1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ ہر آنے والی امریکی حکومت نے ایران پر پابندیوں میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
کبھی کانگریس کے ذریعے اور کبھی کسی صدارتی یا انتظامی حکم نامے سے ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ ایک طویل کشمکش ہے جس کا آغاز جمی کارٹر نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے کیا تھا۔ 14 نومبر 1979 کو امریکہ میں موجود ایرانی حکومت کے تمام اثاثے ضبط کر لیے گئے۔
تہران میں امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنانے کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جارج شلز نے 1984 میں ایرانی حکومت کو بین الاقوامی دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا۔ یہ قدم اکتوبر 1983 میں لبنان میں امریکی فوجیوں پر بم دھماکے کے نتیجے میں اٹھایا گیا تھا۔
امریکہ نے ایران کو دہشت گردی کی سرپرست ریاست قرار دیا تو ایران کے ساتھ ہر قسم کے تجارتی لین دین کے لائسنس معطل کر دیے گئے۔
ایران کو امریکی اسلحے کی فروخت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون پر پابندی عائد کر دی گئی، اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ جو ممالک ایران کی مدد کریں گے یا اسے اسلحہ فروخت کریں گے امریکہ ان پر بھی یہی پابندیاں نافذ کر دے گا۔
بعد ازاں ہر آنے والے امریکی صدر نے ان پابندیوں میں اپنا حصہ ڈالا جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی فوجی طاقت کو محدود کرنا تھا۔
امریکی پابندیوں کا محور، ایران کا جوہری پروگرام
2000 میں ایران نے جوہری پروگرام شروع کیا تو اس کے بعد امریکی پابندیوں کا مرکز بھی ایران کا جوہری پروگرام بن گیا۔ 2006 سے 2010 کے دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف چار بار پابندیاں عائد کیں۔
2010 کے بعد امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں میں بیشتر پابندیاں ان غیر ملکی کمپنیوں پر لگائی گئیں جو ایرانی معیشت کے بڑے شعبوں، بینکاری، توانائی اور جہاز رانی میں لین دین کرتی تھیں۔
امریکی صدور نے مسلسل حکم نامے جاری کیے جن کے تحت مخصوص افراد اور اداروں کو نامزد کیا گیا تا کہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ امریکہ نے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد اور اداروں پر بھی پابندیاں نافذ کیں۔
2011 کے بعد عائد کی جانے والی پابندیاں ایران کے لیے زیادہ سخت ثابت ہوئیں اور اس کی معیشت پر دباؤ بڑھتا گیا۔ ایران نے اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔
2012 میں یورپی یونین نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی لگا دی۔ 2015 میں ایران کا امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے ساتھ ایک معاہدہ ہو گیا جس میں ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے بدلے اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی۔
تاہم ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو امریکہ نے اپنی سلامتی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہوئے 2018 میں ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی کانگریس میں ایران پر عائد پابندیوں کے نتائج پر مسلسل رپورٹس پیش ہوتی رہیں۔
امریکہ کی 118 ویں کانگریس (تین جنوری 2023 تا تین جنوری 2025)، جسے صدر بائیڈن کا آخری دور بھی کہا جا سکتا ہے، کے دوران ایران پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی۔
کانگریس امریکی انتظامیہ سے مسلسل یہ جانکاری حاصل کرتی رہی کہ ایران پر عائد پابندیوں کے کیا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اس دوران کانگریس نے ایران کی جانب سے عوامی احتجاجوں کو کچلنے، پابندیوں کے باوجود تیل کی برآمدات جاری رکھنے، مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گرد قرار دیے گئے گروہوں کی مسلسل حمایت کرنے پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔
اپریل 2024 میں ایران اسرائیل جھڑپوں کی وجہ سے کانگریس نے اسرائیل کے لیے اضافی دفاعی امداد کی منظوری دی جس میں دوسری جانب ایران پر پابندیوں کو بھی مزید سخت کر دیا گیا۔
