ام رباب کے اہل خانہ کے قتل کے مقدمے میں، عدالت نے یہ تو بتا دیا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے جن وڈیروں اور اراکین صوبائی اسمبلی پر الزام تھا، وہ قاتل نہیں ہیں۔ لیکن لوگ تو قتل ہوئے ہیں، کسی نے تو انہیں قتل کیا ہے، انہیں اب کس نے تلاش کرنا ہے؟
کیا نظامِ قانون و انصاف کی ذمہ داری صرف یہاں تک ہے کہ مقدمے کے تکلیف دہ مراحل کے بعد مقتولین کی وارث کو صرف یہ بتا دیا جائے کہ بی بی جن پر تم الزام لگا رہی تھی وہ مجرم نہیں ہیں، بات ختم، اب گھر جاؤ؟
ہمارے ہاں ہوتا کیا ہے، قتل ہوا، مقتول کے ورثا نے کسی کو نامزد کر دیا، مقدمہ چلا، ملزم کو سزا ہو گئی۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ملزم کو بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا گیا۔
اگر ملزم کو بری کر دیا جائے تو کیا ریاست کو اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہیے کہ اگر یہ مجرم نہیں ہے تو پھر مجرم کون ہے؟
قتل کے بعد قانون کا کام اپنے شہری کے مجرم کو تلاش کر کے سزا سنانا ہے یا صرف یہ دیکھنا کہ بد نصیب، کمزور اور لاچار بیٹی نے باپ کے قتل میں جنہیں نامزد کیا ہے، وہ مجرم ہیں یا نہیں؟
انصاف کا حصول بھی آسان نہیں ہے۔ طاقتور کے خلاف گواہی دینے بھی کوئی نہیں آتا۔ اچھے وکیل بھی صرف انہیں دستیاب ہوتے ہیں جن کی تجوری کا سائز بڑا ہوتا ہے۔ مقدمہ لڑنا بھی آسان نہیں ہے، جان جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور تحفظ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔
ام رباب جیسی کوئی بہادر بیٹی اس سب کے باوجود، سارے خطرات مول لے کر، برہنہ پاؤں باپ کے قاتل کو سزا دلوانے عدالت جائے تو کیا اسے یہ بتا دینا کافی ہو گا کہ بی بی، گھر جاؤ، یہ لوگ قاتل نہیں۔
پارلیمان سے انصاف تک کی تمام بارگاہوں میں، کیا کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ اگر یہ وڈیرے قاتل نہیں ہیں تو ام رباب کے باپ سمیت تین لوگوں کو پھر کس نے مارا تھا؟
ام رباب ان قاتلوں کی تلاش کے لیے کس ادارے کے پاس جائے؟ کوئی اس کے باپ کے قاتل تلاش کرے گا یا بات بس یہیں ختم ہو گئی؟
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا نظام ایڈورسیریل ہے۔ یہ انصاف کی بجائے حریفانہ بنیادوں پر کھڑا ہے۔ یہاں انصاف دینا بنیادی مقصد نہیں، یہاں بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ جس پر الزام لگا دیا گیا وہ مجرم ہے یا نہیں۔
بات بے شک اپیلوں تک جاتی ہے لیکن سوال وہی رہتا ہے اور اس سوال کے تعین کے ساتھ ہی یہاں مقدمہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں نظام تعزیز دہی کے ساتھ قلچہ کھانا شروع کر دیتا ہے اور زیرِ لب مسکراتے ہوئے مظلوموں سے کہتا ہے کہ ہمت ہو تو جس پر الزام لگایا ہے، اب ثابت کر کے دکھاؤ۔
ایڈورسیریل نظام میں عدالت نے اپنے طور پر سچ تک نہیں پہنچنا ہوتا۔ مقتول کے ورثا نے اسے سچ تک پہنچانا ہوتا ہے۔ انہیں خود جائیداد یا زیور بیچ کر مہنگے وکیل کرنے ہوتے ہیں اور ان ہی کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ جرم کس نے کیا اور بغیر کسی شک کے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ تھوڑا سا بھی شک آ گیا تو ملزم بری کر دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہان تک تو بات درست ہے کہ جرم ثابت نہ ہو تو ملزم کو رہا کر دینا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ ملزم کو رہا کر دینے کے بعد یہ بتانا کس کی ذمہ داری ہے کہ پھر جرم کرنے والا کون تھا۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارا نظامِ انصاف نو آبادیاتی ہے۔ نو آبادیاتی نظامِ انصاف کے دو بنیادی مسائل ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا اصل مقصد انصاف دینا نہیں بلکہ لا اینڈ آرڈر قائم کرنا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ شہریوں کے لیے نہیں، رعایا کے لیے بنایا گیا تھا۔
