معروف برطانوی مؤرخ پیٹر فرینکوپین نے دیوار برلن اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد ایران پر حملے کو عالمی تاریخ کا تیسرا بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔
چند روز پہلے امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا تھا کہ ’ایران جیسی خبطی رجیم جو کہ مذہبی واہموں پر ایمان رکھتی ہے، اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کے بقول پرانی دنیا ختم ہو چکی ہے۔
پھر یہ نئی دنیا کیا ہے جسے امریکہ ترتیب دے رہا ہے؟ کیا سیموئیل پی ہنٹنگٹن کا 1993 میں پیش کیا گیا نظریہ ’تہذیبوں کا تصادم‘ درست تھا اور اب دنیا میں ایک تہذیب باقی تہذیبوں کو مٹانے یا پھر انہیں اپنی نگرانی میں چلانے کے درپے ہے؟
مارک روبیو اور پیٹ ہیگسیتھ کے بیان کے جواب میں ایران کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ’ہم اپنی چھ ہزار سالہ تہذیب کا دفاع کریں گے، ہم نے لمبی جنگ کی تیاری کر رکھی ہے۔‘
بعض ماہرین ایران امریکہ تنازعے کو اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں کہ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان تصادم نہیں بلکہ دو مختلف تہذیبوں اور فکر کی نمائندہ ریاستوں کے درمیان مفادات کا براہ راست ٹکراؤ ہے۔
ایک طرف ایران ہے جو تاریخی طور پر دو بار سپر پاور رہ کر کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکمرانی کر چکا ہے، اور دوسری جانب امریکہ ہے جو کم از کم پچھلی ایک صدی سے دنیا کی سپر پاور ہے اور اس کے ساتھ وہ اس مغربی تہذیب کا بھی نمائندہ ہے جو پچھلے تین سو سال سے دنیا کی سب سے بااثر تہذیب سمجھی جاتی ہے۔
ایران: دنیا کی واحد تہذیب جو تاریخ میں دو بار سپر پاور بنی
آریا باشندوں کو ایران کا جد امجد تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے دو ہزار قبل مسیح میں وسط ایشیا سے ایرانی سطح مرتفع کی طرف ہجرت کی تھی۔
559 قبل مسیح میں سائرس اعظم (پارسی نام کوروش بزرگ) نے آشور سلطنت کا خاتمہ کر کے ہخامنشی سلطنت کی داغ بیل ڈالی جو ڈیڑھ سو برس قائم رہی۔ اس کی سرحدیں مغرب میں اناطولیہ، مشرق میں دریائے سندھ اور شمال میں جارجیا تک پھیلی ہوئی تھیں، اور اس کا مجموعی رقبہ 75 لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سکندر یونانی نے 330 قبل مسیح میں اس سلطنت کا خاتمہ کیا۔ سکندر کی اولاد نہیں تھی اس لیے اس کی موت کے بعد سلطنت جرنیلوں کے ہاتھ چلی گئی اور اس کے حصے بخرے ہو گئے۔ بالآخر پارتھی حکمرانوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کر دی اور اپنی سلطنت کو ترکی سے موجودہ پاکستان کے علاقوں تک پھیلا دیا۔
224 عیسوی میں ساسانی دور شروع ہوتا ہے جو 641 تک چلتا ہے جس کی سرحدیں پھر جارجیا، دجلہ و فرات اور دریائے سندھ تک پھیل جاتی ہیں۔ یہ زرتشت مذہب کے عروج کا دور ہے۔
636 میں جنگ قادسیہ کے نتیجے میں ساسانی سلطنت ختم ہو گئی اور عربوں کا ایران پر قبضہ ہو گیا۔ خلفائے راشدین اور اموی خلفا کے بعد ایران عباسیوں کے ماتحت رہا۔ گیارہویں صدی میں اقتدار ترک نسل کے سلجوقیوں کے ہاتھ میں آ گیا۔ 1194 میں خوارزم شاہ نے سلجوق سلطان کو شکست دے دی، پھر چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور تک یہ سارے ادوار وہی ہیں جس میں ایران اور ہندوستان کی تاریخ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
1501 سے 1722 تک صفوی سلطنت کا سورج نصف النہار پر رہا جس کے زیر قبضہ علاقوں میں آج کا ایران، آذربائیجان، بحرین، آرمینیا، مشرقی جارجیا، شمالی کاکیشیا، روس کے بعض علاقے، عراق، کویت، افغانستان، ترکی، شام، پاکستان کے بعض علاقے، ترکمانستان اور ازبکستان کے علاقے شامل تھے۔
1736 میں نادر شاہی دور اور پھر 1796 سے 1925 تک قاچار خاندان کی حکومت رہی۔ پہلوی بادشاہت کا دور 1925 سے 1979 تک پھیلا ہوا ہے۔
ایران اور امریکہ کا تہذیبی تقابل کیا کہتا ہے؟