119 ویں کانگریس جو صدر ٹرمپ کے ساتھ آئی، اس نے ایران پر 1996 سے عائد پابندیوں کی بعض دفعات کو ختم کرنے اور ان کی جگہ نئی دفعات شامل کر دیں جن کے تحت ایسے افراد جو ایران کے ساتھ تیل کی تجارت میں ملوث پائے گئے تھے ان پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئیں اور ایران کے جوہری پروگرام کو دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی ایران کی جمہوری اور سیکیولر قوتوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایران کے سیاسی پناہ گزینوں، خواتین کے حقوق کی علم برداروں اور ایران میں سیاسی قیدیوں کی مدد کا اعادہ کیا گیا۔ اس بار امریکہ نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی ایران پر ایسی ہی پابندیاں عائد کریں۔
اس دوران کانگریس نے ایران میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن مریم رجوی کو کانگریشنل کاکس میں مدعو کیا تا کہ ان سے یہ سنا جا سکے کہ ایرانی رجیم اپنے مخالفین کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے۔
اس دوران امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ کمیٹی نے بھی ایران کے حوالے سے سماعتیں کیں۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ دنوں ایران پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کو امریکی پابندیوں کا کتنا نقصان ہوا؟
ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت کو مجموعی طور پر دو سے چار ٹریلین (40 کھرب) ڈالر کے درمیان نقصان ہو چکا ہے۔
ایران کی وزارتِ سائنس، ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام چلنے والی علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے (جسے رضا زمانی نے لکھا ہے) کے مطابق صرف 2011 سے 2022 کے دوران امریکی پابندیوں کی وجہ سے 1.2 ٹرلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا جو 1981-88 کے دوران عراق کے ساتھ ہونے والی جنگ سے بھی زیادہ تھا۔
امریکی پابندیوں کی وجہ سے زرعی شعبے، صنعت و حرفت اور خدمات کے شعبے کو بالترتیب 150، 450 اور 600 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ صدر اوباما کے دورِ صدارت میں یہ نقصان 500 ارب ڈالر، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 450 ارب ڈالر اور بائیڈن کے دور میں یہ نقصان 250 ارب ڈالر تھا۔
اسی طرح ایران کی مجموعی قومی پیداوار متاثر ہونے سے اس کی فی کس آمدنی میں 1428 ڈالر تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 1979 میں ایک امریکی ڈالر کے بدلے میں 70 ریال آتے تھے جبکہ اس کا موجودہ ریٹ ایک ڈالر کے بدلے میں 15 لاکھ ریال تک پہنچ چکا ہے۔
ایرانی ریال اس وقت دنیا میں ڈالر کے مقابلے میں دوسری کمزور ترین کرنسی ہے جس کی وجہ سے عالمی بینک کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کی شرح سالانہ 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ایران پر اقتصادی پابندیاں امریکہ کو کتنے میں پڑیں؟
بظاہر لگتا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا نشانہ صرف ایرانی معیشت ہی ہو گی لیکن جب آپ کسی ملک، بالخصوص ایک ایسے ملک جو دنیا میں تیل کے ذخائر میں تیسرے نمبر پر ہے، اسے ایک طرف کر دیتے ہیں تو پھر اس کا اثر کہیں نہ کہیں دنیا کے ہر ملک پر پڑتا ہے۔
امریکہ چونکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اس لیے ایران پر عائد پابندیوں کا سب سے زیادہ نقصان بھی اس کی معیشت کو ہی ہوا ہے۔
2014 میں نیشنل ایرانین امریکن کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کو 1995 سے 2014 کے درمیان برآمدات کی مد میں 134.7 سے 175 ارب ڈالر کے درمیان نقصان ہوا ہے کیونکہ پابندیوں سے پہلے ایران، امریکہ کے 25 بڑے تجارتی ساتھی ممالک میں شامل تھا۔
اس نقصان کی وجہ سے امریکہ میں 51,000 سے 66,000 نوکریوں کی کمی ہوئی۔ یورپ میں ان پابندیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان جرمنی کو برداشت کرنا پڑا جس کا تخمینہ 73 ارب ڈالر تک ہے۔
<p>ایک ایرانی شہری 7 جنوری 2026 کو دارالحکومت تہران میں بینک اُتساد نوین میں اے ٹی ایم مشین سے رقم نکال رہا ہے (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/vhfDFc0