ہر کمرہ جماعت میں پانچ اقسام کے طالب علم ہوتے ہیں۔
پڑھاکو طالب علم
سب سے پہلی قسم پڑھاکو طالب علموں کی ہوتی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں میرا شمار بھی انہی طالب علموں میں ہوتا تھا۔ میں وقت پر کلاس میں جاتی تھی۔ پورا لیکچر سنتی تھی۔ نوٹس بناتی تھی۔ اسائنمنٹس پوری محنت سے مکمل کرتی تھی اور وقت پر جمع کرواتی تھی۔
امتحانوں کے لیے سارا سلیبس تیار کرتی تھی اور اپنی کلاس میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرتی تھی۔ میں پروفیسروں کو اسائنمنٹس اور کوئز کی ڈیڈ لائن یاد کرواتی تھی اور اس وجہ سے میرے کلاس فیلوز مجھے پسند نہیں کرتے تھے۔
پروفیسر بننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ایسے طالب علموں کو پروفیسر بھی پسند نہیں کرتے۔ گرچہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر طالب علم پڑھاکو ہو، ان کی ہر بات پر ان کی ہدایات کے مطابق عمل کرے اور انہیں تنگ کیے بغیر ان کے ساتھ کورس مکمل کرے تاہم ان کی یہ چاہت جب چند طالب علموں کی صورت اختیار کرتی ہے تو وہ تنگ آ جاتے ہیں۔
ایسے طالب علم نہ صرف خود ہر وقت کام کرتے ہیں بلکہ پروفیسروں سے بھی کام کرواتے ہیں۔ وہ پروفیسروں کو نہ کچھ بھولنے دیتے نہ کام ٹالنے دیتے ہیں۔ اسائنمںٹ کب ہو گی، پیپر کیسا ہو گا، رزلٹ کب آئے گا، یہ روزانہ اپنے نئے سوالات کے ساتھ انہیں ایک لمبی سی ای میل بھیجتے ہیں۔ پروفیسر پورا سمسٹر ان کے ڈر میں گزارتے ہیں۔ وہ زیادہ تیاری کے ساتھ کلاس میں آتے ہیں، اسائنمںٹس وقت سے تیار کرتے ہیں، جلدی جلدی چیک کرتے ہیں، پیپر ہوتے ہی فوراً وصول کرتے ہیں اور ان کی اگلی ای میل سے پہلے چیک کر کے رزلٹ جمع کرواتے ہیں۔
ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جو باقیوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ بالکل نہیں پڑھتے پھر بھی ہر سمسٹر ٹاپ کرتے ہیں۔ ان کے ہم جماعتوں کو یہ برے لگتے ہیں لیکن انہیں ان کے ساتھ تعلق قائم رکھنا پڑتا ہے۔ امتحانات کے دنوں میں یہی سب کو تیاری کرواتے ہیں اور پاس ہونے میں مدد دیتے ہیں۔
بیک بینچرز
ان سے بالکل مختلف بیک بینچر ہوتے ہیں۔ یہ پروفیسروں کے عزیز از جان طالب علم ہوتے ہیں۔ پورا کمرہ خالی ہو گا لیکن یہ کلاس میں سب سے پیچھے جا کر بیٹھیں گے۔ ان کے مطابق پروفیسروں کی توجہ صرف آگے بیٹھنے والے پڑھاکو طالب علموں پر ہوتی ہے۔ حالانکہ پروفیسر خود ان سے بچ رہے ہوتے ہیں۔
ان طالب علموں میں اداکارانہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ یہ لیکچر سننے کی اداکاری کرتے ہیں، کچھ بہت اچھی تو کچھ بہت بری۔ یہ مکمل خاموشی سے لیکچر سنتے ہیں۔ ہر نکتے پر بس سر ہلاتے ہیں کہ سمجھ آ گیا جبکہ وہ نکتہ ان کے سر کے اوپر کہیں اڑ رہا ہوتا ہے۔
ان کا مشاہدہ بہترین ہوتا ہے۔ یہ جیسے ہی پروفیسر کی نظریں اپنے اوپر محسوس کرتے ہیں سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور جیسے ہی پروفیسر کی توجہ ان سے ہٹتی ہے یہ اپنے ساتھیوں سے باتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ان کے کانوں میں اسائنمنٹ اور کوئز کے الفاظ کی الرٹ لگی ہوتی ہے۔ جیسے ہی پروفیسر کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں یہ الرٹ ہو جاتے ہیں، ان کی نوٹ بکس کھل جاتی ہیں اور یہ ساری تفصیلات لکھنے لگتے ہیں۔ وہ واحد وقت ہوتا ہے جب یہ کلاس میں سوال پوچھتے ہیں اور توجہ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
لیٹ لطیف طالب علم
اگلی قسم لیٹ لطیف طالب علموں کی ہے۔ ان کا ہر کام دیر سے ہوتا ہے۔ یہ اکثر ہی کلاس لینا بھول جاتے ہیں۔ جس دن کلاس ہو ان کا الارم خود ہی بجنے سے پہلے بند ہو جاتا ہے اور یہ سوتے رہ جاتے ہیں۔ کبھی جاگ رہے ہوں تو انہیں اپنے ضروری کام یاد آ جاتے ہیں جو انہیں لیکچر کے اوقات میں ہی کرنے ہوتے ہیں۔