ایران کی اگر معلوم پانچ ہزار سالہ تاریخ کو دیکھا جائے تو دو ادوار ایسے ہیں جن میں ایران بلا شرکت غیرے دنیا کی سپر پاور تھا۔ پہلا دور ہخامنشی دور ہے جو 550 سے 330 قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے، اس کے نمایاں حکمرانوں میں سائرس اور دارا شامل تھے۔ اسے دنیا کی پہلی منظم حکومت بھی گردانا جاتا ہے۔ دوسرا دور ساسانی سلطنت کا ہے جو 224 قبل مسیح سے 651 تک 875 سال پر مشتمل ہے۔ تب ایک طرف رومی تھے اور دوسری جانب ایرانی، یہی دو عالمی طاقتیں تھیں۔
ایران کے مقابلے پر امریکہ پچھلے 125 سال میں عالمی طاقت کے طور پر ابھرنا شروع ہوا۔ امریکہ کی بنیاد 1776 کے اعلان آزادی میں سامنے آتی ہے۔ سیکولر ریاستی ڈھانچے، طاقت کی تقسیم کے منظم نظام، سرمایہ دارانہ معیشت، انسانی حقوق اور جمہوریت کی ترویج نے اسے دنیا میں جدید قدروں کا بڑا علم بردار بنا دیا ہے۔
آج کی دنیا جس ماڈل پر کھڑی ہے، اس کا معمار امریکہ کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایران کا ریاستی ڈھانچہ 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب میں شیعہ سیاسی فکر، ولایت فقیہ کے تصور اور سرمایہ دارانہ نظام (جسے ایرانی استعمارانہ نظام سمجھتے ہیں) کی مزاحمت پر کھڑا ہے۔
اس لیے یہاں مقابلہ ایران کی پانچ ہزار سالہ تہذیب اور امریکہ کی پچھلے اڑھائی سو سالہ تاریخ و تہذیب سے نہیں بلکہ ایران کی 46 سالہ اس تہذیب سے ہے جسے امام خمینی نے پروان چڑھایا ہے۔ ایران ایک قدیم تہذیب کا وارث ہونے کے باوجود دراصل اس اسلامی انقلاب کا نمائندہ ہی ہے جس کی بنیادیں 1979 میں امام خمینی نے رکھی تھیں۔ جبکہ امریکہ خود کو اس لبرل جمہوریت اور جدید عالمی نظام کا علمبردار تصور کرتا ہے جس کی بنیاد اس نے 1776 کے اعلان آزادی میں رکھی تھی۔
تہذیبوں کا ٹکراؤ یا اسرائیل کا پھیلاؤ، معاملہ ہے کیا؟
اسلامی انقلاب سے پہلے خطے میں ایران، امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی تھا لیکن انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں جو سرد مہری آئی تھی، وہ حالیہ جنگ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اب خطے میں اسرائیل، امریکہ کا سب سے قابل بھروسہ اتحادی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ مشرق وسطیٰ کی امریکی پالیسیاں دراصل اسرائیل کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔
حالانکہ اسلامی انقلاب سے پہلے ایران خطے میں اسرائیل کا سب سے قریبی مسلم ملک سمجھا جاتا تھا۔ تاریخی طور پر ایران اور یہودیوں کے تعلقات ہمیشہ شاندار رہے ہیں۔ 539 قبل مسیح میں جب ذوالقرنین نے بابل فتح کیا تو اس نے جلاوطن یہودیوں کو واپس ان کے وطن یروشلم جانے اور وہاں اپنے مذہبی مقامات تعمیر کرنے کی اجازت دی، جس کی وجہ سے ذوالقرنین وہ واحد غیر یہودی ہیں جنہیں عبرانی صحیفوں میں ’خدا کا چنیدہ بندہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
بعد میں ساسانی دور میں بھی ایران میں یہودیوں کو مذہبی آزادیاں میسر رہیں اور اسلامی دور میں بھی وہ تمام حقوق انہیں میسر رہے جو اقلیتوں کو دیے گئے ہیں۔
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد ایران نے غیر اعلانیہ طور پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم رکھے لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اسرائیل کو ایک غاصب ریاست قرار دے کر اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت شروع کر دی۔ یہی وہ پالیسی تھی جس نے آج ایک ایسے تنازعے کی صورت اختیار کر لی ہے جو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔
لیکن اس کے باوجود اس سوال کا کوئی دو ٹوک جواب نہیں دیا جا سکتا کہ یہ تہذیبوں کا تصادم ہے یا پھر دو ممالک کے درمیان مفادات کا براہ راست ٹکراؤ ہے۔
ایران ایک بڑی تہذیب کا نمائندہ ضرور ہے مگر امریکہ و اسرائیل سے تصادم کی جڑیں اس کی پانچ ہزار سالہ تاریخ و تہذیب میں نہیں بلکہ اس اسلامی انقلاب کے اندر ہیں جو صرف 46 سال پہلے آیا تھا۔
آج کے ایران کا بنیادی فکر و فلسفہ اس نظام سے متصادم ہے جس کا علم بردار امریکہ اور اس کی سیاسی و معاشی پالیسیاں ہیں، اور اسرائیل کو وہ پشت پناہی حاصل ہے جو مشرق وسطیٰ میں اسے امریکہ کے سب سے قریبی اتحادی کا درجہ دیے ہوئے ہے۔
<p class="rteright">546 قبل مسیح میں سائرس اعظم کی ایک تصویر (پبلک ڈومین)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/iXLExl8