یہ واقعہ 1940 کے آس پاس کا ہے۔ ایک نوجوان اپنی والدہ کے ساتھ شانتی نکیتن جا پہنچتا ہے۔ شانتی نکیتن، رابندرناتھ ٹیگور کی قائم کردہ ایک تعلیمی اور ثقافتی بستی اور تخلیقی ذہنوں کا گڑھ تھا۔
نوجوان کی عمر محض 19 برس تھی، جبکہ ٹیگور کنارے پر تھے (ٹیگور کا انتقال 1941 میں ہوا)۔
کچھ دن وہاں رہنے کے بعد نوجوان نے اپنے آٹوگراف بک میں ٹیگور سے کچھ لکھنے کی درخواست کی۔ ٹیگور نے فوراً کچھ لکھنے کے بجائے کہا، ’اسے میرے پاس چھوڑ دو، میں کچھ سوچ کر لکھوں گا۔‘
چند دن بعد نوجوان واپس آیا تو ٹیگور نے ایک نظم کی صورت میں مختصر پیغام لکھ رکھا تھا۔
ٹیگور نے لکھا، ’میں نے دنیا بھر کا سفر کیا، دریا، پہاڑ، سمندر دیکھے...
مگر اپنے دروازے کے باہر گھاس پہ ٹھہرے شبنم کے قطرے کو نہ دیکھ سکا۔‘
نوجوان آگے چل کر ستیہ جیت رائے کے نام سے مشہور ہوا، انڈین سینیما کا سب سے بڑا نام، بنگال کی دھرتی کا قابل فخر بیٹا۔
ستیہ جیت رائے کے پورے سینیما میں ٹیگور کے پیغام کی جھلک موجود ہے۔ نوجوان سمجھ گیا کہ بڑی کہانیاں دور دراز میں نہیں، اپنے اردگرد موجود ہوتی ہیں، عام انسانوں کی زندگی غیرمعمولی خوبصورتی ہوتی ہے۔ سادگی، حقیقت اور مقامی ثقافت سب سے بڑی طاقت ہیں۔
ٹیگور کا شانتی نکیتن بنگال میں ہی بن سکتا تھا، ایک بنگالی فنکار ہی ایسی نصیحت کر سکتا تھا، ایک بنگالی نوجوان ہی اس پیغام میں لپٹی گہرائی کو سمجھ سکتا تھا اور فلموں میں اس کی پرتیں کھول سکتا تھا۔
جس وقت ٹیگور کے والد نے بنگال میں شانتی نکیتن بسایا، اس وقت لاہور میں انجمن پنجاب کے تحت ’قومی شعوری‘ کی آبیاری کی جا رہی تھی۔
اسے آپ خطوں کے مزاج کا فرق کہیں یا کچھ بھی، پنجاب میں دروازے کے باہر گھاس پر ٹھہرے شبنم کے قطرے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔
ہمارا فکشن اور شاعری اپنی بیشتر توانائیاں ’آفاقی‘ ادب تخلیق کرنے میں صرف کرتا رہا، سینما گنڈاسہ ٹائپ بڑھک مار کے زیادہ سے زیادہ بھیڑ اکٹھی کرنے میں لگا رہا۔
چند دن پہلے پنجابی کی ایک فلم ریلیز ہوئی ’بلھا۔‘ فلم تو دور کی بات آپ اس کا ٹریریلر ہی برداشت کر لیں تو بڑی بات ہے۔
آپ گنے کو بیلنے میں ڈال کر کتنی بار اس سے رس کشید کر سکتے ہیں؟ ’بلھا ظالماں لئی رب دا قہر اے تے مظلوموں لئی اس دی رحمت، ‘ جیسے ڈائیلاگ بھی محض بھوگ ہیں۔
مجھے یاد ہے چند سال پہلے اپنے اساتذہ کے ساتھ بیٹھا تھا، وہ پنجاب کے ایک مہاندرے شاعر کا ذکر کر رہے تھے کہ ویسا لکھنے والا کوئی نہیں، پھر اس کی نمائندہ ترین تخلیق کی بات ہوئی تو بار بار ایک نظم پڑھی گئی جس میں بٹوارے کا نوحہ پڑھا گیا تھا۔
بٹوارے پہ نظم لکھنا یا اس پہ انسانی جانوں کے ضیاع کا دکھ کرنا بالکل ٹھیک ہے لیکن ایک ایسا سانحہ جو آپ نے نہیں دیکھا، اور جنہوں نے دیکھ رکھا ہے وہ اس پہ کیسی کیسی دردناک چیزیں پہلے ہی لکھ چکے ہیں، اگر اب بھی آپ کے سب سے بڑے شاعر کو اسی سانحے کا سہارا لے کر اپنی 'نمائندہ تخلیق‘ لکھنی پڑے تو مسئلہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کے پاس کہنے کے لیے ارد گرد کی زندگی سے کچھ نہیں ہے۔ وہی مزاج کی بات۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب کی کلاسیکی روایت اس کے برعکس ہے۔
