔ انہوں نے اپنا بچپن سڑکوں پر کھیلنے کی بجائے انسٹاگرام پروفائل کی ایستھیٹکس سیٹ کرتے ہوئے گزارا ہے۔ یہ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بھی ان کے ساتھ موجود نہیں ہوتے۔
وہ ذہنی صحت کی بات تو کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے کا حال احوال نہیں پوچھتے۔ یوں یہ اندر سے تنہا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ان کی بہتر جسمانی و ذہنی صحت کے لیے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ خاندانوں، معاشرے اور حکومت کو بھی کام کرنا ہوگا۔ گھروں میں اولین ترجیح بچوں پر رکھی جائے۔ انہیں مناسب وقت دیا جائے۔ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے اور اگر وہ پریشانی میں محسوس ہوں تو ان کی پریشانی جاننے کی کوشش کی جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہاں حکومت کو بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام، کرپشن کا خاتمہ، میرٹ کی بالادستی اور سب سے ضروری معاشی ترقی نوجوان نسل کو امید دینے کے لیے ضروری ہیں۔
ان واقعات کے بعد ہماری جامعات کو اپنے تعمیری ڈیزائن پر بھی نظرِ ثانی کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تعلیمی عمارتوں میں خطرناک کھلی جگہوں خصوصاً چھتوں، ٹیرسز اور بلند بالکونیوں تک رسائی محدود ہونا چاہیے۔
ہماری جامعات میں کھلے ٹیرس اور بالکونیاں ہر وقت طلبہ سے بھری ہوئی رہتی ہیں۔ اگر کوئی طالب علم ذہنی مسائل کا شکار ہو تو ایسی جگہیں اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
ان جگہوں پر جانے کے لیے محدود داخلہ، جسمانی رکاوٹیں اور حفاظتی ریل یا نیٹ لگانے کی ضرورت ہے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو جامعات کو پابند کرنا چاہیے کہ وہ فوراً اپنے تعمیراتی ڈیزائنز میں ایسی جگہوں کو محفوظ بنانے پر کام کریں۔
پاکستان کی قریباً ہر جامعہ میں کاؤنسلنگ سینٹر موجود ہے۔ تاہم، ان واقعات کی روشنی میں ان سینٹرز پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سینٹرز کو فعال کیا جائے۔ ان میں نفسیات دانوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ شعبہ نفسیات کی فیکلٹی کے علاوہ باقاعدہ نفسیات دان بھرتی کیے جائیں جو کل وقت طلبہ کے ساتھ ان کے ذہنی مسائل سلجھانے پر کام کریں۔
جامعہ بھر میں ایسے سینٹرز کی تشہیر کی جائے۔ ہر شعبے کے نوٹس بورڈ پر اس سینٹر سے رابطہ کرنے کا طریقہ چسپاں کیا جائے تاکہ طلبہ ان سینٹرز سے مستفید ہو سکیں۔
اس کے علاوہ طلبہ کے اکیڈیمک مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں۔ بہت سے طلبہ جب کسی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں کوئی ایسا دفتر نہیں ملتا جہاں ان کی بات سنی جا سکے۔ ہر بندہ اپنی نوکری بچانے کے لیے انہیں آگے کسی بندے کی راہ دکھا دیتا ہے۔
ایسی کمیٹیاں طلبہ کو کم از کم ایک ایسی جگہ دکھا سکتی ہیں جہاں وہ بات کر سکتے ہیں۔ یہ کمیٹیاں ان کے کیس سنیں اور ان کی روشنی میں فیصلہ دیں۔ جب طلبہ کو بھی ایک نظام نظر آئے گا تو وہ اپنے تعلیمی سفر کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ ہم بھی بہانے ڈھونڈتے ہیں، وہ بھی بہانے ڈھونڈیں گے اور جب کوئی ان کی بات نہیں سنے گا تو انتہائی قدم اٹھائیں گے۔
<p>15 فروری 2016 کی اس تصویر میں خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی کے طلبہ کو جامعہ کے کیمپس میں دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/0KXH785