حلقہ بندیوں کی منظوری: کیا پنجاب میں اس مرتبہ بلدیاتی انتخابات ممکن ہوں گے؟

News Inside

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب کی کابینہ نے بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کے قواعد کی منظوری دے کر الیکشن کمیشن کو انتخابی تیاریوں کی سفارش کر دی ہے۔

پنجاب میں لوکل باڈیز الیکشن آخری بار 2015 میں منعقد ہوئے تھے، جس کے بعد تحریک انصاف یا موجودہ حکومت نے یہ الیکشن نہیں کروائے۔

الیکشن کمیشن کی بار بار ہدایات پر موجودہ حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 بھی چند ماہ پہلے اسمبلی سے پاس کروایا ہے، لہذا آئندہ انتخابات اسی ایکٹ کے مطابق ہوں گے۔ 

آئین پاکستان کے مطابق تمام صوبائی حکومتوں کو اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے مقامی حکومتوں کی تشکیل یقینی بنانا لازمی ہے۔ یہ نظام بلدیاتی انتخابات کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے، جس میں ہر ضلعے کی اپنی اسمبلی میں منتخب نمائندے مقامی مسائل حل کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شروع سے ہی پاکستان کے کسی جمہوری دور میں ان مقامی حکومتوں کا باقاعدہ اور بااختیار قیام ترجیح نہیں رہا، بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں تک اختیارات محدود رکھ کر کام چلایا جاتا رہا ہے۔ اس کے برعکس مارشل لا کے دور میں یہ نظام زیادہ موثر رہے اور اختیارات نچلی سطح تک جانے سے زیادہ بہتر نتائج سامنے آئے۔

صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا ایکٹ بھی پاس کروا لیا ہے۔ کابینہ نے حلقہ بندیوں کے ضابطوں کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے تیاریوں سے متعلق الیکشن کمیشن کو بھی سفارشات اور ریکارڈ بھجوایا جا رہا ہے۔ ہماری حکومت بلدیاتی انتخاب کروانے میں سنجیدہ ہے اسی لیے پرانے ایکٹ میں خامیاں دور کر کے نیا قانون بنا گیا ہے، لہذا جماعتی بنیادوں پر یہ انتخاب اسی سال ہوں گے۔‘

ذیشان رفیق کے بقول: ’پنجاب میں پہلی بار صوبے بھر میں 28 ٹاؤن کارپوریشنز بنائی جا رہی ہیں، جن کے سربراہ منتخب میئرز ہوں گے۔ اس کے علاوہ 34 میونسپل کارپوریشنز بنائی گئی ہیں۔ شہری علاقوں میں 235 میونسپل کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، جن کے میئر اور ڈپٹی میئر جبکہ دیہی علاقوں میں 142 تحصیل کونسلوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین ہوں گے۔

’اسی طرح ہر یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب ہوں گے۔ تمام اختیارات ان کے پاس ہوں گے جو اپنے علاقوں میں مقامی سطح پر عوامی مسائل حل کر کے ترقیاتی کام کروانے کا اختیار رکھتے ہوں گے۔‘

پنجاب میں 2015 میں ہونے والے آخری بلدیاتی انتخابات کے بعد 2022 میں پی ٹی آئی حکومت نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ منظور کروایا تھا۔

لیکن موجودہ پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کی ہدایات کے باوجود مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد پر پیش رفت نہ کی تو گذشتہ سال اکتوبر نومبر 2025 میں الیکشن کمیشن نے پرانے ایکٹ 2022 کے تحت ہی تین ماہ میں پرانی حلقہ بندیوں کے تحت انتخابات کروانے کا حکم دے دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم بعد میں پنجاب حکومت نے نئے ایکٹ کی منظوری کا وقت مانگا اور اسے منظور کروالیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے 2025 کے ایکٹ کے تحت نئی حلقہ بندیاں تشکیل دے کر آئندہ بلدیاتی انتخاب کروانے کا اعلان کیا۔  

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی متعدد بار لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کر چکی ہیں، جن میں پہلے بلدیاتی ایکٹ کی منظوری، پھر انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانے سے متعلق استدعا کی گئی۔ عدالت نے اس معاملے پر پنجاب حکومت سے وضاحتیں طلب کیں، جو ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے پیش کی جاتی رہیں۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی سے صفائی، پانی اور سڑکوں وغیرہ سے متعلق شہری مسائل حل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ منتخب نمائندوں کی غیر موجودگی میں ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہر جمہوری حکومت پاکستان میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریز کرتی ہے۔ سارے اختیارات وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پاس ہونے کے باعث مقامی سطح پر گلی محلوں کے لوگ دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں۔

’حالانکہ ضیا دور ہو یا مشرف کا زمانہ بلدیاتی نظام کافی موثر بنائے گئے جن سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوئے۔ عوام کے بہت سے چھوٹے موٹے مسئلے وہیں حل ہوتے رہے، لیکن پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف کسی نے بھی مقامی حکومتوں کی موثر تشکیل پر سنجیدگی نہیں دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک سارا دباؤ وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں پر رہا ہے اور عوام مقامی نمائندوں کی بجائے دور بیٹھے وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کی منظوری کے منتظر رہتے ہیں۔‘

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب کی کابینہ نے بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کے قواعد کی منظوری دے کر الیکشن کمیشن کو انتخابی تیاریوں کی سفارش کر دی ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026 - 09:15
Main image: 

<p class="rteright">ایک&nbsp;شخص 5 اگست 2005 کو لاہور میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشانات دکھا رہا ہے (عارف علی / اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
حلقہ بندیوں کی منظوری: کیا پنجاب میں اس مرتبہ بلدیاتی انتخابات ممکن ہوں گے؟


from Independent Urdu https://ift.tt/aBu8fRE

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;