2024 کے ملک گیر احتجاج کے بعد بنگلہ دیش کا پہلا الیکشن، سخت سکیورٹی میں پولنگ

News Inside

بنگلہ دیش میں 2024 میں ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد پہلے عام انتخابات میں جمعرات کو پولنگ کا آغاز ہو گیا۔

17 کروڑ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں انتخابات کے لیے تین لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے (ساڑھے 10 جی ایم ٹی) تک جاری رہے گا۔

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے بدھ کو کہا کہ اسے 2024 کی تحریک، جس میں 15 سالہ آمرانہ حکومت ختم ہو گئی، کے بعد ہونے والے ان پہلے عام انتخابات میں ووٹرز کے بھرپور ٹرن آؤٹ کی توقع ہے۔ الیکشن کمیشن نے 55000 سے زائد مقامی اور 330 غیر ملکی مبصرین کی منظوری دی ہے

کمیشن کے عہدیدار ابوالفضل محمد ثنا اللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ شیخ حسینہ کے سخت گیر دور حکومت میں بہت سے نوجوان، جن کی عمریں اب اپنی 20 اور 30 سے زیادہ ہیں، مؤثر طریقے سے اپنی پسند کے حق میں ووٹ دینے سے محروم رہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو ہونے والے ووٹ سے پہلے، ہم لوگوں میں جوش و خروش دیکھ رہے ہیں۔

جنوبی ایشیائی ملک کے 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز میں سے 44 فیصد 18 سے 37 سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے حسینہ کے 15 سالہ دورِ اقتدار میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا، جن کی حکومت کا خاتمہ اگست 2024 میں ہو گیا تھا۔

انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار الیکٹورل سسٹمز (آئی ایف ای ایس) کے مطابق، بنگلہ دیش میں ووٹرز کا اوسط ٹرن آؤٹ 53 فیصد رہتا ہے۔ 2008 میں یہ ٹرن آؤٹ 87 فیصد تک پہنچ گیا تھا جب فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے تحت تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔ بعد کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ تیزی سے گرا کیوں کہ کئی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگا کر الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بنگلہ دیش کے شہریوں سے وعدہ کیا ہے کہ ہم آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں گے۔

دوسری جانب رائے عامہ کے جائزوں میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر جائزوں میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو برتری دی گئی ہے اور بعض اوقات یہ فرق مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے بہت کم ہوتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو شمالی قصبے نیتروکونا میں کئی پولنگ مراکز کو نذر آتش کیے جانے کے بعد وہ الرٹ ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اسے ایک الگ تھلگ واقعہ قرار دیا ہے۔ ثنا اللہ نے کہا کہ ’ہم ایسی سرگرمیوں کے امکان کو رد نہیں کرتے۔ اسی لیے ہم نے اپنے تمام ریٹرننگ افسروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو محتاط رہنے کی تنبیہ کی ہے۔‘

پولیس ریکارڈ کے مطابق 11 دسمبر سے نو فروری تک انتخابی مہم کے دوران سیاسی جھڑپوں میں پانچ افراد جان سے گئے اور 600 سے زائد زخمی ہوئے۔

بنگلہ دیش میں 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز سابق حکومت کے خلاف عوامی تحریک کے بعد پہلی بار جمعرات کو 350 ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کریں گے۔ 51 سے زائد جماعتیں اور 2000 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔

یورپی یونین کے انتخابی مبصرین کے مطابق یہ ووٹ ’2026 کا سب سے بڑا جمہوری عمل‘ ہو گا۔

عبوری حکومت

 نوبل امن انعام یافتہ 85 سالہ محمد یونس، جو مظاہرین کی خواہش پر جلاوطنی ختم کر کے نگران حکومت کی قیادت کے لیے واپس آئے تھے، انتخابات کے بعد مستعفی ہو جائیں گے۔ یونس کا کہنا ہے کہ انہیں ’مکمل طور پر ٹوٹا ہوا‘ سیاسی نظام ورثے میں ملا اور انہوں نے ایک اصلاحاتی منشور کی حمایت کی جو ان کے بقول آمرانہ حکومت کی واپسی کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں پر ریفرنڈم بھی جمعرات کو ہو گا۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی

