ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے جب سے ہوش سنبھالا کتابوں میں غرق رہا ہے۔ میں مطالعہ نہ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن تمام شواہد بتاتے ہیں کہ میں تاریخ کی غلط سمت میں کھڑا ہوں۔
برطانیہ میں رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں میں مطالعے کا ذوق تیزی سے زوال پذیر ہے یعنی آٹھ سے 18 سال کی عمر کے پانچ میں سے ایک سے بھی کم برطانوی نوجوان روزانہ مطالعہ کرتے ہیں، اور یہ گراوٹ نوعمر لڑکوں میں سب سے زیادہ تیز ہے۔
ایک اور حالیہ سروے میں معلوم ہوا ہے کہ تمام بالغوں میں سے نصف تفریح کے لیے کتابیں بالکل نہیں پڑھتے، اور بہت سے اس کی بجائے سوشل میڈیا کی چکا چوند کی طرف راغب ہو رہے ہیں ’جسے خواندگی کے بعد‘ کا دورقرار دیا گیا ہے۔
امریکہ میں اعداد و شمار اس سے بھی بدتر ہیں۔ ان امریکی نوعمر افراد کا تناسب جو ’شاذ و نادر‘ ہی مطالعہ کرتے ہیں، 1985 میں 20 فیصد سے کم سے بڑھ کر آج تقریباً 50 فیصد ہو گیا ہے، جب کہ روزانہ مطالعہ کرنے والوں کا تناسب تقریباً 40 فیصد سے گر کر بمشکل 10 فیصد رہ گیا ہے۔ پھر اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ انگریزی ادب کی ڈگریوں میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، یا یہ کہ لیکچررز، حتیٰ کہ برطانیہ میں بھی، طویل عرصے سے شکایت کر رہے ہیں کہ ان کے طلبہ کتاب پڑھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔
کیا یہ مبالغہ آرائی لگتی ہے؟ دیگر، زیادہ مبہم اشاریوں پر نظر ڈالیں۔ ایک وقت تھا جب بُکر پرائز کا اعلان اخبارات کے صفحہ اول کی شہ سرخی بنتا تھا۔ ہم میں سے کتنے لوگ حال ہی میں انعام جیتنے والوں کے نام بتا سکتے ہیں؟ 50 سال سے کم عمر کے کتنے مصنفین کو وہ عوامی مقبولیت حاصل ہے جو، مثال کے طور پر، مارٹن امیس، سلمان رشدی یا ہیلیری مینٹل کو اپنے عروج کے دور میں حاصل تھی؟
آہ، آپ شاید کہیں، لیکن کتابوں پر بننے والی فلموں کی پائیدار مقبولیت کا کیا؟ تو جناب دی انڈپینڈنٹ‘ کی فلمی نقاد کلیریس لوفری سے ہی پوچھ لیجیے، جنہوں نے ایمرالڈ فینیل کی ’ودرنگ ہائٹس‘ کے اپنے ون سٹار تبصرے میں لکھا کہ یہ ’جدید خواندگی کے بحران‘ کا ایک علامتی نتیجہ ہے۔ ایک ایسی ’ثقافت کی پیداوار جس نے ادب کو اس حد تک بے توقیر کر دیا ہے کہ اب اس کا مقصد ذہن کو وسعت دینا نہیں بلکہ محض دھیان بٹانا رہ گیا ہے۔‘ یہ ان لوگوں کے لیے فلم ہے جو پڑھتے نہیں، جو اصل ماخذ (کتاب) کے تئیں اتنے توہین آمیز نہیں جتنا کہ اس سے مکمل طور پر لاپروا لوگ ہیں۔
ڈومینک سینڈ بروک کتابوں کے بارے میں کہتے ہیں: ’چند گھنٹے کے لیے، آپ اپنے ذہن کی قید سے نکل جاتے ہیں اور خود کو ہاگوارٹس میں ایک جادوگر لڑکا، جنوبی سمندروں میں ایک ملاح، خانہ جنگی سے پہلے کے امریکہ میں ایک غلام تصور کرتے ہیں۔ فن کی کوئی اور شکل اتنی اپنایت کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی۔‘
کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ شاید نہیں۔ آخر کار اربوں لوگ ایک لفظ پڑھے بغیر جیے اور مر گئے۔ جب جوہانس گٹن برگ نے 1430 کی دہائی کے آخر میں پرنٹنگ پریس ایجاد کیا، تو برطانیہ میں صرف 10 فیصد لوگ ہی پڑھنا جانتے تھے۔ جب ناول کے عظیم بانی، جیسے ہنری فیلڈنگ اور سیموئل رچرڈسن، 18 ویں صدی کے وسط میں لکھ رہے تھے، تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ فکشن ایک خطرناک بدعت ہے جو اس کے زیادہ تر خواتین قارئین کے ذہنوں کو بگاڑ رہی ہے۔ 1813 تک، جب جین آسٹن نے ’پرائیڈ اینڈ پریجوڈس‘ شائع کی، تقریباً نصف مرد اور شاید دو تہائی خواتین ناخواندہ تھیں۔ ہم کون ہوتے ہیں جو ان کی ثقافتی زندگیوں کو معمولی یا کھوکھلا قرار دیں؟