اسائنمٹ کا انہیں وقت پر پتہ نہیں چلتا اور یہ وقت پر اسائنمنٹ جمع نہیں کروا پاتے۔ انہیں اسائنمںٹ جمع کروانے کے لیے اضافی وقت درکار ہوتا ہے اور اس کے لیے یہ پروفیسروں کے دفاتر کے چکر کاٹ کر اپنا اور ان کا وقت ضائع کرتے ہیں۔
ان کی درخواستوں سے پروفیسر جتنا چڑتے ہیں اتنا ہی ان سے بات کرنا پسند بھی کرتے ہیں۔ یہ اپنے بہانوں اور کہانیوں سے پروفیسروں کی بورنگ روٹین میں چند منٹوں کے لیے رونق لے آتے ہیں۔
ان کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر کن ہوتی ہیں۔ میرے ایسے ہی ایک طالب علم نے پچھلے دنوں مجھے ایک ای میل کی جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک مہینہ قبل مجھے ایک ای میل کی تھی اور میں نے انہیں جواب نہیں دیا تھا جس وجہ سے وہ اپنی اسائنمنٹ پر کام نہیں کر پا رہے۔ ان کی ای میل کے اختتام پر ان کی پچھلی ای میل نظر آ رہی تھی۔ مجھے اس میں موجود ایک دستاویز پر اپنی تجاویز دینی تھیں لیکن میں چاہ کر بھی اس ڈاکومنٹ پر کلک نہیں کر پا رہی تھی۔ دس منٹ کی تگ و دو کے بعد مجھے پتہ چلا کہ کوئی پچھلی ای میل نہیں تھی۔ وہ ساری ای میل طالب علم نے خود ٹائپ کی ہوئی تھی۔
میں پھر کافی دیر تک اس طالب علم کی چالاکی پر ہنستی رہی۔ پھر اسے کہا کہ تم سیر ہو تو میں سوا سیر ہوں۔ یہ دستاویز نئی ای میل میں بھیجو تاکہ میں تمہاری مدد کر سکوں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گھوسٹ طالب علم
ہر کلاس میں کچھ گھوسٹ طالب علم بھی ہوتے ہیں۔ کلاس میں ان کا بس نام موجود ہوتا ہے۔ یہ خود وہاں موجود نہیں ہوتے۔ یہ ہر سمسٹر کے شروع اور آخر میں نمودار ہوتے ہیں اور پھر اپنی مصروف زندگی میں کھو جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر ان کی حاضری اور اسائنمںٹس پوری ہوتی ہیں۔ ان کے دوست حاضری کے وقت آواز بدل کر ان کی حاضری لگوا دیتے ہیں یا یہ خود اپنی حاضری لگوا کر کلاس سے کھسک جاتے ہیں۔ اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو یہ کلاس سے پہلے یا کلاس کے بعد کسی جان لیوا بہانے کے ساتھ حاضر ہو جاتے ہیں۔ کبھی ان کے گھر کا کوئی فرد بیمار ہوتا ہے، کبھی یہ خود بیمار ہوتے ہیں، کبھی انہیں ضروری کام سے شہر سے باہر جانا پڑتا ہے تو کبھی یہ خاندان کے واحد کفیل بن جاتے ہیں۔
تاہم، یہ اکثر ہی کیفیٹیریا میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیفیٹیریا سے انہیں جامعہ سے باہر نکلنے کا رستہ ہی پتہ ہوتا ہے۔ کلاس کا رستہ یہ اکثر بھول جاتے ہیں۔
سوشل بٹرفلائیز
طالب علموں کی آخری قسم سوشل بٹرفلائی کی ہوتی ہے۔ یہ پورے ڈپارٹمنٹ میں مشہور ہوتے ہیں۔ یہ اپنے لباس، میک اپ اور انداز سے نت نئے ٹرینڈ بناتے ہیں۔ یہ پڑھائی نہیں کرتے بلکہ نیٹ ورکنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ہر ضرورت کے لیے الگ دوست رکھے ہوتے ہیں۔ کیفیٹیریا کے دوست الگ ہوتے ہیں، باہر جانے کے لیے دوست الگ ہوتے ہیں اور پڑھائی میں مدد کے لیے دوست الگ ہوتے ہیں۔
انہیں گروپ اسائنمںٹس اور پروجیکٹ پسند ہوتے ہیں۔ یہ گروپ کے لیڈر بن جاتے ہیں۔ سارا کام گروپ ممبرز میں تقسیم کر کے خود اس کام کو پریزنٹ کرنے کی ذمہ داری اٹھا لیتے ہیں۔
ان میں کمال کا کانفیڈنس ہوتا ہے۔ پروفیسر جانتے ہیں کہ انہوں نے کام نہیں کیا لیکن انہیں پکڑنا ناممکن ہوتا ہے۔ یہ کمال پروفیشنلزم سے ہر سوال کا جواب دیتے ہیں اور اپنے گروپ کے ٹیم ورک کو نمایاں کرتے ہوئے مشکل سوال متعلقہ گروپ ممبر کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔
یہ اصل مسئلے کا شکار تب ہوتے ہیں جب انہیں پیپر خود دینا پڑتا ہے۔ یہ وہاں کہانیاں لکھتے ہیں اور کم نمبر حاصل کرتے ہیں لیکن ان کی اسائنمنٹس کے نمبر انہیں اوسط جی پی سی سے تھوڑا اوپر لے جاتے ہیں۔
اب آپ بتائیں آپ کا شمار کس قسم کے طالب علموں میں ہوتا ہے۔
<p>17 جنوری 2024 کو لی گئی اس تصویر میں، طالب علم میانوالی یونیورسٹی کیمپس میں چہل قدمی کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/lW3N6uc