 60 سالہ طارق رحمن کی قیادت میں بی این پی کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ الیکشن جیت جائے گی۔ وہ دسمبر میں 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپس آئے تھے۔ بی این پی کی قیادت میں قائم اتحاد میں بائیں بازو، اعتدال پسند اور چھوٹی اسلامی جماعتیں شامل ہیں۔ طارق رحمن نے بتایا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمیں عوام کی جانب سے واضح مینڈیٹ ملے گا۔‘

مذہبی جماعتوں کا اتحاد 

ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت ’جماعت اسلامی‘، شیخ حسینہ کے دور میں کچلے جانے کے بعد اب باضابطہ سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔ جماعت کے امیر، 67 سالہ شفیق الرحمن، 11 سے زائد چھوٹی جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، جن میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے جسے ان طلبہ رہنماؤں نے تشکیل دیا ہے جنہوں نے عوامی تحریک کی قیادت کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عوامی لیگ 

78 سالہ شیخ حسینہ، جو اب انڈیا میں مفرور ہیں، کو نومبر میں انسانیت کے خلاف جرائم پر ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان کی سابقہ حکمران جماعت عوامی لیگ، جو کبھی ملک کی سب سے مقبول جماعت تھی، کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے، جس کی انسانی حقوق کے گروپوں نے مذمت کی ہے۔ 

حسینہ نے بتایا کہ ان کی پارٹی کے بغیر انتخابات کا انعقاد مزید تقسیم کے ’بیج بونے‘ کے مترادف ہو گا۔ جنوری 2024 کے گذشتہ انتخابات میں عوامی لیگ نے 222 نشستیں حاصل کی تھیں، جنہیں اپوزیشن نے دھوکہ دہی قرار دیا تھا۔

فوج فوجی بغاوتوں کی طویل تاریخ رکھنے والے اس ملک میں فوج ایک اہم قوت ہے۔ الیکشن کے لیے فوج اور پولیس سمیت تین لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر ہوں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’عین و شالش کیندر‘ کے مطابق اگست 2024 سے دسمبر 2025 کے درمیان سیاسی تشدد میں 158 لوگوں کی جان گئی اور 7000 سے زائد زخمی ہوئے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جماعتوں پر ’ہجوم‘ اکٹھا کرنے اور سڑکیں بند کرنے کا الزام لگایا۔

بین الاقوامی کردار 

علاقائی طاقتوں نے انتخابات کے نتائج میں گہری دلچسپی لی ہے۔ بنگلہ دیش کے انڈیا کے ساتھ تعلقات جو کبھی شیخ حسینہ کا سب سے مضبوط اتحادی تھا، خراب ہو چکے ہیں۔ محمد یونس نے اپنا پہلا سرکاری دورہ چین کا کیا، جو ایک سٹریٹیجک تبدیلی کا اشارہ ہے، جب کہ ڈھاکہ نے انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات میں گہرائی پیدا کی ہے۔

کروڑ 70 لاکھ ووٹرز 350 ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کریں گے، 51 سے زائد جماعتیں اور 2000 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔
جمعرات, فروری 12, 2026 - 08:00
Main image: 

<p class="rteright">12 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں ہونے والے بنگلہ دیش کے عام انتخابات کے دوران ووٹرز ایک پولنگ سٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں انتظار کرتے ہوئے اپنی ووٹر پرچیاں دکھا رہے ہیں (اے ایف پی)</p>

jw id: 
Ag55NUQS
type: 
SEO Title: 
2024 کے ملک گیر احتجاج کے بعد بنگلہ دیش کا پہلا الیکشن، سخت سکیورٹی میں پولنگ


from Independent Urdu https://ift.tt/TPqg3Sb

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;