2019 میں اندرونی خود مختاری ختم کرنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کشمیری ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز اور پابندیوں کی پروا کیے بغیر سڑکوں پر جوق در جوق نکل آئے اور ایران پر مسلط امریکی اور اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر تعزیت کی۔ سوگواروں نے پولیس کے سخت پہرے میں خامنہ ای کی زندگی کی مختلف جہتوں اور ان کی کشمیر دوستی پر روشنی ڈالی۔
پہلی بار مشاہدہ کیا گیا کہ کشمیر میں ہر فرقے کے لوگوں نے یکساں طور پر ماتمی جلوسوں میں شرکت کر کے امریکی حملے پر شدید تنقید کی۔
کشمیر میں ایران پر امریکی حملوں کی مذمت کے پیچھے یہ وجہ بھی عیاں ہے کہ عوامی سطح پر کشمیر اور ایران کے مابین گہرے روابط رہے ہیں، تجارتی اور مذہبی مراسم کے علاوہ وادی میں لمبے عرصے تک فارسی سرکاری زبان رہی ہے جو پھر ڈوگرہ دور میں اردو میں منتقل کر دی گئی۔
یہاں کے رہن سہن پر ایرانی ثقافت کا گہرا اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کشمیر کو ’ایران صغیر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اقبال نے مہاراجہ دور کے دوران کشمیر کا دورہ کرنے کے بعد یہاں کی بے بسی کا اظہار یوں کیا تھا:
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ’ایران صغیر‘
بظاہر ایران نے ہمیشہ کشمیریوں کے سیاسی حقوق کی بحالی کی حمایت کی ہے البتہ بیشتر مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران نے عالمی اداروں میں انڈیا کے موقف کی طرفداری کی ہے۔
چھ سال قبل جب کشمیر کی اندرونی خود مختاری چھین کر کشمیریوں کو بے اختیار کر دیا گیا، ایرانی مساجد میں بیشتر اماموں نے اس کی شدید مذمت کی جبکہ آیت اللہ خامنہ ای نے انڈیا سے اپنے قریبی روابط کو جتا کر کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے کی اپیل کی تھی۔ ظاہر ہے کہ ایران اور انڈیا کے تعلقات قریبی رہے ہیں اور انہوں نے بچ بچاتے کشمیر پر اس وقت بیان دیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعض انڈیا نواز کشمیری رہنماؤں کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے ایران سے رابطے بڑھا کر انڈیا کے حق میں ایرانی موقف تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جن میں آج بھی ان کی بعض اولادیں اس پر کام کر رہی ہیں۔
یکم مارچ کے بعد مرکزی لال چوک اور سری نگر کے مضافاتی علاقے اسی طرح ہجوم سے بھر گئے جس طرح 1990 کی دہائی میں آزادی کے جلوسوں سے بھرا کرتے تھے، جس کو دیکھتے دیکھتے ہر ضلع ماتمی جلوسوں میں تبدیل ہو گیا۔ اگلے روز سکیورٹی فورسز نے ٹین کی چادروں سے لال چوک اور سری نگر کے بیشتر علاقوں کو سیل بند کر دیا۔ جب لوگ نہیں مانے تو عوام کا غصہ دیکھ کر انہیں دوسری جگہوں پر ماتم کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تھی یا جنرل ضیاء الحق کا فضائی حادثہ، اس وقت بھی کشمیریوں کی بھاری تعداد سڑکوں پر نکل کر واویلا کرنے لگی تھی، جس کے دوران کبھی بائیں بازو والے تو کبھی جماعت اسلامی کے کارکن تشدد کا شکار ہوتے رہے۔
غزہ پر اسرائیلی بربریت کے خلاف ایران کے سخت موقف نے کشمیریوں میں ایران کے بارے میں ہمدردی کے جذبات ابھارے اور مظلوموں کا ساتھ دینے پر وہ ایرانی رہنما کے مداح بن گئے۔
آیت اللہ خامنہ ای سے کشمیر کا ایک اور رشتہ بندھ گیا تھا جب وہ 1980 میں روح اللہ خمینی کے کہنے پر کشمیر کے دورے پر آئے تھے اور مسلکی اتحاد پر زور دیا تھا۔ انہوں نے اہل تشیع مسجد میں جانے سے پہلے جامع مسجد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرحوم میر واعظ مولوی فاروق کے ہمراہ نماز جمعہ ادا کی اور لوگوں سے فرقوں کے بجائے ایک قوم بننے پر زور دیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ سری نگر ڈاؤن ٹاؤن میں خامنہ ای کی موت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور کئی مقامات پر پتھر بازی بھی شروع ہوئی تھی جس پر قابو پا لیا گیا۔
کشمیریوں نے مرکزی سرکار کی اسرائیل نواز پالیسی کے باوجود ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کو فوقیت دی اور اس پر جاری جارحیت کے خلاف متحد رہ کر سرکار کو پیغام دیا کہ وہ کبھی اسرائیلی جارحیت کا ساتھ نہیں دیں گے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے اب تک آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر نہ کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی اظہار تعزیت کیا ہے، جس کے بارے میں کانگریس سمیت حزب اختلاف کی سرکردہ جماعتوں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، جن کے ساتھ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے ایک روز پہلے وہ تل ابیب کی سیر کر رہے تھے۔
بیشتر عوامی اور سیاسی جماعتوں نے مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے کسی کو اعتماد میں لیے بغیر ہی انڈیا کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کر دیا ہے، جبکہ ایران انڈیا کا پرانا دوست رہا ہے۔
گو کہ وزارت خارجہ نے عوامی اور حزب اختلاف کے دباؤ کے تحت ایران سے ہمدردی کا اظہار کر کے خطے میں قیام امن کی کوششوں پر زور دیا ہے، مگر بی جے پی کی اسرائیل نواز پالیسی نے نہ صرف عوام خصوصاً مسلمانوں میں شدید بےچینی پیدا کر دی ہے بلکہ انڈیا کا امیج عالمی سطح پر مسخ ہونے کا غم بھی انہیں ستا رہا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">تین مارچ 2026 کو سری نگر علی خامنہ ای کی امریکہ اسرائیل حملے میں موت کے خلاف احتجاج (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/KjE1UNF