ایپسٹین سکینڈل: سیاست، معاشرت، میڈیا سب کٹہرے میں

News Inside

جیفری ایپسٹین کے سکینڈل نے عالمی سیاست، معاشرت، معیشت، مالیات، ذرائع ابلاغ، نظامِ انصاف اور اشرافیہ کے لیے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اس سکینڈل نے طبقاتی نظام پر بحث کو بھی اہم بنا دیا ہے، تاہم جس چیز کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہ ایپسٹین کے مقاصد ہیں۔

تین لاکھ سے زیادہ ایپسٹین ای میلز اور ریکارڈ میں 150 سے زیادہ عالمی شہرت رکھنے والی شخصیات کا نام آیا ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر بل کلنٹن سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔

سکینڈل نے ایک سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے۔ کئی اہم شخصیات نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے اور کئی پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ہے۔ کچھ نے معافی بھی مانگی ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ماضی میں ایپسٹین سے رابطہ رکھنے والے سیاست دان پیٹر مینڈلسن کو امریکی سفیر لگایا تھا۔ گو کہ انہیں گذشتہ برس ستمبر میں برطرف کر دیا گیا تھا لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ سٹارمر نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ مینڈلسن ایپسٹین کی سزا کے بعد بھی اس سے رابطے میں تھا، اس لیے وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بہت ساری بااثر شخصیات پر دباؤ ہے کہ وہ ایپسٹین کے ساتھ روابط کی وضاحت پیش کریں۔

یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 90 کی دہائی میں جب کچھ متاثرہ لڑکیوں نے پولیس کو ایپسٹین کے حوالے سے مطلع کیا تو انہوں نے اس پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔

ایک مشہور عالمی میگزین کی رپورٹر نے جب دو متاثرہ لڑکیوں کے انٹرویوز کیے اور ان کے الزامات کو اپنی رپورٹ میں شائع کیا تو اس میگزین کے ایڈیٹر سے ایپسٹین نے رابطہ کر کے الزامات کو رپورٹ سے حذف کروا دیا۔

جب ایپسٹین پر یہ الزام ثابت ہوا کہ اس نے کم عمر لڑکیوں کو جنس فروشی پر مائل کیا تو امریکی نظامِ انصاف نے اسے بہت معمولی سی سزا دی۔

اس کے بعد اس نے دھڑلے سے اپنے بھیانک جرائم کو جاری رکھا۔

نئی ای میلز کے بعد برطانیہ میں بھی پرنس اینڈریو کے خلاف عدم کارروائی اور ملک کے نظامِ انصاف پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس سکینڈل نے اخلاقیات پر لیکچر دینے والی عالمی شخصیات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ پروفیسر نوم چومسکی اور بایولوجسٹ رچرڈ ڈاکنز سمیت کئی شخصیات عوامی کٹہرے میں ہیں۔

یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ چومسکی ایپسٹین کی سزا کے بعد بھی اس سے رابطے میں تھے۔ اس حوالے سے چومسکی کی بیوی کی معافی لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکی۔

ان ای میلز میں جن سائنسی پروجیکٹس کا تذکرہ ہوا ہے وہ عالمی اشرافیہ کی نسل پرستانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایپسٹین ان پروجیکٹس کے حوالے سے مختلف سائنس دانوں اور پروفیسروں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ یوں اب سائنسی پروجیکٹس بھی تنقید کی زد میں ہیں۔

اس جنسی مجرم کی دلچسپی ویکسین میں بھی تھی اور اس کے بل گیٹس سے قریبی روابط بھی تھے، اس لیے اب ویکسین سے متعلق مزید سازشی نظریات بھی جنم لے رہے ہیں۔

اس سکینڈل میں ایک امیر آدمی اپنی اور اپنے جیسے امرا کی جنسی ہوس مٹانے کے لیے غریب اور کمزور طبقات کی لڑکیوں کو بہتر مستقبل، اعلیٰ تعلیم اور بہترین پیشے کا لالچ دے کر ان کا استحصال کرتا ہے، تو یوں اس سکینڈل کا ایک اہم پہلو طبقاتی بھی ہے۔

تاہم پورے سکینڈل میں سب سے اہم سوال ایپسٹین کے مقاصد ہیں۔ سابق برطانوی رکنِ پارلیمنٹ جارج گیلوے کا کہنا ہے کہ ایپسٹین یہ سب کچھ اسرائیلی موساد کے لیے کرتا تھا۔ کئی اور لوگوں نے بھی اس طرح کے الزامات لگائے ہیں۔

غالباً اس کی ایک وجہ ایپسٹین کے گلین میکسویل سے قریبی تعلقات تھے، جس کے والد رابرٹ میکسویل کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان کے اسرائیلی انٹیلی جنس سے مبینہ طور پر بہت گہرے روابط تھے۔

ایپسٹین کی طرف سے اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی مختلف سرگرمیوں کے فوٹوز یا ویڈیوز بنوانا بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اسرائیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا اثرورسوخ دنیا کے سارے اہم ممالک میں ہے۔