وارث شاہ یا بلھے شاہ، جیسے شاعروں نے عام انسان، روزمرہ زندگی اور اندرونی کیفیات کو موضوع بنایا۔ کیسے کیسے باریک فلسفیانہ نکتے لیکن روزمرہ زندگی زندگی سے پھوٹتے ہوئے۔
اردو افسانے میں پنجاب نے منٹو، بیدی اور غلام عباس جیسے چوٹی کے ادیب پیدا کیے۔ کرشن چندر سمیت یہ تمام زندگی بھر شہروں میں رہے، اور شہروں کی کہانیاں بہت خوبصورت انداز میں لکھتے رہے۔ لیکن پنجاب کا مطلب پنجاب کے دیہات ہیں۔
آپ کھیتوں میں کھڑے ہوں، چاروں طرف جہاں تک نظر جائے مونجی یا گندم کے لہلہاتے سنہرے کھیت، ہل چلاتے بیلوں کے جوڑے، بہتی نہریں اور چھتنار شریں کے درخت۔
ہمارے ہاں افسانے میں قاسمی صاحب نے پنجاب کے دیہات کو پیش کیا، بہت خوبصورت کہانیاں لکھیں لیکن دروازے کے باہر گھاس پہ ٹھہرے شبنم کے قطرے کو اکثر نظر انداز کر گئے۔
بلھا‘ فلم سے جو نفسیاتی کوفت ہوئی، اسے زائل کرنے کے لیے کل علی اکبر ناطق کی کتاب اٹھائی۔ خوشی ہوئی کہ پنجاب نے دروازے کے باہر اگی گھاس پر ٹھہرے شبنم کے قطرے کو دیکھنا سیکھ لیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’بنگلے کی بکاؤلی‘ پنجاب کا وہ روپ ہے جسے کسی لیپا پوتی کے بغیر لفظوں میں پیش کر دیا گیا۔ زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات، جو دراصل زندگی ہیں، اکثر بڑے سانحات کے شور میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ ناطق کے ہاتھ میں کسی بڑے سانحے کا لٹھ نہیں کہ محض لفظوں کا ریوڑ ہانکتا چلا جائے اور کتاب کے باڑے میں بند کر دے۔ یہاں دھان کی فصل ہے، بھینسوں کے ماتھے پر بیٹھتی چڑیاں ہیں، جھیل اور مرغابیاں ہیں۔ ہر قطرہ، ہر پودا، ہر کھیت اور ہر پرندہ اپنی بولی میں گاتے ہیں۔
’شکاری کی جھیل‘ کا اختر لاہوریا ہو، ’بستی دلا راس‘ کی دادی، ’بنگلے کی باولی‘ کا انور شیرازی یا ناظم بیگ، یہ محنت کرتے، انتظار کھینچتے، دل ہی دل میں سلگتے، زندگی کے میٹھے اور تلخ ذائقے ہیں جن کے ساتھ آپ ہنس سکتے ہیں، آنسو بہا سکتے ہیں، بے چین یا متجسس ہو سکتے ہیں۔ ان کی باتیں، روزہ مرہ زندگی، آپس کے تعلقات، ویسے ہیں جیسے ہمارے ہوتے ہیں۔ ہم گلی محلے میں پھرتے ہیں، وہ صفحات میں لفظوں کا روپ دھارے ہمارے سامنے ہیں۔
ایک بار ساحر لدھیانوی اور دیویندر ستیارتھی لائلپور آئے۔ مقامی مجسٹریٹ کے گھر دعوت کھاتے ہوئے ستیارتھی نے کہا میں کسانوں کے جھومر ناچ کی تصاویر لینا چاہتا ہوں۔
مجسٹریٹ نے کہا آج کل فصل کی کٹائی چل رہی ہے، کسانوں کے پاس تو سانس لینے تک کی فرصت نہیں۔ ستیارتھی جی کا چہرہ اتر گیا کہ میں اتنی دور سے ان تصاویر کے لیے آیا، اب ناکام لوٹنا پڑے گا۔
مجسٹریٹ نے کہا ایسا کریں آپ کل تھانے آ جائیں، میں سپاہی بھیج کر دس بیس ایسے کسانوں کو بلوا لوں گا جو جھومر ڈال سکتے ہوں۔
ستیارتھی نے کہا ارے صاحب رہنے ہی دیجیئے، پھر کبھی سہی۔
باہر نکل کر ساحر سے کہا بھلا مجسٹریٹ کے سامنے کسان کیا خاک ناچیں گے؟
ہمارے آج کے فکشن نگاروں نے جھومر کو تھانے کے کمرے میں قید کر کے دیکھا، لیکن ناطق نے گلی محلے چھانتا پھرا۔
اسی لیے باقی افسانہ نگاروں کے ہاں کہانیاں سلاخوں جیسے جملوں میں بند ہیں، جبکہ ناطق کے ہاں ہر لفظ دھول اور ہوا کے ساتھ رقص کرتا ہے، جیسے کہانی خود زندگی ہو۔
<p>(فاروق اعظم)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/NuQSR3T