بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری میں رہنماؤں کی ذاتی پسندیدگی کی جھلک تو کبھی کبھار دکھائی دیتی ہے، مگر جس شدت اور وضاحت کے ساتھ حالیہ مہینوں میں یہ منظر سامنے آیا ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے غیر معمولی گرم جوشی محض رسمی خوش بیانی نہیں بلکہ سوچا سمجھا معنی خیز پیغام معلوم ہوتی ہے۔
نہ رکنے والی ستائش سفارتی لہروں میں ارتعاش پیدا کر چکی ہے اور یہ سوال اب کہیں دور پیچھے رہ گیا ہے کہ یہ تعریف کیوں کی گئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تحسین اور کھلے عام تعریفیں دراصل کیا پیغام دے رہی ہیں یا دینا چاہتی ہیں اور اسی وقت کیوں؟
سرعام تحسین کا یہ نہ رکنے والا سلسلہ محض سفارتی آداب سے آگے بڑھتا ہوا ایک علامتی سیاسی زبان بن گیا ہے۔
شہباز شریف نے بھی صدر ٹرمپ کی کھلے عام تعریف کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوا کر صدر ٹرمپ نے نہ صرف کروڑوں زندگیاں بچائیں بلکہ انہوں نے تو موجودہ امریکی صدر کو جنوبی ایشیا کا ’نجات دہندہ‘ تک قرار دے دیا۔
تواتر سے کہے گئے یہ تعریفی کلمات ایک بیانیہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایسا بیانیہ جو سفارتی ترجیحات اور علاقائی توازن کے بارے میں خاموش مگر واضح سمت کا تعین کرتا نظر آتا ہے۔
جب کسی فیلڈ مارشل کو ’ٹف فائٹر‘ قرار دیا جاتا ہے تو یہ صرف شخصی رائے نہیں رہتی بلکہ فیصلہ کن قیادت، نظم اور قابلِ اعتماد شراکت داری کا پیغام بن جاتی ہے۔
جنوبی ایشیا جیسے غیر متوازن اور حساس خطے میں، جہاں مفادات کے دھارے تیزی سے رخ بدلتے ہیں، واشنگٹن طویل عرصے سے ایسے شراکت دار کی تلاش میں رہا ہے جو استحکام، پیش بینی اور عملی تعاون کی علامت ہو۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں داد و تحسین کے یہ ڈونگرے وقتی سہی لیکن کسی حد تک واشنگٹن کے اسلام آباد کی جانب جھکاؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔
میں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو پسند کرنے لگا ہوں: صدر ٹرمپ
— Independent Urdu (@indyurdu) February 19, 2026
مزید تفصیلات: https://t.co/JLzOwawHUj#DonaldTrump #shehbazsharif #independetnurdu pic.twitter.com/MxMyYIuJni
صدر ٹرمپ کی سیاست میں طاقت اور امن کا امتزاج ہمیشہ سے کسی نہ کسی حد تک نظر آیا۔ وہ خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو بحران کو گفتگو میں بدل دے اور جنگ کو مذاکرات میں۔ اسی لیے وہ سیاسی اعتبار سے بھی پرکشش کردار بن گئے ہیں جہاں ان کے الفاظ، فیصلوں اور اقدامات کو توجہ ملتی ہے۔
تاریخ کے صفحات پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ ضرورت، موقع اور حکمت کے ملاپ سے تشکیل پاتے رہے ہیں۔ سرد جنگ کے دنوں میں سٹریٹیجک مفادات غالب رہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عملی ضرورت نے قربتیں پیدا کی اور اب علاقائی استحکام کی نئی ترجیحات اس رشتے کو ایک مختلف رنگ دے رہی ہیں۔
تاہم اس بار نمایاں پہلو شخصیتوں کی کیمسٹری اور شخصی ڈپلومیسی ہے۔
اسلام آباد کے لیے امریکی صدر کی یہ تعریفیں محض خوش کن الفاظ نہیں بلکہ کامیاب سفارت کاری کا سرمایہ ہے۔ الفاظ اگر مثبت ہوں تو مکالمے نرم پڑتے ہیں، اعتماد کی فضا بننے لگتی ہے اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلتے ہیں، چاہے وہ معاشی شراکت داری ہو یا سکیورٹی ہم آہنگی، یا پھر علاقائی سیاست میں ذمہ دارانہ کردار۔ مگر سفارت کاری میں ہر تعریف اپنے ساتھ ایک توقع بھی لاتی ہے۔ الفاظ مواقع تو پیدا کرتے ہیں، لیکن ان مواقع کی عمر اور اثر پالیسی اور عمل طے کرتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سفارتی حلقوں میں سوال یہ بھی گردش کر رہا ہے کہ آیا یہ محض وقتی سیاسی جملہ بازی ہے یا پھر امریکہ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں کسی نئے زاویے کی طرف اشارہ ہے۔ واشنگٹن کی طویل روایت میں ہر لفظ وزن رکھتا ہے اور یہ چند جملے بھی اسی روایت کے تسلسل میں ایک محتاط مگر واضح رخ دکھاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اس سفارتی گرم جوشی کو کس طرح عملی پیش رفت میں بدل سکتا ہے۔ اگر اس مثبت بیانیے کے ساتھ اسلام آباد داخلی استحکام، معاشی اصلاحات اور پالیسی تسلسل کی راہ اختیار کر لے تو یہ لمحہ وقتی ہیڈلائنز سے بڑھ کر دیرپا حکمتِ عملی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
امریکہ کو پاکستان میں کبھی دشمن تصور کیا جاتا تھا، اب بھی کچھ حلقے یہ ہی سمجھتے ہوں، لیکن صدر ٹرمپ نے نئی دہلی اور اسلام آباد میں کشیدگی کے باوجود جس پر پاکستانی قیادت کو سراہا اس کے اثرات عوامی سطح پر کسی نہ کسی حد تک نظر آتے ہیں۔
پاکستان نے مئی 2025 کی لڑائی میں انڈیا کے چاہے کتنے ہی جہاز گرائے ہوئے، صدر ٹرمپ نے یہ تعداد اب 11 کر دی ہے جس سے عام آدمی تو یہی سمجھتا ہے کہ جنگ میں انڈیا کا جو عسکری نقصان پاکستان دنیا کو نہیں بتا سکا، وہ کام کامیابی سے صدر ٹرمپ نے کر دیا۔
امریکہ نے مالی اعانت، منصوبوں میں سرمایہ کاری اور یو ایس ایڈ کے ذریعے پاکستانی عوام سے جڑنے کی کوشش کی لیکن صدر ٹرمپ کے بیانات نے بظاہر یہ کام تیزی سے کیا۔
الفاظ اور تعریفیں اثر رکھتی ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">وزیراعظم شہباز شریف پانچ نومبر 2024 کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے (شہباز شریف آفیشل فیس بک اکاؤنٹ)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/cXiPgzo