اس کے پاس نہ عرب ممالک کی طرح تیل اور دولت ہے اور نہ امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ یا چین کے برابر کی عسکری طاقت۔

لیکن پھر بھی ماضی کے نوآبادیاتی ممالک، آج کی عالمی طاقتیں، عالمی ذرائع ابلاغ اور بڑی کمپنیاں اسرائیل نواز پالیسیاں بنانے پر مجبور ہیں۔

چونکہ ایپسٹین سے رابطے میں رہنے والے زیادہ تر افراد بین الاقوامی سطح پر انتہائی بااثر ہیں، اس لیے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایپسٹین کے ذریعے حاصل کی گئی اطلاعات کو اسرائیل اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔

غزہ کی حالیہ جنگ میں طاقت ور ممالک، کمپنیاں اور ذرائع ابلاغ جدید دور کی بدترین نسل کشی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، جس سے ان شکوک کو تقویت ملتی ہے کہ ایپسٹین جیسے لوگ اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی اطلاعات کا سہارا لے کر اسرائیل دنیا کے طاقتور ممالک اور شخصیات کو مبینہ طور پر بلیک میل کرتا ہے اور اسرائیل نواز پالیسیاں بنانے پر مجبور کرتا ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیراعظم اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ ایپسٹین اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے لیے کام کرتا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے بھیانک جرائم کو روکنے کے لیے مستقبل میں کیا کیا جا سکتا ہے؟

یقیناً پہلا کام تو یہی ہے کہ ممالک ایک ایسا سماجی نظام تشکیل دیں جس میں کوئی امیر کسی غریب لڑکی کی غربت کا استعمال کر کے اس کا جنسی استحصال نہ کر سکے۔

ریاست روٹی، کپڑا، مکان، مفت تعلیم، مفت صحت اور روزگار کی ضمانت دے۔ تمام تعلیمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لے کر یکساں مفت نظامِ تعلیم رائج کیا جائے۔

سیاسی طور پر حکومتیں بڑے بڑے جزیرے اپنے قبضے میں لیں اور وہاں اشرافیہ کے اجتماعات پر پابندی لگائیں۔

چونکہ اس طرح کی زیادہ تر کارروائیوں میں پرائیویٹ طیارے استعمال ہوئے ہیں، لہٰذا اشرافیہ کے افراد کو اس بات کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ عام کمرشل ایئر لائن سے سفر کریں۔ اس سے جنسی مقاصد کے لیے لڑکیوں کی سمگلنگ بہت مشکل ہو جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایپسٹین نے اپنے مخالفین کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اس کے خلاف کوئی بات کی تو وہ عدالت کے ذریعے ہتکِ عزت کا دعویٰ کرے گا، جس کی وجہ سے مخالفین پر بھاری جرمانہ عائد ہو سکتا تھا۔

ایپسٹین سے روابط رکھنے والے افراد اب بھی میڈیا کو اس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پوری دنیا میں اس قانون کو امرا نے اپنے بھیانک جرائم چھپانے کے لیے استعمال کیا ہے اور ایپسٹین نے بھی ایسا ہی کیا۔

لہٰذا پوری دنیا میں بالعموم اور سرمایہ دارانہ ممالک میں بالخصوص اس قانون کو عوام دوست بنایا جائے۔

جنسی جرائم سے متعلق قوانین میں اتنی سختی کی جائے کہ کوئی بھی سربراہِ حکومت یا مملکت ان جرائم میں ملوث افراد کو کوئی معافی یا ریلیف نہ دے سکے۔

ایک سو پچاس سے زائد ان بااثر شخصیات کا احتساب کرنا حکومتوں کے بس کی بات نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے باشعور عوام بائیکاٹ کے ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے بل گیٹس، ایلون مسک اور انہی جیسی شخصیات کی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

سیاسی محاذ پر ایسے سیاست دانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے جو ایپسٹین کے حوالے سے سچ بتانے کو تیار نہیں ہیں، جبکہ طلبہ کا یہ فرض ہے کہ وہ ان سائنس دانوں اور پروفیسروں کے خلاف مظاہرے کریں جنہوں نے ایپسٹین کی بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی صورت میں مدد کی ہے اور اب وہ سچ بولنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ویکسین اور سائنسی تحقیق کو فوری طور پر اور مکمل طور پر اقوامِ متحدہ کے اختیار میں دیا جائے اور نجی کمپنیوں اور امرا کی طرف سے فنڈنگ پر پابندی لگائی جائے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تین لاکھ سے زیادہ ایپسٹین ای میلز اور ریکارڈ میں 150 سے زیادہ عالمی شہرت رکھنے والی شخصیات کا نام آیا ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر بل کلنٹن سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔
اتوار, فروری 15, 2026 - 07:30
Main image: 

<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی ایک تصویر، امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کی جانب سے 11 فروری 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل پر محکمۂ انصاف کی نگرانی سے متعلق ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کی سماعت کے دوران پیش کی گئی (روبرٹو شمڈٹ / اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
ایپسٹین سکینڈل: سیاست، معاشرت، مالیات، معیشت، میڈیا سب کٹہرے میں


from Independent Urdu https://ift.tt/8pWPXHr

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;