اذیت پسندی ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں مریض کو جسمانی تکلیف، درد، نفسیاتی کشمکش اور ذہنی دباؤ میں مزہ آتا ہے۔ مریض کو وہ صورت حال آسودگی پہنچاتی ہے جس میں چیلنج، تکلیف و اذیت شامل ہو۔
عموماً اس نفسیاتی بیماری کو جنسی بیماری کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن اس بیماری کی علامات غیر جنسی بھی ہو سکتی ہیں، جسے مورل میسوکزم (Moral Masochism) کہتے ہیں۔
ایک عام فرد چاہے مرد ہو یا عورت، چاہے کسی بھی عمر کا ہو، وہ نقصان یا تکلیف سے بچنے کے لیے ایک فطری ردعمل دیتا ہے۔ بچپن میں ہی ہمارا جسم گرنے، آگ سے جلنے، پانی میں ڈوبنے، اندھیری جگہ پر تنہا رہ جانے جیسے خطرات سے ڈرنے لگتا ہے اور ہمیں سگنل دیتا ہے کہ ایسی ہر چیز، ہر حرکت سے بچنا ہے جس سے تکلیف ملنے کا امکان ہو۔
لیکن اذیت پسندی سے متاثرہ افراد کا معاملہ بالکل الٹ ہوتا ہے۔ ان کا دماغ انہیں تکلیف پہنچانے والے تمام خطرات کو ایڈونچر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ دماغ کہتا ہے کہ ایسے تمام ایڈونچر کرنے سے اس فرد کو اخلاقی برتری ملے گی کیونکہ وہ تکلیف میں ہو گا اور درد جھیلے گا۔
اذیت پسندی کا مریض اپنی ذات کو تکلیف میں پا کر خوش ہوتا ہے۔ ان نفسیاتی امراض کی علامات ہمیں روزمرہ زندگی میں کسی نہ کسی معروف و غیر معروف فرد میں نظر آ جائیں گی۔ جیسے کہ انسانی جان کے نقصان کو عظیم قربانی کا روپ دے کر اس پر فخر کرنا، طاقتور افراد کے زیر عتاب آنا اور اس پر فخر کرنا، جیل میں قید کاٹنا اور اس پر فخر کرنا، اندر ہی اندر خود کو قصوروار سمجھنا لیکن دنیا کے سامنے اپنی سزا کو ہمدردی سمیٹنے کے لیے استعمال کرنا۔
اذیت پسند افراد کی اور بھی بڑی عجیب و غریب علامات ہیں۔ جیسے کہ دوسروں کے حصے کی ذمہ داری ادا کر لینا اور خود کو مجبور و بیچارہ سمجھنا، اپنی باری آنے پر چانس کسی اور کو دے دینا، مکمل اختیار رکھتے ہوئے بھی کوئی ایکشن نہ لینا، یہ ظاہر کرنا کہ وہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہیں، خود کو دوستوں کا دوست ثابت کرنے کے لیے ہر مشکل سے گزر جانا، اور ہمیشہ قربانی دینے کی اخلاقی پوزیشن میں رہنا۔
علم سیاسیات اور علم نفسیات کے ماہرین نے سیاست میں اذیت پسندی کے استعمال پر بہت بحث کی ہے۔ معمولی آن لائن سائنٹیفک ریسرچ سے آپ بھی وہ تمام سائنسی آرٹیکلز پڑھ سکتے ہیں۔ ان آرٹیکلز میں بحث کی گئی ہے کہ کیسے لیڈرز سیاست میں اذیت پسندی کا استعمال کر کے عوام کی رائے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مشہور فرانسیسی سائیکو اینالسٹ جیکوئس لاکاں نے سیاسی رویوں میں اذیت پسندی کا نظریہ پیش کیا تھا، جن سے مراد وہ سیاسی رویے ہیں جن میں سیاست دان اپنے آپ کو، اپنے خاندان اور اپنے پیروؤں کو تکلیف میں ڈالتے ہیں تاکہ مخصوص سیاسی ہدف حاصل کیے جائیں۔ یہ سیاسی دباؤ اور سکیورٹی چیلنج کو گلیمرائز کرتے ہیں، مثلاً جان جانے کا خطرہ ہونے کے باوجود سیاسی جلسے میں بغیر کسی حفاظت کے شریک ہونا، بھوک ہڑتال یا پھر جیل بھرو تحریک، لیکن ہمارے سیاسی کلچر میں ان علامات کو بہادری سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
سیاسی اذیت پسند فرد شعوری طور پر طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے جس سے اسے وکٹم بننے کا موقع ملتا ہے اور یہ وکٹم کارڈ بالآخر اس سیاست دان کی سیاسی کامیابی پر منتج ہوتا ہے۔ سیاسی اذیت پسند خود تو صدر، وزیراعظم یا وزیر مشیر بن جاتے ہیں لیکن پیچھے ایک خراب مثال چھوڑ جاتے ہیں۔ کسی ایک سیاست دان کا طاقتور کے سامنے گھٹنے ٹیکنا ایک مبہم لیکن مستقل سیاسی ڈھانچہ بنا دیتا ہے، یعنی طاقت کا سسٹم پھر ہر سیاست دان سے ایسی ہی فرمانبرداری کی توقع رکھتا ہے۔
لاکاں کی اس تھیوری کے مطابق وہ سیاست دان جو ایک بار اذیت پسند ہتھکنڈوں سے سیاسی فتح حاصل کر لیتے ہیں، انہیں بعد میں آنے والے ہر سیاسی محاذ میں فتح کے لیے اسی تکلیف دہ تجربے کو دہرانا پڑتا ہے، سیاسی قربانی دینی پڑتی ہے اور خود کو مظلوم ثابت کرنا پڑتا ہے۔
ہم یہ کہہ کر مطمئن نہیں ہو سکتے کہ سیاست والے جانیں ان کا کام جانے۔ سیاست میں اگر اذیت پسندی مرکزی حیثیت اختیار کر جائے تو اس کا براہ راست اثر ہم عوام پر پڑتا ہے۔ اگر سیاست دان ہتھکڑیوں کو مردوں کا زیور کہیں گے اور جیل کی مشقت کاٹنے کو کسی سیاسی و اخلاقی سبقت کا پیمانہ قرار دیں گے تو لامحالہ عوام کو یہ پیغام ہے کہ طاقت کے سامنے بےبس ہو کر خود کو پیش کر دینا ہی واحد راستہ ہے اور کسی جرم کی پاداش میں جیل جانا گویا بہت ہی قابل فخر بات ہے۔
سیاست دانوں کا کام ہے جوش بیان، لیکن اس جوش میں ادھر ادھر نکلنے کا مسئلہ یہ ہے کہ پھر مخالف جماعتوں کے آن لائن ٹرول بھی ادھر ادھر نکل جاتے ہیں۔ جیل کی باتیں جانے دیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">ماہرین کے مطابق رہنما سیاسی کامیابی اور ہمدردی سمیٹنے کے لیے جیل، تکلیف اور مظلومیت کا کارڈ جان بوجھ کر استعمال کرتے ہیں (اینواتو) </p>
from Independent Urdu https://ift.tt/x8GypME