شان کی فلمی میراث یا فہد کی مقبولیت، عید پر مقابلہ سخت

News Inside

وہ بھی کیا دن تھے جب عید الفطر کی آمد پرپاکستانی سینیما گھروں میں درجن بھر سے زیادہ فلموں کی نمائش ہوتی تھی۔ اداکاروں کا جوش و خروش عروج پر ہوتا۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جدوجہد میں یہ اداکار اپنی فلموں کی تعریف و توصیف میں  زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے تھے۔ بڑے بڑے ہدایت کار اور فلم ساز اس بات کو اپنی کامیابی سمجھتے کہ ان کی تخلیق عیدالفطر کے موقع پر ریلیز ہو اور عید کی خوشیوں میں فلمی رنگ بھی شامل ہو جائیں۔

اس زمانے کی خوبصورتی یہ تھی کہ فلمیں کسی ایک زبان تک محدود نہیں ہوتیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی، سندھی اور پشتو فلمیں بھی سینیما گھروں میں جگہ بناتیں، یوں پورا ملک گویا فلمی تہوار میں رچ بس جاتا۔ ٹی وی چینلز بھی عید کے دنوں میں سینیما گھروں کی رونق کو بیان کرتے ہوئے خصوصی رپورٹس نشر کرتے۔ فلموں کے رسیا کہتے ہیں کہ  ’فرسٹ ڈے فرسٹ شو‘ کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے جسے بیان کرنا مشکل ہے۔

مگر وقت کا پہیہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھا تو اچھی اور معیاری  فلمیں ناپید ہوگئیں۔ لاہور کے نگار خانوں کی چمک ماند پڑنے لگی۔ کئی کہنہ مشق ہدایت کار فلموں کی مسلسل ناکامیوں سے دل برداشتہ ہو کر گھروں تک محدود ہو گئے۔ سینیما گھروں کی تعداد کم ہوتی گئی اور اسی کے ساتھ فلموں کی پیداوار بھی سکڑتی چلی گئی۔ مقابلے کی وہ فضا جو کبھی پاکستانی فلمی صنعت کی پہچان تھی، رفتہ رفتہ دم توڑنے لگی۔

اب یہ عالم ہے کہ عید پر اب بڑے فلمی پروڈکشن ہاؤسز نہیں بلکہ ٹی وی چینلز کے اشتراک اور تعاون سے تیار فلمیں پیش کی جارہی ہیں۔ ان فلموں میں کہیں نہ کہیں ٹی وی ڈراموں کی جھلک نمایاں رہتی ہے بلکہ کچھ کا تو یہ کہنا ہے کہ چھوٹی سکرین پر پیش کی جانے والی تخلیقات بس بڑے پردے پر آجاتی ہیں۔

رواں سال عید الفطر پر دو بڑی فلمیں اپنی قسمت آزمانے کے لیے سینیما گھروں تک پہنچیں گی۔ یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ ان فلموں میں سے ایک خالصتاً فلمی ہیرو یعنی شان شاہد کی پنجابی زبان کی فلم ’بلھا‘ ہے تو دوسری جانب ٹی وی ڈراموں اور پروگراموں کے سپر سٹارفہد مصطفیٰ  کی ’آگ لگے بستی میں‘ ہے۔ یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ دونوں فلموں کی دو بڑے چینلز تشہیر کرنے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ان کی ہی تخلیق فلم بینوں کو بھرپور تفریح فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

شان شاہد کی فلم ’بلھا‘ کی بات کی جائے تو شعیب خان کی ہدایتکاری میں تیار اس تخلیق میں سارہ لورین، سلیم شیخ، نعیمہ بٹ اورعدنان بٹ شامل ہیں۔ اسی فلم کے ذریعے شان اور سلیم شیخ ایک طویل عرصے بعد جوڑی بنا رہے ہیں۔

فلم کی ہیروئن سارہ لورین جو کسی زمانے میں مونا لیزا کے نام سے ٹی وی ڈراموں میں کام کرچکی ہیں پھر سارہ نے بالی وڈ کی کچھ اوسط درجے کی فلموں میں بھی  اداکاری کے جوہر دکھائے لیکن وہ انڈین فلموں میں کوئی غیر معمولی تخلیقی فن دکھانے سے قاصر رہیں۔ بہرحال انہیں شان شاہد کی اس فلم  سے بڑی بلند توقعات ہیں۔

پنجابی زبان میں اس فلم کو پیش کرنے کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ فلم بین جو پنجابی زبان کی فلموں کے گرویدہ رہے ہیں اور پنجابی فلموں کی کمی سے سنیما گھروں سے دور ہو چکے ہیں وہ پھر سے لوٹ آئیں۔ اسی طرح ممکن ہے کہ ہدایت کار کے ذہن میں ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کی فقید المثال کامیابی اور ریکارڈ کاروبار ہو جس نے پنجابی زبان کی فلم کے طور پر پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں زبردست پذیرائی حاصل کی۔