شہری کو انصاف دینا فرض ہوتا ہے، نو آبادیاتی رعایا کو انصاف دینا فرض نہیں ہوتا۔ یہ آقاؤں کا احسان ہوتا ہے۔ دے دیا تو لطف و کرم کر دیا، نہیں دیا تو کوئی بات نہیں۔
کبھی عدالتوں کی فائل پڑھیں وہاں لکھا ہوتا ہے کہ سائل عرض گزار ہے۔ انگریز چلا گیا، غلامی ختم ہو گئی، لیکن انصاف مانگنے والا کم بخت آج بھی سائل ہے اور عرض گزار ہے۔
انصاف ملنا سائل کا حق نہیں۔ سائل کی جھولی میں کچھ ڈال دیا جائے تو نو آبادیاتی نظام کی بندہ پروری ہے، نہ ڈالا جائے تو اس کی مرضی ہے۔ سائل کی کیا جرات کہ اعتراض کرے۔ سوالی تو صرف سوالی ہوتا ہے۔
پولیس کا معاملہ بھی بڑا تکلیف دہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر آج بھی فخر سے لکھا ہے کہ یہ وہ پولیس ہے جس کی بنیاد جارلس نیپیئر نے رکھی۔ یعنی وہی نو آبادیاتی پولیس۔
یہ آج تک اس نو آبادیاتی ورثے سے جان نہیں چھڑا سکی۔ انگریز سے پہلے یہاں مغلوں کی پولیس تھی۔ اس کا کام انصاف کے حصول میں معاونت تھا۔ نو آبادیاتی پولیس آئی تو اس کا کام صرف باغیوں اور گستاخوں کو کچل کر لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنا تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے وائس چیئرمین سر آرچی بیلڈ گیلوے تو اس زمانے میں کہتے رہے کہ مغل پولیس کا ڈھانچہ بہترین ہے، اسی کو برقرار رکھا جائے یا اس میں بدلتے وقت کے مطابق اصلاحات کر لی جائیں، لیکن نوآبادیاتی نظام کو رعایا کو دبا کر رکھنا مقصود تھا، اس لیے وہ پولیس لائی گئی جو آئرش کانسٹیبلری کے ڈھانچے پر کھڑی کی گئی۔
مقصد کیا تھا؟ وہی کہ جس طرح آئرش کانسٹیبلری نے آئرلینڈ کی تحریک آزادی کو دبایا اور کچلا، یہ پولیس یہاں رعیت کو دبا کر رکھے۔
پولیس کی یہاں صرف وردیاں بدلی گئیں، ڈھانچہ نہیں بدلا گیا۔ چنانچہ اس کا بنیادی کام آج بھی طاقتور طبقات کی کوزہ گری ہےاور کمزور طبقات کو کچلنا ہے۔ اسی کا نام ’تھانے کچہری کی سیاست‘ ہے۔
آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس نظام میں ام رباب کے لیے ایسے وڈیروں کو، جو پیپلز پارٹی کی حکمران جماعت کے ایم پی اے بھی ہوں، مجرم ثابت کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
یہاں تو وقت کا چیف جسٹس جیل میں با اثر قیدیوں سے شراب پکڑ لے تو وہ لیبارٹری میں جا کر شہد بن جاتی ہے، یہاں ام رباب کیا کر سکتی ہے؟
اس نظامِ تعزیر کے اندر رہتے ہوئے، اس نظام کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔ اس کی مکمل تبدیلی ناگزیر ہے۔ یہ صرف میری رائے نہیں ہے، سابق چیف جسٹس جناب جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب نے بھی میری کتاب ’پس قانون‘ کے دیباچے میں اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔
یہ چونکہ کوئی آسان کام نہیں۔ طاقتور لوگوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ اس لیے کبھی حکمران اصلاح احوال چاہیں بھی تو وہ پولیس اور عدالت میں اصلاحات کی بجائے سی ٹی ڈی جیسا شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سی ٹی ڈی جیسا شارٹ کٹ متعارف کروایا جاتا ہے تو عوام کی اکثریت کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس بارے میں 1973 کا آئین کیا فرما رہا ہے۔ عوام کو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو ہو رہا ہے، ٹھیک ہو رہا ہے۔
سندھ میں ام رباب نام کی ایک بیٹی رو رہی ہے، وڈیرے بندوقیں لہرا رہے ہیں، قانون قیلولہ فرما رہا ہے۔ ہاں ان حالات میں ایک بھٹو زندہ ہے، ہمت ہے بھٹو کی۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright"> 2018 میں اپنے والد، چچا اور دادا کے قتل کا مقدمہ لڑنے والی ام رباب چانڈیو جون 2015 میں کراچی میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے (ویڈیو سکرین گریب/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/3f2Ttva