لیکن مخالفانہ نقطہ نظر اپنانا جتنا بھی پرکشش کیوں نہ ہو، مجھے یہ دلیل واقعی قابل قبول نہیں لگتی۔ اگر میں اپنے تخیل سے ان تمام کرداروں کو نکال دوں جن سے میں کتابوں کے ذریعے ملا ہوں، تو یہ ایک اداس اور ویران جگہ ہو گی۔
فکشن شاندار مقامات کی جانب دریچے کھولتا ہے، ہر نئی کتاب فلپ پل مین کی ’ہز ڈارک میٹریلز‘ سیریز کی طرح ایک متوازی دنیا کے مترادف ہے۔ آپ نئے لوگوں سے ملتے ہیں، غیر معمولی تجربات حاصل کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کسی اور کی جگہ ہونا کیسا ہو سکتا ہے۔ چند گھنٹے کے لیے آپ اپنے ذہن کی قید سے نکل جاتے ہیں اور خود کو ہاگوارٹس میں ایک جادوگر لڑکا، جنوبی سمندروں میں ایک ملاح، خانہ جنگی سے پہلے کے امریکہ میں ایک غلام تصور کرتے ہیں۔ فن کی کوئی اور شکل اتنی اپنایت کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی۔
نقاد جیمز میریٹ، جنہوں نے ’خواندگی کے بعد‘ کے بحران کے بارے میں کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ شاندار اور مایوسی کے انداز میں لکھا ہے، دلیل دیتے ہیں کہ مطالعے کے زوال کے گہرے سیاسی اثرات ہیں۔ کہانیاں قومی شناخت کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ ولیم شیکسپیئر کے بغیر انگریزیت، وکٹر ہیوگو کے بغیر فرانسیسی پن، یا لیو ٹالسٹائی کے بغیر روس کا تصور ناممکن ہے۔ اور جہاں پڑھنا اور لکھنا محتاط سوچ کو فروغ دیتا ہے، وہیں یہ ہمدردی کو بھی ابھارتا ہے، جو سیاسی تکثیریت کے کلیدی عناصر میں سے ایک ہے۔
جیسا کہ میریٹ لکھتے ہیں، اگر آپ اپنی سوشل میڈیا فیڈ کے سوا کچھ نہیں پڑھتے، تو درحقیقت آپ آئینے میں خود کو ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ خود کو کسی اور کی جگہ رکھ کر دیکھیں، تو آپ کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ وہ آپ سے مختلف سوچ کیوں رکھتے ہیں؟
کیا اس زوال کو روکا جا سکتا ہے، یا ہم ’خواندگی کے بعد‘ کے دور میں الجھنے کے لیے تیار ہیں؟ اپنی شدید مایوسی کے لمحات میں، مجھے ڈر لگتا ہے کہ مطالعہ محض ایک سنکی اقلیت کی عادت بن کر نہ رہ جائے، جو کروکٹ کھیلنے یا بو ٹائی پہننے جیسی متروک چیز بن جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شاید مستقبل واقعی مشینوں کا ہے۔ لیکن خدا کی قسم، ہم جو کتابوں سے محبت کرتے ہیں، ہمیں لڑے بغیر ہار نہیں ماننی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ میری دوست تبیتھا سائرٹ، جو ٹام ہالینڈ کے ساتھ میرے پوڈ کاسٹ ’دی ریسٹ از ہسٹری‘ کی پروڈیوسر بھی ہیں اور میں دنیا کی عظیم ترین کہانیوں کی خالص خوشی کو منانے کے لیے ایک نیا ہفتہ وار پوڈ کاسٹ ’دی بک کلب‘ شروع کر رہے ہیں۔
ہم ہر ہفتے ہم ایک مختلف کتاب پر گپ شپ کریں گے، ’ویدرنگ ہائٹس‘ اور ’دی گریٹ گیٹسبی‘ سے لے کر ڈونا ٹارٹ کی ’دا سیکرٹ ہسٹری‘ اور سارہ جے ماس کی رومانوی بلاک بسٹر ’اے کورٹ آف تھارنز اینڈ روزز‘ تک۔
اگر آپ نے یہ تمام کتابیں پڑھی ہیں، تو بہت خوب۔ آپ ہمارے پسندیدہ سامعین میں سے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے میرے ابتدائی پیراگراف میں خود کو پہچانا ہے، تو یہ اور بھی بہتر ہے۔ ہم صرف ان لوگوں کو نہیں سنا رہے جو پہلے سے قائل ہیں۔ ہم آپ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ کتابیں محض کوئی سنجیدہ یا اصلاحی چیز نہیں ہیں، بلکہ یہ پرلطف ہوتی ہیں۔ اگر آپ نہیں پڑھتے، تو آپ انسانوں کی تخلیق کردہ بہترین چیزوں میں سے ایک سے محروم ہو رہے ہیں۔ بھلا کون بیوقوف ایسا چاہے گا؟
’دا بک کلب‘ 17 فروری سے یوٹیوب اور تمام پوڈ کاسٹ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوگا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">پلین ویل، میساچوسٹس میں 20 اکتوبر 2024 کو بچے مطالعہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/f0BMg7A