فلم کے ٹریلر سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھرپور ایکشن ڈراما ہے۔ فلم کا پس منظر پنجاب کے روایتی ثقافتی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔ فلم کا مرکزی کردار یعنی بلھا، روحانیت کے ساتھ مزاحمت کی علامت کے طورپر پیش کیا جا رہا ہے، جو ناانصافی اور معاشی مسابقت پر آواز بلند کرتا ہوا نظر آئے گا۔ یہ شان شاہد کی 4 سال بعد آنے والی فلم ہے جس کے ٹریلر اور اب تک جاری ہونے والے گیتوں کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ شان شاہد نے اپنے طویل فلمی کیرئیر کے تجربے  کو نچوڑ کر اس تخلیق کے ذریعے پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

جہاں ایک طرف سنجیدہ موضوع اوربھرپور ماردھاڑ ہے تو وہیں فہد مصطفیٰ  کی فلم ’آگ لگے بستی میں‘ میں ہنستے مسکراتے مناظر اور گدگدی کرتے ہوئے مکالمات کی بہار پیش کی جا رہی ہے۔ فہد مصطفیٰ جو 4 سال پہلے ماہرہ خان کے ساتھ ’قائداعظم زندہ آباد‘ میں جوڑی بنا چکے ہیں اس بار پھر سے یہ ثابت کرنے کی جستجو میں ہیں کہ وہ چھوٹی سکرین کے ساتھ بڑے پردے کے بھی سپر سٹار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہدایت کار بلال عاطف خان کی اس فلم کا خاصہ بیان کیا جائے تو وہ فہد مصطفیٰ اورماہرہ خان سے زیادہ تابش ہاشمی ہیں، جو فلم میں منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا یہ کردار سکرین پرخون کی ندیاں بہاتا تو نظرنہیں آرہا لیکن چہرے کے سخت گیر تاثرات اور آنکھوں کے بہترین استعمال اور چٹکلے چھوڑتے مکالمات  کے ذریعے وہ خود کو ممتاز بنانے میں مصروف ہیں۔ کہانی کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ ’شارٹ کٹ‘ کے ذریعے دولت مند بننے کی آرزو رکھنے والے برکت کے گرد گھومتی ہے۔

فلم کی تشہیر تو ہر روز فہد مصطفیٰ اپنے انعامی پروگرام ’جیتو پاکستان‘ میں  کر رہے ہیں اور بار بار ناظرین کو تلقین کر رہے ہیں کہ وہ ان کی یہ فلم دیکھنے کے لیے سینیما گھروں میں ضرور ’آئیں۔

بہرحال دوسری جانب  ہدایت کار نے کمال مہارت سے اس تخلیق میں آدھا درجن سے زیادہ ٹک ٹاکرز اور میڈیا انفلوائزرکو بھر دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ہر کوئی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے فلم کی بھرپور تشہیر کر رہا ہے جبھی بیٹھے بٹھائے آگ لگے بستی میں" موضوع بحث بن چکی ہے۔ اسی بنا پر  فلم کے بارے میں عوام کے تجسس میں اضافہ ہورہا ہے۔

شان کی ’بلھا‘ میں جہاں سلیم شیخ ولن بنے ہوئے ہیں تو وہیں ان کے بڑے بھائی جاوید شیخ ’آگ لگے بستی میں‘ منفرد اور ہنستا مسکراتا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان فلموں کے علاوہ ایک تخلیق ’دلی گیٹ‘ بھی ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے نمائش پذیر نہ ہو سکی۔ اس بار ٹریلر میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عیدالفطر پر اس فلم کو پیش کر دیا جائے گا۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس بار عید پر ٹی وی اور فلم کے ہیروز کے درمیان مقابلہ ہے۔ ایک طرف فلمی روایت کے امین شان شاہد تو دوسری طرف ٹی وی سکرین کا بے حد مقبول چہرہ فہد مصطفیٰ۔

دیکھنا یہ ہے کہ عید کے دنوں میں سینیما گھروں کی گونج کس کے نام رہتی ہے۔ کیا شان شاہد اپنی فلمی میراث کا لوہا منوا پائیں گے یا فہد مصطفیٰ چھوٹی سکرین کی مقبولیت اور شہرت  کو بڑے پردے پر بھی اپنی جیت  میں بدل دیں گے؟ ان تمام سوالات کا جواب اب فلم بینوں کے ہاتھوں میں ہے۔

اس عید الفطر پر دو بڑی فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں، جن میں ’بلھا‘ اور ’لگے آگ بستی میں‘ شامل ہیں۔
جمعرات, مارچ 19, 2026 - 08:30
Main image: 

<p>عید الفطر پر دو فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں، جن میں شان شاہد کی ’بلھا‘ اور فہد مصفطیٰ کی ’آگ لگے بستی میں‘ شامل ہیں (آئی ایم ڈی بی)&nbsp;</p>

type: 
SEO Title: 
شان کی فلمی میراث یا فہد کی مقبولیت، عید پر مقابلہ سخت


from Independent Urdu https://ift.tt/l4pVFc7

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;